![]() |
اسلام آباد - وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
شہبازشریف نے کہا کہ بحران کے پیشِ نظرہفتے میں چار دن دفاتر کھلے گئے ورک فرام ہوم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، فوری طور پر تمام اسکولوں میں دو ہفتوں کی چھٹیاں دی جارہی ہیں،50 فیصد ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے اور آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری گاڑیوں میں 50 فیصد فی الفور کٹوتی کی جا رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستانی کو مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کا سامنا ہے ، پاکستان معاملات سفارت کاری کے ذریعے حل کرانے کی کوشش کررہا ہے ، پاکستان آزمائش کی گھڑی میں متاثرہ ممالک کے ساتھ ہے، عالمی سطح پر ہونے والے نقصانات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وقت آ گیا ہے اشرافیہ آگے بڑھے، صاحب حیثیت لوگ آگے بڑھیں، آئندہ دو ماہ کے لیے 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند کیا جا رہا ہے، آئندہ دو ماہ کے لیے وزرا، مشیران، معاونین خصوصی تنخواہ نہیں لیں گے، ارکان پارلیمنٹ کی 25 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری محکموں میں گاڑیوں، فرنیچر، ایئرکنڈیشنڈ دیگر اشیا کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، سرکاری افسران کے بیرون ملک دوروں پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے سیمینار ہوٹلوں کے بجائے سرکاری دفاتر میں منعقد ہوں گے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ مفاد پرست عناصر، ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں موجودہ صورتِ حال سے ناجائز فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہ کریں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، دنیا میں نئے اتحاد بن رہے ہیں، اس نازک ترین موڑ پر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر اتحاد، قومی یکجہتی، احساس ذمہ داری کی ضرورت ہے، رمضان المبارک کا مبارک مہینہ صبر، اخوت، ایثار، قربانی کا درس دیتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک مضبوط اور باوقار قوم وہ ہوتی ہے جومشکل کی گھڑی میں باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، اللہ تعالیٰ کی مدد سے پاکستان میں معاشی حالات مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ