Sunday, 12 April, 2026
پاکستان سے قرض پر بات چیت جاری ہے، آئی ایم ایف

پاکستان سے قرض پر بات چیت جاری ہے، آئی ایم ایف

واشنگٹن - عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق  پاکستان کو قرض  دینے کے معاملے پر عالمی ادارے   بلوم برگ  نے آئی ایم ایف ترجمان سے رابطہ کیا جس دوران  آئی ایم ایف نے عمران خان کی گرفتاری پر تبصرے سے گریز کیا۔

آئی ایم ایف ترجمان نے بلومبرگ کو واضح کہ پاکستان کےساتھ قرض کے معاملے پر بات چیت جاری ہے، پاکستان کی جانب سے بات چیت میں تعطل کا کوئی اشارہ نہیں آیا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پیٹرول سبسڈی نہ دینے کی یقین دہانی کرادی ہے جب کہ  پاکستان سے پالیسی معاملات پر یقین دہانی چاہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43325
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفاقی حکومت نے پٹرولیم لیوی کی شرح میں 55 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد لیوی 106 روپے سے بڑھ کر 160.61 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے دباؤ پر پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی تمام سبسڈیز بھی مکمل طور پر
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 458 روپے 40 پیسے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
پاکستان نے دو بڑے غیر ملکی کمرشل قرض ادا کردیے جس کے بعد زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 4 اعشاریہ 5 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق 600 ملین ڈالر اماراتی این بی ڈی بینک کو ادا کیے گئے جبکہ 420 ملین ڈالر

مقبول ترین
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکہ کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ نور خان ایئر بیس پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں