Tuesday, 26 May, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے پر ناخوش

ڈونلڈ ٹرمپ مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے پر ناخوش

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو بڑی غلطی قرار دیدیا۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے کو نیا رہنما منتخب کر کے غلط فیصلہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ایران نے یہ بہت بڑی غلطی کی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس غلط فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ دیکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک کمزور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کی قیادت کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

امریکی صدر نے ایران کے تیل پر ممکنہ قبضے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرسکتے۔

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور اس کے جوہری پروگرام کے تناظر میں امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

ایران میں قیادت کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر رہنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں اس تبدیلی نے پہلے سے جاری جنگی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور خطے میں سیاسی و عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  76874
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے. پاکستان کی بھرپور ثالثی اور انتھک سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں