Saturday, 30 May, 2026
عمران خان کو ماسکو کا دورہ کرنے پر سزا دی گئی، روسی وزارت خارجہ

عمران خان کو ماسکو کا دورہ کرنے پر سزا دی گئی، روسی وزارت خارجہ

ماسکو - روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ دورہ روس منسوخ نہ کرنے پر عمران خان پر پہلے دباؤ ڈالا گیا اور پھر ماسکو جانے پر انہیں سزا دی گئی۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق عمران خان کی جانب سے دورہ روس کرنے پر واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کو طلب کر کے فوری طور پر دورہ منسوخ کرنے کا کہا گیا، روس سے واپسی پر حکومتی جماعت کے ارکان کا گروہ اچانک اپوزیشن میں چلا گیا اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی۔

ایک بیان میں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا کہ روس نے نوٹ کیا ہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم کے مشورے اور اس سے پہلے کے واقعات کے پیش نظر 3 اپریل کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ رواں سال 23 سے 24 فروری کو عمران خان کے ماسکو کے دوسرے کے اعلان کے فوراً بعد امریکیوں اور ان کے مغربی ساتھیوں نے وزیر اعظم پر غیر مہذبانہ انداز میں دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا اور اس دورے کو منسوخ کرنے کے لیے الٹی میٹم کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اس کے باوجود روس آئے تو ڈونلڈ لُو نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کو فون کیا اور اس دورے کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا جسے مسترد کر دیا گیا۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق رواں سال 7 مارچ کو پاکستانی سفیر اسد مجید کے ساتھ بات چیت میں ایک اعلیٰ امریکی اہلکار (غالباً وہی ڈونلڈ لُو) نے یوکرین میں ہونے والے واقعات پر پاکستانی قیادت کے متوازن ردعمل کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ شراکت داری اسی صورت میں ممکن ہے جب عمران خان کو اقتدار سے ہٹا دیا جائے۔

روسی عہدیدار نے کہا کہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد جس طرح پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اپوزیشن کے ساتھ مل گئے، اس پیش رفت سے اس حوالے سے کوئی شک کی گنجائش نہیں رہی کہ امریکا نے  نافرمان  عمران خان کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک آزاد ریاست کے اندرونی معاملات میں اپنے ذاتی مقاصد کے لیے شرمناک امریکی مداخلت کی ایک اور کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم خود بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کے خلاف سازش کے لیے بیرون ملک سے حوصلہ افزائی اور مالی اعانت فراہم کی گئی، ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی ووٹرز کو انتخابات کے وقت ان حالات کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا جو کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 دنوں کے اندر ہونا طے ہیں۔

روس کی وزارت خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم عمران خان نے سازش کا ذکر کرتے ہوئے امریکی معاون وزیر خارجہ برائے وسطی اور جنوبی ایشیا ڈونلڈ لُو کا نام لیا تھا، جنہوں نے ایک مبینہ خط میں ان کی حکومت کے بارے میں ’دھمکی آمیز ریمارکس‘ دیے جسے وزیر اعظم نے پچھلے مہینے اسلام آباد میں ایک عوامی ریلی کے دوران لہرایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41843
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
روس نے امریکا کے سابق صدر باراک اوباما سمیت 500 امریکیوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔ روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ مسلسل روس پر پابندیاں عائد کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے روسی صدر کے جنگ بندی کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو مستقل جنگ بندی کی جانب چاہنا چاہیے۔
برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ بھارتی نژاد رشی سوناک بھی وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں گزشتہ 3 برسوں میں 3 وزرائے اعظم تبدیل ہوچکے ہیں اور لزٹرس تو محض 45 دن بعد مستعفی ہوگئیں جس کے بعد نئے

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں