Wednesday, 22 April, 2026
گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیا، کابینہ تحلیل

گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیا، کابینہ تحلیل

 لاہور - گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو ڈی نوٹیفائی جبکہ چیف سیکریٹری نے صوبائی کابینہ کو تحلیل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

گورنر پنجاب نے وفاقی حکومت، لیگی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹی فکیشن اپنے ٹویٹر پر پیغام جاری کیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ ’وزیراعلیٰ نے مقررہ وقت تک اعتماد کا ووٹ نہیں لیا لہذا وہ عہدہ چھوڑ دیں‘۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی گئی تھی انہوں نے مقررہ وقت تک ایوان سے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا، بادی النظر میں وزیر اعلیٰ کو ایوان کی اکثریت حاصل نہیں رہی جس کے باعث انہیں ڈی نوٹیفائی کیا جارہا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق گورنر پنجاب نے 19 دسمبر شام چار بجے تک وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی تھی، 48 گھنٹے گزرنے کے لیے باوجود پرویز الہیٰ نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا۔

حکم نامے میں لکھا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 133 کے تحت پرویز الہیٰ کو سبکدوش اور کابینہ کو ختم کیا جارہا ہے۔

نوٹی فکیشن کے مطابق پرویزالٰہی نئے قائد ایوان کے انتخاب تک عہدے پر کام جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب نوٹی فکیشن کی کاپی سیکریٹری پنجاب کو بھی ارسال کی گئی ہے جس میں انہیں حکم پر عمل درآمد کیلیے فوری اقدامات کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

پنجاب کابینہ بھی تحلیل:
چیف سیکریٹری نے احکامات کے تحت چوہدری پرویز الہی اور کابینہ کو تحلیل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا، پنجاب کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے کابینہ ونگ نے کابینہ معطلی کے احکامات جاری کیے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ گورنر پنجاب کے خلاف بھی ریفرنس بھیجا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  64634
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں