![]() |
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو بڑی غلطی قرار دیدیا۔ امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے کو نیا رہنما منتخب کر کے غلط فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ایران نے یہ بہت بڑی غلطی کی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس غلط فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ دیکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک کمزور شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کی قیادت کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
امریکی صدر نے ایران کے تیل پر ممکنہ قبضے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرسکتے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور اس کے جوہری پروگرام کے تناظر میں امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
ایران میں قیادت کی تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر رہنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایرانی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں اس تبدیلی نے پہلے سے جاری جنگی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور خطے میں سیاسی و عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ