Friday, 24 April, 2026
سیاسی جماعتیں ڈی چوک کا استعمال نہ کریں، چیف جسٹس

سیاسی جماعتیں ڈی چوک کا استعمال نہ کریں، چیف جسٹس

اسلام آباد - سپریم کورٹ بار کی تحریک عدم اعتماد سے پہلے جلسہ روکنے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ جتھے لاکر کسی رکن اسمبلی کو روکنے کی اجازت نہیں دیں گے، سیاسی جماعتیں ڈی چوک استعمال نہ کریں، ووٹ ڈالنا ارکان کا آئینی حق ہے، بہتر ہوگا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر ہی لڑی جائے، دونوں جلسوں کی ٹائمنگ الگ ہونی چاہیے تاکہ تصادم نہ ہو، دیکھنا ہے کسی ایونٹ کی وجہ سے کوئی ووٹ ڈالنے سے محروم نہ رہے۔

قبل ازیں سپریم کورٹ بار کے صدر احسن بھون کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، شہباز شریف، بلاول بھٹو، فضل الرحمان، اختر مینگل اور دیگر رہنما عدالت میں پیش ہوئے۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال اور اسلام آباد میں جلسوں کو روکنے کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ یہ محض قانونی مسئلہ نہیں، یہ سیاسی مسئلہ بھی ہے، اس میں انا نہیں ہونی چاہیے، اس عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنا ہے، اگر آپ لوگوں کو کچھ خدشات ہیں کہ تصادم ہو سکتا ہے، ہمیں 24 تاریخ کو مواد لاکر دکھا دیں، جہاں الیکشن ہوتا ہے وہاں ہم رک جاتے ہیں، ہمیں مواد دکھا دیں، اگر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہوئیں تو کوڈ آف کنڈکٹ بنا لیں گے۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ہم اس بات کی اجازت نہیں دینگے، کوشش کریں ڈی چوک پر جلسہ نہ ہو، اکھٹے بیٹھ کر اتفاق رائے پیدا کریں، لوگوں کو لاکر کسی ووٹ ڈالنے والے کو روکنے کی اجازت نہیں دینگے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسپیکر پر کوئی اعتراض ہو تو پارلیمنٹ میں اٹھائیں، اسپیکر بھی آئین کا حصہ ہے، اٹارنی جنرل نے یقین دلایا ہے کہ حکومت پر امن انداز میں احتجاج کرے گی۔

منحرف ارکان تاحیات نااہل ہونگے یا دوبارہ الیکشن لڑ سکیں گے؟ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی جائے، حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی، ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کردیا جس پر عدالت نے معاملے پر لارجر بنچ تشکیل دیدیا ہے جبکہ چیف جسٹس نے 24 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر سماعت کا حکم دے دیا۔

آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا، صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے 4 سوالوں کے جواب مانگے گئے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 63 اے کی کونسی تشریح قابل قبول ہے؟ کیا پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے سے نہیں روکا جا سکتا؟ پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ شمار نہیں ہوگا، ایسا کرنے والا تاحیات ناہل ہوگا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا منحرف ارکان کا رکن ووٹ شمار ہوگا یا گنتی میں شمار نہیں ہوگا؟۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے والا رکن صادق اور امین نہں رہے گا، کیا ایسا ممبر تاحیات نااہل ہوگا؟۔ آخری سوال یہ ہے کہ فلور کراسنگ یا ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے مزید اقدامات کیا ہو سکتے ہیں؟ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔

صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ معاملے کو سننا چاہتے ہیں، فریقین تیاری سے آئیں، حکومتی اتحادیوں کو نوٹس جاری نہیں کیے، اگر اتحادی اپنی نمائندگی چاہتے ہوں تو گزارشات دے دیں، کوشش کریں گے جلد ریفرنس پر اپنا فیصلہ دیں، صدارتی ریفرنس کیوجہ سے پارلیمنٹ کی کارروائی تاخیر کا شکار نہیں ہو گی۔

چیف جسٹس نے 24 مارچ سے صدارتی ریفرنس پر سماعت کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس دستاویزات نہیں ہے کہ 25 کو اجلاس بلانے کی کیا وجہ ہے بتائیں؟ ہمیں ان وجوہات کو دیکھنے کا جواز نہیں ہے، ایڈوائزر اختیار میں صدارتی ریفرنس آیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آئینی تقاضوں کو پورا کرنے نہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، سپریم کورٹ سے کوئی حکم امتناع نہیں مانگ رہے ہیں، صدارتی ریفرنس کی وجہ سے اسمبلی کارروائی متاثر نہیں ہوگی، کسی کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے روکا نہیں جاسکتا، ووٹ شمار ہونے کے معاملہ پر ریفرنس میں سوال اٹھایا ہے، ووٹ ڈالنے کے بعد کیا ہو گا یہ ریفرنس میں اصل سوال ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  40064
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں