Saturday, 27 June, 2026
اسرائیل کی فضائی حدود ہمارے کنٹرول میں ہے، ایران

اسرائیل کی فضائی حدود ہمارے کنٹرول میں ہے، ایران

ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی حملوں کا آغاز کردیا ہے اور صہیونی حکومت کی ایرو اسپیس مانٹیرنگ کی صلاحیت کو مؤثر انداز میں متاثر کردیا گیا ہے، جس کے نتیجے فضائی حدود کا قابل ذکر حصہ اب ہمارے کنٹرول میں ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ شب قدر کے موقع پر ایک سے دو ٹن وزنی وار ہیڈ بردار 30 سپر ہیوی بلیسٹک میزائل مقبوضہ علاقوں میں اہداف پر فائر کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی کے ذریعے اسرائیل کا کلیدی ایرواسپیس مانیٹرنگ اور سرویلینس سسٹمز کو کامیابی سے متاثر کیا اور تباہ کردیا۔

بریگیڈیئر جنرل سید ماجد موسوی نے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے نتیجے میں صہیونی حکومت کی فضائی حدود کا قابل ذکر حصہ اب ہمارے کنٹرول میں ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی فوجی مراکز کو وسیع پیمانے پر نشانہ بنایا تھا۔

ایرانی فوسز نے اعلان کیا تھا کہ اب یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جارحیت پر اپنے پچھتاوے کا اظہار نہیں کرتے۔

ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران کے پاس جدید ہتھیار ہیں جو دشمن کے ہماری فوجی طاقت کے حوالے سے پائے جانے والے تصور سے کہیں زیادہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  40101
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے قائد اور دیگر شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے اپنے تحریری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور حتمی فتح ایران ہی کی ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب اسکول کے بچوں کے چہلم کے موقع پر تہران سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی صبح شروع ہونے والی مرکزی ریلی تہران کے جمہوری اسکوائر سے اس مقام تک نکالی گئی جہاں آیت اللہ خامنہ ای نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل ماجد خادمی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ سرکاری اور عسکری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میجر جنرل ماجد خادمی آج صبح ہونے والی ایک کارروائی کا نشانہ بنے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں