Wednesday, 22 April, 2026
ڈیڈ لائن ختم: پنجاب حکومت زمان پارک پر آپریشن کیلیے تیار

ڈیڈ لائن ختم: پنجاب حکومت زمان پارک پر آپریشن کیلیے تیار

 لاہور - پنجاب حکومت کی جانب سے زمان پارک میں موجود افراد کی گرفتاری کے لیے پی ٹی آئی کو دی گئی 24 گھنٹے کی ڈیڈ لائن ختم ہوگئی، 24 گھنٹے سے زمان پارک جانے والے تمام راستے بند ہیں، گرفتاریوں کے لیے پولیس آپریشن کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔

میڈیا کے مطابق پنجاب پولیس کے ہاتھوں گزشتہ روز شروع ہونے والا زمان پارک کا محاصرہ تاحال جاری ہے، پنجاب پولیس نے زمان پارک جانے والے تمام راستے بند کر رکھے ہیں۔ زمان پارک کے باہر موجود پی ٹی آئی کارکنوں کے تمام کیمپ خالی ہوچکے ہیں۔

پنجاب پولیس کا موقف ہے کہ فوجی تنصیاب پر حملہ کرنے والے متعدد دہشت گرد زمان پارک میں موجود ہیں جنہیں گرفتار کرنا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ راستے بند ہونے کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکالات کا سامنا ہے، رکاوٹوں کے باعث دفاتر اور تعلیمی اداروں میں جانے والے بچے شدید کوفت کا شکار ہیں، رکاوٹوں پر کھڑی پنجاب پولیس کی جانب سے شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کا مظاہرہ بھی کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے رکاوٹیں لگا کر دھرم پورہ پل کو بھی بند کر دیا گیا اور دھرمپورہ پل پل پولیس کی بھاری نفری پہنچ چکی ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل نگراں وزیر اطلاعات عامر میر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں میں سے تقریباً 30 سے 40 لوگ زمان پارک میں موجود ہیں جنہیں 24 گھنٹے کے اندر پولیس کے حوالے کردیا جائے بصورت دیگر زمان پارک پر آپریشن کرکے انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

میڈیا کے مطابق حکومت پنجاب سے منظوری کے بعد گرفتاری کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جب کہ زمان پارک میں دہشت گردوں کے معاملے میں حکمت عملی کو مخصوص افسران تک محدود رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

ایس پی سول لائنز حسن جاوید بھٹی نے مال روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ 30 سے 40 لوگ زمان پارک کے اندر موجود ہیں، پولیس نے 8 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے جو نہر کے راستے فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے، ابھی بھی اطلاعات ہیں کہ زمان پارک میں شرپسند افراد موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سمیت دیگر معاملات کے فیصلے اوپر کی سطح کے ہیں، آپریشن سے متعلق ختمی فیصلہ اعلی افسران کے حکم پر ہوگا، راستوں کی بندش سے عوامی تکلیف کا اندازہ ہے، امید کرتا ہوں جلد تمام راستے کھل جائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43293
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم تین رکنی انکوائری کمیشن نے بھی آڈیو لیکس کمیشن کا کیس سننے والے سپریم کورٹ کے بنچ پر اعتراض کردیا. انکوائری کمیشن کے سیکرٹری نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے۔
سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس انکوائری کمیشن کی کارروائی روک دی۔ میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے 19 مئی کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیا اور انکوائری کمیشن کے 22 مئی کے احکامات کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ نے آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔ میڈیا کے مطابق آڈیو لیک کمیشن کے خلاف درخواستوں پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا۔ چیف جسٹس عمر
وفاقی حکومت نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا. سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ حکومت کی جانب سے بنائے گئے آڈیو لیکس کے 3 رکنی تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں