Thursday, 23 April, 2026
روس کا یوکرین پر حملہ افسوس ناک ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ

روس کا یوکرین پر حملہ افسوس ناک ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ

 اسلام آباد - آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملہ افسوس ناک ہے- اسلام آباد میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ خطے کی سیکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی کا حصہ ہے، ملک کی خوشحالی،ترقی اور امن ہماری ترجیح ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانیں قربان کیں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف مثالی کامیابیاں حاصل کیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بھارت کا سپرسانک میزائل پاکستان میں گرنے پر شدید تشویش ہے، ایک ایٹمی ملک کا دوسری ایٹمی ملک پر میزائل گرا ہے، بھارت دنیا اور پاکستان کو بتائے کیا اس کے ہتھیار محفوظ ہیں، میزائل کے باعث کسی بھی قسم کا جانی نقصان ہوسکتا تھا یا کوئی مسافر طیارہ بھی نشانہ بن سکتا تھا، پاکستان نے بھارت کے میزائل گرنے کے واقعے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ایل او سی پر صورتحال فی الحال قابل اطمینان اور پرامن ہے، گزشتہ ایک سال سے کوئی بڑا تنازع نہیں ہوا، مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ بہت اہم ہے، پاکستان کو روس یوکرائن تنازع پر تشویش ہے، روس کا یوکرین پر حملہ افسوس ناک ہے بہت سے شہری ہلاک ہو چکے ہیں، یوکرین پر روسی جارحیت کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے اور تنازع کو ہاتھ سے نہیں نکلنا چاہیے، روسی جارحیت بہت بڑا سانحہ ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔

آرمی چیف نے کہا کہ ہم امریکہ سے بھی بہتر تعلقات چاہتے ہیں، امریکا پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے۔ ہمارے اس کے ساتھ بہترین تعلقات کی طویل تاریخ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چین اور امریکہ دونوں سے اس طرح اپنے اچھے تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں کہ ایک کی وجہ سے دوسرے سے تعلقات متاثر نہ ہوں، پاکستان کسی کیمپ پالیٹکس پر یقین نہیں رکھتا، کسی ملک سے تعلقات سے دیگر ممالک سے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں، ہمارے یورپی یونین اور جاپان کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں، پاکستان سب کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  16699
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
وزیراعظم شہباز شریف نے یوم تشکر کے سلسلےمیں پاکستان مونومنٹ پرخصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے منہ پر ایسا تھپڑ رسید کیا جسے وہ عمر بھریاد رکھے گا، جو دشمن خود کو جنوبی ایشیاء کا تھانیدار سمجھتا تھا اس کے 6 جہاز گرائے۔
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے نتیجے میں 26 سیاحوں کی ہلاکت پر دفتر خارجہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ میڈیا کے سوالات کے جواب میں ترجمان وزارت خارجہ نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں فواد چودھری نے کہا کہ میں نے 9 مئی کے واقعات کی پہلے ہی مذمت کی، اب میں نے سیاست سے بریک لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں