Saturday, 30 May, 2026
جی سیون اجلاس: روس پر مزید پابندیاں عائد ہونے کا امکان

جی سیون اجلاس: روس پر مزید پابندیاں عائد ہونے کا امکان

 

ہیروشیما - دنیا کی سات بڑی معیشتوں ( جی سیون ممالک ) کی جانب سے روس پر مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ جی سیون ممالک کا تین روزہ اجلاس 19 مئی سے جاپان کے شہر ہیروشیما میں شروع ہورہا ہے جس میں روس کو یوکرین کے خلاف جنگ ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کیے جانے کا قوی امکان ہے۔

جی سیون ممالک میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔

واضح رہےکہ امریکا اور یورپی یونین نے روس کے خلاف پہلے ہی سخت ترین پابندیاں عائد کررکھی ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پابندیوں کو بالخصوص تیل اور توانائی کے شعبے میں مزید سخت کیا جائے گا۔


عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین ان کمپنیوں کو سزا دینے پر غور کررہی ہے جو کسی نہ کسی طرح روس پرعائد پابندیوں کا اثر کم کرنے میں معاونت کررہی ہیں۔

فنانشنل ٹائمز میں شائع شدہ ایک انٹرویو میں یورپی یونین کے پالیسی چیف جوزف بورل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو تیل کی ان بھارتی مصنوعات کی درآمدات پر بھی پابندی لگادینی چاہیے جو بھارت روس سے تیل امپورٹ کرکے بنا رہا ہے۔

علاوہ ازیں امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ ہائی ٹیک برآمدات پر بھی کنٹرول مزید مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ روس پر یورپی اور امریکی پابندیوں کا وہ اثر نہیں ہوا جس کی مغربی ممالک توقع کررہے تھے۔ 2022 میں پابندیوں کے باوجود روسی معیشت کے حجم میں صرف 2.1 فیصد کمی آئی۔

اگرچہ جی سیون ممالک سے روسی تجارت برائے نام رہ گئی ہے مگر چین، بھارت اور ترکی کی روسی کوئلے، تیل اور گیس کی درآمدات کئی گنا بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے مغرب کی پابندیوں کا روسی معیشت پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا۔

عالمی میڈیا کے مطابق روس پر پابندیاں مزید سخت کرنے کے حوالے سے جی سیون ممالک میں اختلافات پائے جانے کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

جہاں جی سیون یوکرین پر حملے کے بعد روس کی جانب سے بند کی جانے والی گیس پائپ لائن کو مستقل طور پر بند کرنے کا سوچ رہے ہیں وہیں جی سیون کے یورپ سے تعلق رکھنے والے ممالک یہ قدم اٹھانے کے مخالف ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  61425
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
روس نے یکم اپریل سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
یوکرین نے روس کے سائبیرین علاقے میں ایک ائیر بیس پر حملے میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بمبار طیاروں کو نشانہ بنایا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کا یہ حملہ روسی سرحد کے اندر طویل ترین فاصلے تک کیا جانے والا حملہ ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اگلے ہفتے یوم فتح کے موقع پر یوکرین میں عارضی جنگ بندی کا حکم دے دیا ہےیوم فتح سوویت یونین کی جرمنی پر دوسری عالمی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کا موقع ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جنرل مارک ملی نے درجنوں ممالک کے گروپ رامسٹین سے ورچوئل میٹنگ کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یوکرین میں جنگ طویل ہوسکتی ہے لیکن روس اس میں فاتح نہیں ہوگا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں