Saturday, 30 May, 2026
امریکا نے عمران خان کے الزامات کو ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا

امریکا نے عمران خان کے الزامات کو ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا

واشنگٹن - پاکستان کو دھمکی آمیز پیغام بھیجنے کے معاملے پر امریکی محکمہ خارجہ نے عمران خان کے الزامات کو ایک بار پھر مستردکرتے ہوئے کہا ہے  ان الزامات میں قطعی کوئی صداقت نہیں ہے۔

 امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان جیلینا پورٹر نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ' دو ٹوک الفاظ میں کہتی ہوں کہ ان الزامات میں قطعی کوئی صداقت نہیں، ہم پاکستان کے آئینی عمل اور قانون کی حکمرانی کا احترام اور حمایت کرتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ  ایک بار پھر کہتی ہوں کہ  یہ الزامات بالکل درست نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے خط لہرایا تھا اور کہا تھاکہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ہے اور وہ ثبوت ہے۔
ا
بعد ازاں عمران خان نے ایک اور خطاب میں مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے ’امریکا‘ کا نام لیا اور پھر غلطی کا احساس ہونے پر رکے اور کہا کہ نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سے۔

مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ’ابھی ہمیں 8 مارچ کو یا اس سے پہلے 7 مارچ کو ہمیں امریکا نے (نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سے) میسج آتا ہے، میں یہ اسی لیے آپ کے سامنے میسج کی بات کرنا چاہ رہا ہوں‘۔

تاہم بعد ازاں عمران خان نے امریکا کا نام واضح طور پر لے لیا اور گزشتہ روز انہوں نے پاکستان کو دھمکی دینے والے امریکی عہدیدار کا نام بھی بتا دیا تھا۔

بنی گالہ میں تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے سفیر اور امریکا کی جانب سے نمائندہ ڈونلڈ لو کے درمیان جو مکالمہ ہوا اس میٹنگ کے لیے دونوں طرف نوٹ لینے والے بیٹھے ہوئے تھے، جو مکالمہ تھا، اس کے منٹ جاری کیے گئے۔

ڈونلڈ لو ، امریکا کے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ فار ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشیاء ہیں اور ان ہی کی پاکستانی سفیر سے ملاقات ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  41504
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے. پاکستان کی بھرپور ثالثی اور انتھک سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی
امریکی صدر نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت نے اس پورے معاملے میں مضبوطی اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا، دونوں نے حالات کی سنگینی کو بخوبی سمجھا اور بڑی ثابت قدمی دکھائی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا ہزاروں سال سے جاری مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکالا جا سکتا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں