Tuesday, 12 May, 2026
امریکی تجاویز مسترد: جنگ بندی صرف ہماری شرائط پر ہوگی، ایران

امریکی تجاویز مسترد: جنگ بندی صرف ہماری شرائط پر ہوگی، ایران


تہران - ایران نے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی جنگ بندی کا فیصلہ صرف ایرانی شرائط کے مطابق ہوگا۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم انہیں غیرمناسب قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت مقرر کریں۔

ایران نے ایک علاقائی ثالث کے ذریعے امریکا کو پیغام پہنچایا ہے کہ وہ اپنے دفاع کا حق جاری رکھے گا اور دفاعی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایرانی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔

ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی کے لیے اولین شرط حملوں کا مکمل خاتمہ اور ایرانی عہدیداروں کی ٹارگٹ کلنگ روکنا ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ٹھوس اور قابلِ ضمانت اقدامات کیے جائیں۔

ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا مکمل تخمینہ لگایا جائے اور اس کے ازالے کی ضمانت فراہم کی جائے۔ مزید برآں، ایران پر جاری جنگ اور خطے میں دیگر مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیاں روکنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا بھی جنگ بندی کے لیے اہم شرط ہے۔

ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کا ابتدائی ردعمل امریکا تک پہنچانے کے لیے پاکستان کے ذریعے بھیج دیا گیا ہے۔

ایران کی جنگ بندی کے لیے اہم شرائط:
حملوں اور ایرانی عہدیداروں کی ہلاکتوں کا فوری خاتمہ
جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ضمانت شدہ اقدامات
جنگی نقصانات کا تخمینہ اور ادائیگی کی یقین دہانی
ایران اور خطے میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیوں کا خاتمہ
آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کا اعتراف

دوسری جانب خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو 15 نکاتی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن میں پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی تجاویز میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود یا ختم کرنے، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے، اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران اور امریکا کے درمیان سویلین جوہری تعاون کی پیشکش بھی ان تجاویز کا حصہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  68625
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا کی جانب سے ایرانی موقف کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے، اس جنگ کو صہیونی حکومت اور امریکا واسرائیل نے بھڑکایا ہے، اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے
افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند کی بیماری کی وجہ سے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے بدھ کے روز مولوی عبدالکبیر کو افغانستان کا قائم مقام وزیر اعظم مقرر کردیا۔
فغانستان میں صحافیوں کی ایک تقریب کے دوران بم دھماکے میں 8 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق ہفتے کو افغان صوبے بلخ کے ضلع مزار شریف میں ثقافتی مرکز میں صحافیوں کی ایک

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں