Saturday, 28 March, 2026
3 مئی: یوم صحافت اور پاکستان میں صحافیوں کا کردار

3 مئی: یوم صحافت اور پاکستان میں صحافیوں کا کردار
تحریر: لیکچرار عابدہ رانا

 

مئی کو دنیا بھر میں "یوم آزادی صحافت" (World Press Freedom Day) منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحافت کی آزادی، حقِ اظہار کی اہمیت، اور صحافیوں کے تحفظ کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن ان چیلنجز کے تناظر میں منایا جاتا ہے جن کا سامنا ملک کے صحافیوں کو روزمرہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔(پاکستان میں صحافیوں کا کردار) پاکستانی صحافی سماجی، سیاسی، معاشی، اور مذہبی مسائل پر عوامی رائے بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ کرپشن، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹنگ کے ذریعے احتساب کا ذریعہ بنتے ہیں۔مثال: پاناما لیکس، بلین ٹری کینڈل جیسے اسکینڈلز کو میڈیا نے ہی عوامی سطح پر لایا۔ پاکستان میں صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، تشدد، اور قتل جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ رپورٹرز ودآٹ بارڈرز (RSF) کے 2023 کے انڈیکس کے مطابق، پاکستان پریس فریڈمی میں 150 ویں نمبر پر ہے، جس کی بڑی وجہ صحافیوں کے خلاف غیرمحفوظ ماحول ہے۔ میڈیا گروپس اکثر ریاستی یا غیرریاستی اداکاروں کے دبا میں کام کرتے ہیں۔ کچھ موضوعات جیسے فوج کی پالیسیاں یا مخصوص سیاسی جماعتوں پر تنقید کو "ریڈ لائنز" سمجھا جاتا ہے، جس کی خلاف ورزی پر اداروں کو بند کرنے یا صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

صحافی اکثر فرقہ وارانہ تنازعات، دہشت گردی، اور انتہا پسند گروہوں کی رپورٹنگ کے دوران نشانہ بنتے ہیں۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں صحافیوں کو سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان "بیلنس" کرنا پڑتا ہے سوشل میڈیا نے صحافیوں کو اپنی آواز پھیلانے کا نیا پلیٹ فارم دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی جعلی خبروں (fake news) اور آن لائن ہراساں کرنے (trolling) کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ خواتین صحافی خاص طور پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کا شکار ہیں۔ پاکستان میں میڈیا ہاسز کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔اشتہارات کی آمدنی میں کمی، حکومتی اشتہارات پر انحصار، اور COVID-19 کے معاشی اثرات نے صحافیوں کی ملازمتوں کو غیرمحفوظ بنا دیا ہے۔

اکثر صحافیوں کو تنخواہیں دیر سے ملتی ہیں یا انہیں معاہدوں پر رکھا جاتا ہے- پاکستان میں صحافیوں کی بہادرانہ رپورٹنگ نے کئی اسکینڈلز کو بے نقاب کیا ہے- سول سوسائٹی اور عدالتی نظام نے کبھی کبھار صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے ۔ نوجوان صحافی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آزادانہ صحافت کو فروغ دے رہے ہیں۔ صحافت کو مکمل طور پہ آزاد ہونا چاہیے۔

آج کا دن ہمارے صحافی حضرات کے نام جو جس بھی حال میں ہوں عوام کے ساتھ ہوتے ہیںپاکستان میں صحافی جمہوریت کا اہم ستون ہیں، لیکن وہ معاشی عدم استحکام، سیاسی دبائو، اور تشدد جیسے سنگین چیلنجز کا شکار ہیں۔ صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اصلاحات، صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات، اور میڈیا کی خودمختاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.c om پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  30629
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا
مسلمانوں کو مغربی دنیا سے زخم کھاتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے مگر آج بھی مسلمانوں کی عظیم اکثریت مغرب کے بارے میں ’’نیک خیالات‘‘ رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہوا ہے۔
جب دلیل کمزور ہو، ثبوت مفقود ہوں اور نیت میں کھوٹ ہو، تو شور شرابے کو دلیل بنا لیا جاتا ہے۔ یہی حال انڈین حکومت اور میڈیا کا ہے، جو پہلگام حملے کو لے کر ایک بار پھر پاکستان کے خلاف طبلِ جنگ بجانے لگے ہیں۔ حملہ ہوا
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بالواسطہ طور پر ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن عوام اور فوج کے درمیان دراڑیں ڈال رہا ہے لیکن فوج کو عوام کا اعتماد حاصل ہے اور وہ عوام کے تعاون سے اس صورت حال

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں