Saturday, 30 May, 2026
ایران اور اسرائیل کے درمیان جلد امن قائم ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران اور اسرائیل کے درمیان جلد امن قائم ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن - امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پس منظر میں ملاقاتوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل میں جلد امن قائم ہوجائے گا۔

غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جلد ہی امن قائم ہوگا کیونکہ متعدد غیراعلانیہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور دونوں ممالک کو معاہدہ کرنا چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کو معاہدہ کرنا چاہیے اور معاہدہ کریں گے اور ہمیں جلد ہی امن دیکھنے کو ملے گا۔

امریکی صدر نے دونوں ممالک کے درمیان یا تنازع کے حوالے سے ملاقاتوں یا امن کی جانب پیش رفت کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی جبکہ ان کا بیان اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے اس بیان کے برخلاف ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کے حملے مزید شدت سے جاری رہیں گے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ میں نے بہت کچھ کیا ہے اور انہیں اس حوالے سے کوئی کریڈٹ نہیں ملتا لیکن کوئی بات نہیں ہے کیونکہ عوام سمجھتے ہیں، مشرق وسطیٰ کو دوبارہ عظیم بنائیں۔

امریکی صدر اس سے قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کا بھی دعویٰ کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی تنازع کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی فوری طور پر اس حوالے سے ردعمل نہیں دیا کہ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس مشرق وسطیٰ کی صورت حال سنھبالنے کے لیے کیا کوششیں کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان اتوار کو بھی حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور دونوں اطراف کئی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  85706
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے لگے. پاکستان کی بھرپور ثالثی اور انتھک سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں، جس کے نتیجے میں امریکہ اور ایران نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کی

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں