Saturday, 30 May, 2026
امریکی سینیٹرکا پاکستان کی موجودہ صورتحال پراظہارِ تشویش

امریکی سینیٹرکا پاکستان کی موجودہ صورتحال پراظہارِ تشویش

 واشنگٹن - امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین باب مینڈیز نے پاکستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔  غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق باب مینڈیز نے پاکستان میں انٹرنیٹ کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے عوام کو محروم رکھنے کے مترادف ہے۔

سینیٹر باب مینڈیز نے مزید کہا کہ پاکستان کی صورت حال پر سخت تشویش ہے۔ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کشیدگی کے خاتمے کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے بھی پریس بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش کو معلومات تک رسائی کے حق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے ہم منصوبوں کے ساتھ گفتگو میں انسانی حقوق اور میڈیا کی آزادی سمیت اہم امور پر بات کی ہے۔

ویدانت پٹیل نے کسی ایک جماعت کو پسند یا ناپسند کرنے کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہی کیا دنیا میں کہیں کوئی پسندیدہ امیدوار یا جماعت نہیں۔ پاکستان میں مضبوط جمہوریت امریکا کے مفاد میں ہے۔ ہم وہاں صرف جمہوری اقدار اور قانون کا احترام چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ سے گرفتاری اور اس کے ردعمل میں پھوٹنے والے ہنگاموں کے باعث ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی تھی جو تاحال بحال نہیں ہوسکی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  51657
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے. پاکستان کی بھرپور ثالثی اور انتھک سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ "جہنم کی آگ" نازل ہونے سے پہلے ایران کے پاس اب صرف 48 گھنٹے باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو نیا معاہدہ کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کی مہلت دی گئی تھی، جس کا وقت اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں