Wednesday, 13 May, 2026
مشرقِ وسطیٰ: ایران نے امریکی جدید ترین ایف 35 طیارہ مار گرایا

مشرقِ وسطیٰ: ایران نے امریکی جدید ترین ایف 35 طیارہ مار گرایا
پاسدارانِ انقلاب کا امریکی ایف 35 طیارہ مار گرانے کا دعویٰ

تہران / اسلام آباد - مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تنازعہ 35ویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے "آپریشن وعدہ صادق 4" کے تحت کارروائیوں کی 91ویں لہر کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وسطی ایران کی فضائی حدود میں ایک جدید ترین امریکی لڑاکا طیارہ ایف 35 (F-35) مار گرایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق طیارےمیں اچانک دھماکے کے باعث پائلٹ کو باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا، تاہم امریکی سینٹکام نے ابھی تک اس پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران میں کوئی دشمن فوجی زندہ نہیں بچے گا، آرمی چیف

ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائیوں میں اسرائیل اور امریکا کے 7 اہم فضائی اڈوں اور بحرین میں ایک بین الاقوامی ٹیکنالوجی ادارے کے کلاؤڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوسری جانب تہران سے افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں سابق ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پر ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملے میں ان کی اہلیہ پہلے ہی جاں بحق ہو چکی تھیں۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق 28 فروری سے اب تک ہونے والے حملوں میں 26,500 افراد زخمی اور 600 سے زائد تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔

علاقائی محاذ پر حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے اور یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے جس کی اسرائیلی فوج نے تصدیق کر دی ہے۔ ابوظبی کے علاقے العجبان میں فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے نتیجے میں گرنے والے ملبے سے 12 غیر ملکی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,345 افراد شہید اور 4,040 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  36915
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیاں نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں