Wednesday, 22 April, 2026
سپریم کورٹ کا مولانا ہدایت الرحمان کو رہا کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا مولانا ہدایت الرحمان کو رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد - سپریم کورٹ نے گوادرحق دوتحریک کےسربراہ مولانا ہدایت الرحمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ میں گوادر میں حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی ، جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی، بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہیں ۔عدالت نے مولانا ہدایت الرحمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے مولانا ہدایت الرحمان کو 3 لاکھ روپے کے 2 ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیا، عدالت نے گزشتہ سماعت پر فریقین کو نوٹس جاری کئے تھے۔

مولانا ہدایت الرحمان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، انہوں نے نومبر 2021 میں مولانا ہدایت الرحمان کی قیادت میں ’حق دو تحریک‘ کے تحت گوادر میں دھرنا شروع کیا گیا جو 32 روز جاری رہا اور دسمبر کے وسط میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان سے مذاکرات کیے اور مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔اس تحریک کے بنیادی مطالبات علاقے میں صاف پانی کی فراہمی اور فشنگ ٹرالرز کی آمد پر پابندی شامل تھے، فشنگ ٹرالرز کے باعث مقامی ماہی گیروں کو مچھلیاں نہیں مل رہی تھیں۔، غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ اور ایران کے ساتھ سرحدی تجارت میں آسانی بھی ان مطالبات میں شامل تھے جو حکومت نے تسلیم کیے۔

دسمبر 2021 میں مولانا ہدایت الرحمان اور حکومت میں باقاعدہ معاہدہ طے پایا جس کے بعد مولانا نے تحریک ختم کرنے کا اعلان کیا۔تاہم جولائی 2022 میں حق دو تحریک نے ایک بار پھر گوادر می دھرنا دینے کا اعلان کردیا، تحریک کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔حکومت نے مولانا ہدایت الرحمان سے مذاکرات کی کوششیں شروع کیں، تاہم اکتوبر میں تحریک نے دوبارہ دھرنا دے دیا۔حکومت اس دھرنے کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہی تھی لیکن بات چیت کی ناکامی کے بعد کریک ڈاؤن شروع ہوگیا ، احتجاج کے دوران پولیس اہلکار کی شہادت کا واقعہ پیش آیا-

جس کے بعد صوبائی وزیر داخلہ نے مولانا ہدایت الرحمان کیخلاف ایف آئی آر کا حکم دیا تھا۔3 جنوری کو سٹی تھانہ گوادرمیں مولانا ہدایت الرحمان سمیت دیگرساتھیوں پر مقدمہ درج کیا گیا ، جس میں ان پر الزام لگایا گیا کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے دھرنے کے شرکاء کو اشتعال دلایا اورسرکاری گاڑیوں پر پتھراؤ کروا کر لوگوں کو زخمی کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  25471
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اِس وقت جنگ کا ماحول ہے، بدقسمتی سے پورے خطے میں اِس وقت شدید کشیدگی ہے، اِن حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ جس طرح بھارتی جارحیت کے دوران اتقاق اور اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا تھا، معاشی محاذ پربھی اسی اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں ہوا
بھارتی فوج کی بزدلانہ جارحیت کے نتیجے میں زخمی ہونے والے 2 جوان شہید ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بھارتی جارحیت میں زخمی ہونے والے 2 زخمیوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے
قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دے دیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ختم ہوگیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام، وزرا اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں