Wednesday, 22 April, 2026
جگہ کی تبدیلی ممکن نہیں، احتجاج پرامن ہوگا، جے یو آئی

جگہ کی تبدیلی ممکن نہیں، احتجاج پرامن ہوگا، جے یو آئی

اسلام آباد - جمیعت علمائے اسلام (ف) نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیلئے ڈی سی اسلام آباد کو درخواست جمع کروا دی۔ درخواست قانون دان سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مفتی عبداللہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے، ڈی سی اسلام آباد کو دی گئی درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم پیر کے روز سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج کرے گی جس کی اجازت دی جائے، مظاہرے کیلئے سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات کئے جائیں۔

ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے باہر احتجاجی مظاہرے کیلئے ڈی سی اسلام آباد کو درخواست جمع کرا دی ہے، ہم نے اس سے قبل ملین مارچ، آزادی مارچ اور دیگر پروگرام کئے ہیں، حکومتی وزراء نے مولانا فضل الرحمان سے جگہ کی تبدیلی کے بارے میں ملاقات کی تھی۔

اسلم غوری نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ہم نے انتظامیہ اور وزیر داخلہ کو بتا دیا ہے کہ ہمارا احتجاج پر امن ہوگا اور جگہ کی تبدیلی ممکن نہیں، ہمارے کارکنوں کو رضا کار کنٹرول کریں گے، کارکنوں کو ہم نے ہدایت کر دی ہے کہ سپریم کورٹ کے احاطے میں کوئی داخل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی بھی کارکن ججز کالونی کی طرف جائے گا نہ ہی ججز کے گھروں پر حملہ آور ہوں گے، پاکستان ہمارا ملک ہے، اس کے آئین اور قانون کا تحفظ ہم کریں گے، پی ڈی ایم کی درخواست پر ڈی چوک کے آگے (پین سے) سپریم کورٹ کے سامنے تحریر کیا گیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں کہ دھرنے کی جگہ تبدیل کردی گئی ہے، دھرنا سپریم کورٹ کے سامنے ہی ہوگا، کارکن غلط افواہوں پر توجہ نہ دیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا ہے کہ کارکن اطمینان کے ساتھ آئیں، شاہراہ دستور سپریم کورٹ کے سامنے ہی دھرنا ہوگا، سپریم کورٹ کے باہر دھرنا فی الحال غیر معینہ مدت کیلئے ہو گا، دھرنا ختم کرنے سے متعلق فیصلہ کل کیا جائے گا۔

ادھر اسلام آباد کی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کو احتجاج کی اجازت دینے سے متعلق فیصلہ موخر کر دیا ہے، ضلعی انتظامیہ نے جلسے کی اجازت وزرات داخلہ کے فیصلے سے مشروط کر دی ہے، پی ڈی ایم کو احتجاج کی اجازت دینے کیلئے دفعہ 144 میں نرمی یا ختم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  29582
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور برف باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیرنے کہا ہے کہ فوج کا ہر سپاہی اور افسر سیاسی تعصبات سے بالاتر ہو کر فرائض کو مقدم رکھتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں شہداء اور غازیوں کے اعزاز
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں پرتشدد مظاہروں کے دوران جی ایچ کیو پر حملے کی تحقیقات کے لیے پولیس کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔سابق وزیراعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے
پندرہ جنوری کو بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیں گے، دھڑوں کے انضمام کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے پہلا بڑا اعلان کردیا۔ مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی اور فاروق ستار ، خالد مقبول کی قیادت میں متحدہ قومی موومنٹ

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں