Tuesday, 12 May, 2026
3 مئی: یوم صحافت اور پاکستان میں صحافیوں کا کردار

3 مئی: یوم صحافت اور پاکستان میں صحافیوں کا کردار
تحریر: لیکچرار عابدہ رانا

 

مئی کو دنیا بھر میں "یوم آزادی صحافت" (World Press Freedom Day) منایا جاتا ہے، جس کا مقصد صحافت کی آزادی، حقِ اظہار کی اہمیت، اور صحافیوں کے تحفظ کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن ان چیلنجز کے تناظر میں منایا جاتا ہے جن کا سامنا ملک کے صحافیوں کو روزمرہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔(پاکستان میں صحافیوں کا کردار) پاکستانی صحافی سماجی، سیاسی، معاشی، اور مذہبی مسائل پر عوامی رائے بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ کرپشن، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، اور حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹنگ کے ذریعے احتساب کا ذریعہ بنتے ہیں۔مثال: پاناما لیکس، بلین ٹری کینڈل جیسے اسکینڈلز کو میڈیا نے ہی عوامی سطح پر لایا۔ پاکستان میں صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، تشدد، اور قتل جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ رپورٹرز ودآٹ بارڈرز (RSF) کے 2023 کے انڈیکس کے مطابق، پاکستان پریس فریڈمی میں 150 ویں نمبر پر ہے، جس کی بڑی وجہ صحافیوں کے خلاف غیرمحفوظ ماحول ہے۔ میڈیا گروپس اکثر ریاستی یا غیرریاستی اداکاروں کے دبا میں کام کرتے ہیں۔ کچھ موضوعات جیسے فوج کی پالیسیاں یا مخصوص سیاسی جماعتوں پر تنقید کو "ریڈ لائنز" سمجھا جاتا ہے، جس کی خلاف ورزی پر اداروں کو بند کرنے یا صحافیوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔

صحافی اکثر فرقہ وارانہ تنازعات، دہشت گردی، اور انتہا پسند گروہوں کی رپورٹنگ کے دوران نشانہ بنتے ہیں۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے علاقوں میں صحافیوں کو سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان "بیلنس" کرنا پڑتا ہے سوشل میڈیا نے صحافیوں کو اپنی آواز پھیلانے کا نیا پلیٹ فارم دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی جعلی خبروں (fake news) اور آن لائن ہراساں کرنے (trolling) کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ خواتین صحافی خاص طور پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کا شکار ہیں۔ پاکستان میں میڈیا ہاسز کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔اشتہارات کی آمدنی میں کمی، حکومتی اشتہارات پر انحصار، اور COVID-19 کے معاشی اثرات نے صحافیوں کی ملازمتوں کو غیرمحفوظ بنا دیا ہے۔

اکثر صحافیوں کو تنخواہیں دیر سے ملتی ہیں یا انہیں معاہدوں پر رکھا جاتا ہے- پاکستان میں صحافیوں کی بہادرانہ رپورٹنگ نے کئی اسکینڈلز کو بے نقاب کیا ہے- سول سوسائٹی اور عدالتی نظام نے کبھی کبھار صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے ۔ نوجوان صحافی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آزادانہ صحافت کو فروغ دے رہے ہیں۔ صحافت کو مکمل طور پہ آزاد ہونا چاہیے۔

آج کا دن ہمارے صحافی حضرات کے نام جو جس بھی حال میں ہوں عوام کے ساتھ ہوتے ہیںپاکستان میں صحافی جمہوریت کا اہم ستون ہیں، لیکن وہ معاشی عدم استحکام، سیاسی دبائو، اور تشدد جیسے سنگین چیلنجز کا شکار ہیں۔ صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اصلاحات، صحافیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات، اور میڈیا کی خودمختاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.c om پر ای میل کریں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  53853
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایران سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی ضرورت تھی مگر یہ جنگ بندی قائم نہیں رہ پائے گی - امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک دوبارہ ایران پر حملہ آور ہوں گے مگر اسکے لئے کوئی نیا راستہ اختیار کریں گے اور پہلے سے ذیادہ تیاری اور شدت سے ایران کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے-
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صیہونی حکومت اور امریکہ کی جارحیت کے آغاز کو تیں ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ایک ایسی جارحیت جو گزشتہ نو ماہ قبل کی طرح ہوئی ہے۔جب اسلامی جمہوریہ ایران مغربی ایشیائی خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک متوازن
ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو مذہبی رنگ کون دے رہا ہے؟ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو جنگ کا اصل مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا قرار دیا تھا
مسلمانوں کو مغربی دنیا سے زخم کھاتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے مگر آج بھی مسلمانوں کی عظیم اکثریت مغرب کے بارے میں ’’نیک خیالات‘‘ رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہوا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں