Saturday, 20 August, 2022
پاکستان کو معاشی طور پر ڈبونا عمران خان کے بیرونی ایجنڈے میں شامل تھا، فضل الرحمٰن

پاکستان کو معاشی طور پر ڈبونا عمران خان کے بیرونی ایجنڈے میں شامل تھا، فضل الرحمٰن

پشاور - پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات آرہے ہیں کہ عوام بغاوت کی طرف جارہے ہیں، اب فیصلے کی گھڑی ہے، ملکی معیشت کو قبضے میں لے کر بین الاقوامی ایجنڈوں پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بیرونی ایجنڈا لے کر آئے تھے اور پاکستان کو معاشی طور پر ڈبونا ان کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ آج ملک کی کشتی ڈبو دی گئی ہے اور یہ میں نہیں بلکہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کہہ رہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گا، نہیں بلکہ دیوالیہ ہو چکا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی معیشت کو قبضے میں لیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے ملک ڈبونے میں شریک ہونے جا رہے ہیں، ملک بنانے کا کیا مقصد تھا کہ اور اسے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، بجلی مہنگی کر دی گئی جبکہ 12 ہزار کمانے والے کا بل 7، 8 ہزار آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غریب کی سکت ختم ہوگئی، دوائی نہیں لے سکتا، اسکول فیس نہیں دے سکتا، مرکزی بینک پارلیمنٹ، حکومت اور وزیر اعظم کو جواب دہ نہیں ہے، ہم نے مرکزی بینک گروی رکھ دیا ہے، ہمیں کوئی قرض دینے والا نہیں، سال میں ایک بجٹ آتا ہے یہاں چار آتے ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا پنجاب کے گورنر کے مطابق آئی ایم ایف نے سب لکھوا لیا ہے، ایف بی آر کہتا ہے پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے، ناجائز حکومت اور تین سال کی کارکردگی سامنے آگئی ہے، ووٹ عوام کا حق ہے، حق چوری کیا گیا، واپس لوٹائیں گے۔

مولانا کا مزید کہنا تھا کہ تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ الیکشن کو مسترد کیا، ہم ایک ہفتے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، پورے ملک میں الیکشن نتائج تبدیل کیے گئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے الزام عائد کیا کہ عمران خان بیرونی ایجنڈا لے کر آئے تھے اور پاکستان کو معاشی طور پر ڈبونا ان کے ایجنڈے میں شامل تھا، اپنی تمام توانائیاں لگا کر عمران خان کو حکومت میں لانے والے ان کے رفقا بھی اب کہتے ہیں کہ جس طرح ملک ڈوبا ہے، فضل الرحمٰن ٹھیک کہتا تھا کہ یہ ایجنڈے کے تحت آیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر [email protected] پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  14691
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان نے برطانوی نشریاتی ادارے سے جھوٹی اور من گھڑت خبر شائع کرنے پر وضاحت طلب کرلی ہے۔ میڈیا کے مطابق پاکستان نے بی بی سی اردو پر 10 اپریل 2022 کو شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نگران وزیراعظم کے لیے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) گلزار احمد کا نام تجویز کر دیا۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ صدر مملکت
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائےخارجہ کونسل اجلاس پر بیان میں کہا ہے کہ 19دسمبرکواو آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس منعقدکیاجارہا ہے، اس اجلاس کا واحد ایجنڈا افغانستان کی صورتحال ہوگا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ میرے جیسے مرضی تعلقات ہوں لیکن ہمیشہ سچ بولنا چاہیے۔ میں نے نیا پاکستان بنانے کے لئے جس حد تک ہوسکتا تھا تحریک انصاف کی مدد کی۔

مقبول ترین
ملک بھر میں چودہ اگست کا آغاز ہوتے ہی 75 ویں آزادی کا جشن بھرپور عقیدت اور احترام سے منانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور فضا قومی نعروں اور ملی نغموں سے گونج اٹھی ہے۔
لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیٹڈیم میں ’حقیقی آزادی‘ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں امریکا اور برطانیہ کو زیادہ تر پاکستانیوں سے بہتر جانتا ہوں، میں کسی ملک کا دشمن نہیں، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیش کش کردی۔ قوم سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آج محض ایک مبارکباد کافی نہیں، ہم ہرسال دھوم دھام سے یوم آزادی مناتےہیں، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا اور حققت یہ ہےکہ 75برس سے ان دنوں کو منایا ہے
سانحہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثہ و شہداء سے متعلق سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کی تحقیقات کے معاملے پر جوائنٹ انکوائری ٹیم کا دائرہ کار بڑھا کر انٹیلجنس ایجینسز کے دو افسران بھی ٹیم میں شامل کر لیے گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں