![]() |
| امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ |
تہران ۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مختلف حملوں میں 10 بچوں سمیت 34 ایرانی شہید ہو گئے، جبکہ متعدد شہری علاقوں، تعلیمی اداروں اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ "آپریشن وعدہ صادق 4" کی 97ویں لہر کے دوران خلیج فارس اور اطراف میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق اس کارروائی کو وزارتِ توانائی کے ملازمین کے نام کیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کویت میں محمد الاحمد بحری اڈے کے قریب امریکی کمانڈرز اور افسران کے ایک اجتماع کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ کے قریب ایک اسرائیلی جہاز کو نیول کروز میزائل سے تباہ کیا گیا، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں 25 امریکی فوجی ہلاک و زخمی ہوئے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
ایرانی فورسز کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو محدود کرتے ہوئے متعدد جہازوں کو روک کر مخصوص اینکریج کی جانب منتقل کیا گیا ہے، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں پر اثرات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تہران اور دیگر شہروں میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، درجنوں افراد زخمی ہوئے جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ تہران یونیورسٹی، مساجد اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حیفہ پر ایرانی میزائل حملوں سے شدید تباہی ہوئی، کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور ملبے تلے افراد دب گئے، جن میں سے کچھ کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
خطے میں کشیدگی لبنان تک پھیل گئی ہے، جہاں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل اور سرحدی علاقوں میں اسرائیلی افواج اور تنصیبات پر راکٹ حملوں اور دھماکہ خیز کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر اردن، متحدہ عرب امارات اور کویت نے تصدیق کی ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام میزائل اور ڈرون حملوں کو فضا میں ہی ناکام بنا رہے ہیں، جبکہ خطے میں سکیورٹی الرٹ جاری ہے۔
برطانیہ نے بھی مشرقی بحیرہ روم اور خلیجی خطے میں اپنے جنگی طیاروں کی پروازیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث شدید تشویش پائی جا رہی ہے، جہاں بحری آمدورفت میں نمایاں کمی رپورٹ ہوئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ