![]() |
| امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی وزیراعظم شیباز شریف |
اسلام آباد - مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے. پاکستان کی بھرپور ثالثی اور انتھک سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی، جس کے بعد واشنگٹن اور تہران نے باقاعدہ طور پر جنگ کے خاتمے اور سیز فائر کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی باقاعدہ توثیق کر دی ہے۔
اس تاریخی پیش رفت کو عالمی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ عارضی جنگ بندی کے بعد اب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔
ضرور پڑھیں: "سعودی پر حملے کشیدگی بڑھا رہے ہیں،کور کمانڈر کانفرنس"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی تفصیلی بات چیت کے بعد کیا گیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت صدر ٹرمپ سے ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع اور تہران سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کی درخواست کی تھی تاکہ سفارت کاری کو ایک آخری موقع مل سکے۔
دوسری جانب، تہران نے بھی عارضی جنگ بندی کی تصدیق کر دی ہے۔ ایرانی حکام نے اسے اپنی 'عظیم فتح' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ان کی پیش کردہ 10 نکاتی تجویز تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ ان شرائط میں ایران کے خلاف نئی جارحیت کا خاتمہ، تمام بنیادی و ثانوی پابندیوں کا خاتمہ، معاوضے کی ادائیگی اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا شامل ہے۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں کے مطابق گزشتہ 40 روز کی شدید ترین لڑائی کے بعد دشمن کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی فورسز کے ہاتھ اب بھی 'ٹرگر' پر ہیں اور کسی بھی غلطی کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس عارضی سیز فائر سے نہ صرف عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی لائن کو استحکام ملے گا بلکہ قیدیوں کے تبادلے اور انسانی ہمدردی کے دیگر معاملات پر بھی پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ علاقائی استحکام اور عالمی امن کے لیے ایک کلیدی اور ذمہ دار ریاست کی حیثیت رکھتا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے کچھ دیر قبل ہی وزیراعظم پاکستان نے اپنے پیغام میں امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کیلئے ایران پر حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے۔
وزیراعظم پاکستان نے جذبہ خیرسگالی کے تحت ایران سے آبنائے ہرمز کو بھی 2 ہفتوں کیلئے کھولنے کی درخواست کی تھی تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ