Saturday, 30 May, 2026
پاکستان سے اچھے عسکری تعلقات ہیں، پینٹاگون

پاکستان سے اچھے عسکری تعلقات ہیں، پینٹاگون

واشنگٹن - امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات پر ردعمل دینے سے گریز کرتے ہوئےکہا ہےکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط عسکری تعلقات کے تسلسل کے لیے  پرعزم ہیں۔

واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کے حوالے سے امریکا اور پاکستان کے مشترکہ مفادات ہیں،  ہمارے پاکستان سے اچھے عسکری تعلقات ہیں اور ہم ان میں تسلسل کے لیے پرعزم ہیں۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کا اعتراف ہےکہ  پاکستان اور پاکستانی عوام ملک میں دہشت گرد حملوں سے متاثر ہوئے ہیں اور پاکستان کا خطے میں بنیادی کردار رہا ہے۔

پینٹاگون ترجمان سے جب عمران خان کے پاکستانی حکومت کی تبدیلی میں امریکا کے ملوث ہونے کے الزام اور شہباز شریف کے وزیراعظم بننے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کا جواب دینے سے معذرت کرلی۔

جان کربی کا کہنا تھا کہ  میں پاکستان کے اندرونی سیاسی معاملات پرکوئی بات نہیں کروں گا۔

فوجی مداخلت کے سوال کے جواب میں بھی جان کربی نےکہا کہ وہ پاکستان میں اندرونی سیاست پر کوئی بات نہیں کریں گے۔ خیال رہے حالیہ دنوں میں  وائٹ ہاؤس کی ترجمان کی جانب سے کہا جاچکا ہےکہ جمہوری پاکستان امریکی مفادات کے لیے اہم ہے۔

واضح رہےکہ سابق وزیراعظم عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے اور حکومت کی تبدیلی میں امریکی سازش کو مورد الزام ٹہھرا رہے ہیں تاہم امریکا کی جانب سے متعدد بار اس کی تردید کی جاچکی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43188
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے. پاکستان کی بھرپور ثالثی اور انتھک سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
امریکی صدر نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت نے اس پورے معاملے میں مضبوطی اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا، دونوں نے حالات کی سنگینی کو بخوبی سمجھا اور بڑی ثابت قدمی دکھائی۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں