![]() |
اسلام آباد - تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے متعلق عدالتی فیصلے پر حکومت نے نظر ثانی اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری کا کہنا تھا کہ عالمی سازش کے خلاف کمیشن تشکیل دے دیا ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کمیشن کی سربراہی کریں گے، کمیشن تحقیقات کرے گا سازش کہاں سے بنی، سازش کے لوکل ہینڈلر کون تھے کمیشن تحقیقات کرے گا، کابینہ نے الیکشن کمیشن کے 7 ماہ سے پہلے الیکشن نہ کرانے کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہارکیا، 90 دن کے اندر ہر حال میں الیکشن ہونے چاہئیں، ہرطرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممبران اسمبلی کے سامنے عدم اعتماد کی شہادتیں رکھی جائیں گی، اگرعوام نے اپنی آزادی کی حفاظت نہ کی تو پاکستان دوبارہ غلامی میں چلا جائے گا، امپورٹڈ، سلیکٹڈ حکومت ہم پر مسلط کی جائے گی، ہم محکوم بن جائیں گے، یہ عدم اعتماد بین الاقوامی سازش کے تحت لائی گئی، رجیم چینج کی دھمکی موجود ہے یا نہیں، تحقیقات کی جائیں گی۔
وفاقی وزیر نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کل کے فیصلے سے پارلیمنٹ کی بالادستی خطرے میں پڑگئی، عدالتی فیصلے پر ہم سپریم کورٹ میں نظر ثانی کے لئے جائیں گے، ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں ۔ کابینہ نے وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا، سپریم کورٹ کے پاس دستاویز نہیں پھر کیسے پتا لگا اسپیکر نے ذہن کا غلط استعمال کیا، عمران خان وزیراعظم ہیں اور رہیں گے، ہم کہیں نہیں جارہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اجلاس بھی خود ہی طلب کیا، پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، اگررولنگ صحیح یا غلط تو پھرمواد کو دیکھنا چاہیے تھا، ہماری قانونی ٹیم ریویو اور دیگرآپشن کو بھی دیکھ رہی ہے، سپریم کورٹ نے کہا منحرف اراکین ووٹ ڈال سکتے ہیں، منحرف اراکین کے ووٹ ڈالنے والا تو کیس ہی نہیں تھا، پارلیمنٹ کی اب سپرمیسی نہیں رہی، پارلیمنٹ کی سپرمیسی سپریم کورٹ کی طرف شفٹ ہوگئی ہے، یہ ایک ایسا معاملہ ہے سپریم کورٹ کو نظرثانی کرنی چاہیے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اس عالمی سازش کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا ہے، کمیشن کو کہا گیا ہے کہ وہ تمام معاملے کے پیچھے پوشیدہ کرداروں کو، ان کے معاملات کی تحقیقات کرے اور حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے تعین کردہ ٹی او آرز کے مطابق دیکھنا ہے کہ یہ جو 'کمیونی کیشن یا مراسلہ' ہے، یہ اصل میں موجود ہے یا نہیں، کمیشن دیکھے گا کہ اگر یہ مراسلے موجود ہے تو اس میں حکومت کی تبدیلی کی یا رجیم چینج کی دھمکی موجود ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ تشکیل کردہ کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ اگر یہ حکومت کے خلاف سازش تھی تو اس کے مقامی کردار اور لوکل ہینڈلر کون تھے، ظاہر ہے کہ اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی اس سازش میں شریک نہیں، کچھ مخصوص لوگ ہیں جو سازش میں شریک ہیں، جو جانتے تھے کہ یہ سازش کہاں بنی، کیسے بنی، کہاں سے اس کو لایا گیا، اس کی مزید تحقیقات ہونی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ