Wednesday, 22 April, 2026
قومی سلامتی اجلاس: شرپسندوں کیخلاف کارروائی پر اتفاق

قومی سلامتی اجلاس: شرپسندوں کیخلاف کارروائی پر اتفاق

اسلام آباد -  وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں اور ملک دشمن عناصر کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت مسلح افواج کے سربراہان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اعظم خان، وزیراعلیٰ پنجاب سیّد محسن نقوی کے علاوہ اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے مسلح افواج سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جبکہ انٹیلی جینس کی بنیاد پر حالیہ آپریشنز کو بھی فورم نے سراہا۔اجلاس میں اداروں کے خلاف بیرونی اور اندرونی پروپیگنڈے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔اجلاس کے دوران بریفنگ دی گئی کہ فوجی قیادت کے خلاف پروپیگنڈا پاک فوج اورعوام کے درمیان ربط ختم کرنے کی سازش ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مذموم پروپیگنڈے کو پاکستانی عوام کی حمایت سے شکست دی جائے گی جبکہ سوشل میڈیا کے قواعد و ضوابط اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ سیاسی جماعت کے شرپسندوں نے طے شدہ منصوبے کے تحت یہ سب کیا، واقعات کی ویڈیوز اور شواہد موجود ہیں۔ توڑپھوڑ،جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 5 ہزار سے زائد شر پسند گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے پر اور قانون کے مطابق کارروائی کیے جانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ شر پسندوں کیخلاف کیسز کا جلد فیصلہ کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا، فوجی، سرکاری تنصیبات پر حملے کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ کسی کوبھی ملک کا امن و استحکام داؤ پر لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  52632
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے تھانہ ڈومیل پر خوارج کا بزدلانہ خودکش حملہ ناکام بنا دیا گیا، 10 شہری شہید اور 4 زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے تھانے کے باہر سول آبادی کو نشانہ بنا ڈالا، خودکش حملے میں شہید ہونے والوں میں7 خواتین ، ایک بچہ اور2مرد شامل ہیں۔
صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت قومی قیادت کے مشاورتی اجلاس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات مزید سخت کرنے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے شہر سوراب میں بینک کو لوٹ لیا اور مختلف سرکاری افسران کے گھر جلادیے، دفاع کرتے ہوئے اے ڈی سی ریونیو شہید ہوگئے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں