![]() |
پشاور - پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات آرہے ہیں کہ عوام بغاوت کی طرف جارہے ہیں، اب فیصلے کی گھڑی ہے، ملکی معیشت کو قبضے میں لے کر بین الاقوامی ایجنڈوں پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان بیرونی ایجنڈا لے کر آئے تھے اور پاکستان کو معاشی طور پر ڈبونا ان کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ آج ملک کی کشتی ڈبو دی گئی ہے اور یہ میں نہیں بلکہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کہہ رہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گا، نہیں بلکہ دیوالیہ ہو چکا ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملکی معیشت کو قبضے میں لیا جا رہا ہے، تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے ملک ڈبونے میں شریک ہونے جا رہے ہیں، ملک بنانے کا کیا مقصد تھا کہ اور اسے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، بجلی مہنگی کر دی گئی جبکہ 12 ہزار کمانے والے کا بل 7، 8 ہزار آتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غریب کی سکت ختم ہوگئی، دوائی نہیں لے سکتا، اسکول فیس نہیں دے سکتا، مرکزی بینک پارلیمنٹ، حکومت اور وزیر اعظم کو جواب دہ نہیں ہے، ہم نے مرکزی بینک گروی رکھ دیا ہے، ہمیں کوئی قرض دینے والا نہیں، سال میں ایک بجٹ آتا ہے یہاں چار آتے ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا پنجاب کے گورنر کے مطابق آئی ایم ایف نے سب لکھوا لیا ہے، ایف بی آر کہتا ہے پاکستان دیوالیہ ہو چکا ہے، ناجائز حکومت اور تین سال کی کارکردگی سامنے آگئی ہے، ووٹ عوام کا حق ہے، حق چوری کیا گیا، واپس لوٹائیں گے۔
مولانا کا مزید کہنا تھا کہ تمام جماعتوں نے دھاندلی زدہ الیکشن کو مسترد کیا، ہم ایک ہفتے میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا، پورے ملک میں الیکشن نتائج تبدیل کیے گئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے الزام عائد کیا کہ عمران خان بیرونی ایجنڈا لے کر آئے تھے اور پاکستان کو معاشی طور پر ڈبونا ان کے ایجنڈے میں شامل تھا، اپنی تمام توانائیاں لگا کر عمران خان کو حکومت میں لانے والے ان کے رفقا بھی اب کہتے ہیں کہ جس طرح ملک ڈوبا ہے، فضل الرحمٰن ٹھیک کہتا تھا کہ یہ ایجنڈے کے تحت آیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ