Tuesday, 12 May, 2026
قدس پر اسرائیلی حملے اور یوم القدس

قدس پر اسرائیلی حملے اور  یوم القدس
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

قابض قوتوں کا  پرانا حربہ ہے کہ  مقامی باشندوں پر تشدد کرتی ہیں،انہیں قتل کرتی ہیں اور گرفتار کر کے قید بند کی صعوبتوں میں ڈال دیتی ہیں۔ظلم و جبر  سے یہ ظالم  قوتیں  ایسی نسل تیار کرنا چاہتی ہیں جو  ان کی غلام ہو، ایسی نسل جس میں خوداری اور قومی غیرت و حمیت نام کی کوئی چیز نہ ہو۔برطانوی استعمار  نے ہندوستان میں یہی حربے استعمال کیے تھے پنجاب کے اجتماعی شعور نے آج تک جلیانوالہ باغ کے سانحے کو نہیں  بھلایا ۔پنجاب کے سینے پر  لگا وہ زخم برطانوی استعمار  کی سفاکیت کی علامت تھا۔وہ سینکڑوں لاشیں اور بہنے والا خون پنجاب میں مزاحمت کی آواز بن گیا ۔ادھم سنگھ  نے  اس واقعہ کےذمہ دار اس وقت کے پنجاب کے  گورنر لیفٹیننٹ مائیکل او ڈائر  کو لندن میں جا کر قتل کر دیا تھا۔بعد میں چلنے والی تحریک آزادی میں امرتسر کے اس قتل عام نے اہم کردار ادا کیا اور تحریک آزادی کو جذباتی بنیادیں فراہم کیں۔صیہونی ریاست بھی تشدد کا سہارا لے کر  فلسطینی تحریک آزادی کو دبانا چاہتی ہے  مگر ان کے ہر ظلم و ستم کے جواب میں تحریک آزادی مزید آگے بڑھ جاتی ہے۔

صیہونی سکیورٹی فورسز کا نے تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے اور یہ بار بار مسجد اقصی کے صحن مبارک میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب  فلسطین کے غیور اور نہتے مسلمان مزاحمت کرتے ہیں تو یہ  پرتشدد انداز میں مسجد میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ  تو کافی پرانا ہے مگر اب اس نے تسلسل کی شکل اختیار  کر لی ہے۔فلسطینی ماں کے  ساتھ مسجد میں آئی بچیوں  کے سامنے ان کی ماوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسی طرح بچے کے سامنے ان کے باپ پر تشدد کیا جاتا ہے تاکہ ان کی عزت نفس کو جتنا ہو سکے مجروح کیا جائے۔نام کی حد تک ہی سہی پہلے حرم شریف کا اہتمام  اردن کے پاس تھا مگر اب اس برائے نام انتظام کا بھی خیال نہیں رکھا جا رہا۔مسجد کی دیواروں پر صیہونی ریاستی اداروں کی ہدایات کے اشتہارات لگائے جاتے ہیں اور  ان پر درج قوانین پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔اس طرح کے کام کر کے صیہونی ادارے فلسطینی مسلمانوں کو اکسانے کی کوشش کرتے ہیں۔انتہا پسند صیہونی گروہ بار بار مسجد اقصی کے صحن میں  داخل ہونے اور یہودی طریقہ کے مطابق عبادت کرنا چاہتے ہیں۔اگرچہ یہ صیہونی اہلکار انہیں روکنے کی نام نہاد کوشش کرتے ہیں مگر اصل میں وہ انہیں باحفاظت لانے او رلیجانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔

ماہ مبارک رمضان میں صیہونی مداخلت بہت زیادہ ہو جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مسلمان بڑی تعداد میں عبادت کےلیے  بیت المقدس کا رخ کرتے ہیں تو وہ آزادی کے لیے آواز اٹھاتے ہیں جس سے ان پر تشدد بہت بڑھ جاتا ہے۔ویسے نہتے مسلمانوں پر ہونے والا تشدد  ان مسلمان ریاستوں کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہے جو دنیا بھر میں اپنے ہمدردوں کو یہ سمجھا رہی تھیں  کہ ہمارا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنا  خود اہل فلسطین کے لیے بہتر ہے۔اس پوری صورتحال میں اردن،عرب امارات اور غالبا مصر کا فقط ایک بیان جاری ہوا جس میں ایسے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔اس تشویش سے فلسطینیوں کو کیا حاصل ہو گا؟ اور ہاں غلاموں کی تشویش  بے معنی ہوتی ہے۔اگر آپ نے کچھ کرنا ہے تو عملی اقدام کریں اب تو آپ کے سفارتی تعلقات ہیں چلیں اسرائیلی سفیر کو ہی طلب کر کے احتجاج کر لیں؟ اپنے سفیر کو واپس بلانے  کی دھمکی ہی دے دیں؟؟؟ ہمیں معلوم ہے  آپ یہ کرنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔بس  عوامی ردعمل سے بچنے  کے لیے تشویش کا اظہار کر دیا۔

صیہونی ریاست ہر وہ اقدام کر رہی ہے جس سے وہ  اہل فلسطین کی مزاحمت کو کمزور اور پھر بعد میں ختم کر سکے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدہ کی بحالی میں بھی بڑی رکاوٹ ہے۔بین الاقوامی طور پر  یہ لابنگ کر رہی ہے کہ القدس فورس اور دیگر طاقتور ادارے جو  فلسطینی مزاحمت کے حمایتی ہیں ان پر  پابندیاں برقرار رہیں۔ایران اور بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکراتے میں چند بڑے  مسائل یہی ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران یہ چاہتا ہے کہ ا مریکہ سے دو طرح کی گارنٹیاں لی جائیں ایک تو پہلے کی طرح یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار  نہیں ہوں گے اور دوسرا ایسا نہیں ہو گا کہ مختلف حیلے بہانے کر کے پابندیوں کو دوبارہ سے نافذ کر دیا جائے۔یہ امریکہ کا  طریقہ واردات ہے کہ وہ ایسے معاہدے کرتا ہے جن کی من مانی تشریحات ممکن ہوتی ہیں اور پھر پتلی گلی سے نکل جاتا ہے۔اب معاہدے کے ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے کہ امریکہ سے گارنٹیز لے لی جائیں۔

امت مسلمہ کو قدس میں ہونے والے  واقعات سے آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔بہت افسوسناک صورتحال ہے  ہم چھوٹے موٹے مقامی سیاسی معاملات میں الجھے رہتے ہیں ۔سیاسی عصبیتیں اس قدر زیادہ ہو گئی ہیں کہ ہم تقسیم در تقسیم کا شکار ہو چکے ہیں۔چند سال پہلے تک  فلسطین کے چھوٹے سے  مسئلہ پر بھی ہمارا میڈیا  یکسو ہو کر  آواز بلند کرتا تھا   مگر آج قبلہ اول کی خبریں  کہیں پیچھے چلی گئی ہیں۔امام خمینیؒ کی قبر پر اللہ تعالی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے یہ ان کی بابصیرت قیادت تھی جس نے محسوس کر لیا تھا کہ  بین الاقوامی طاقتیں قدس کو امت کے ذہنوں سے محو کرنا چاہتی ہیں اس لیے انہوں نے یوم القدس کاآغاز کیا جس کی وجہ سے پوری دنیا  میں فلسطینوں کے حق میں آواز بلند کی جاتی ہے اور  قبلہ اول کی آزادی کی جدو جہد کرنے کے عزم کا اظہار کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  28038
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
3 مئی کو دنیا بھر میں "یوم آزادی صحافت" (World Press Freedom Day) منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحافت کی آزادی، حقِ اظہار کی اہمیت، اور صحافیوں کے تحفظ کو اجاگر کرنا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں