Tuesday, 12 May, 2026
سیاست ایک بے رحم کھیل!

سیاست ایک بے رحم کھیل!
تحریر :اشفاق گوندل

 

کہتے ہیں سیاست عبادت ہے‘ عوام کی خدمت سیاست کی معراج ہے‘  ہر کوئی جو سیاستدان ہے اسے عوامی خدمت کا جذبہ بے چین رکھتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے لئے محض اس بنا پر دن رات کوشاں رہتے ہیں کہ عوام کو راحتیں دے سکیں ہر طرف انصاف کا بول بالا کرنے کے لئے اونچے بڑے ایوان انصاف بنائے جاتے ہیں عوام کی دہلیز پر انصاف مہیا کرنے کے دعوے کو عملی جامہ پہنچانے کیلئے انتظامی ریفارمز پولیس ریفارمز‘ خدمت میں عظمت کی گونج ہر  سو سنائی دیتی ہے ۔ ابھی دو روز پہلے 4اپریل  تھی پاکستان کے ایک عظیم سیاسی رہنما جناب ذوالفقار علی بھٹو کی برسی تھی ان کے نام پر ایک طویل عرصے سے سیاست کرنے والے رہنمائوں کو ٹی وی‘ اخبارات میں بہت تلاش کیا گڑھی خدا بخش میں ان کے ورثاء کو دیکھنے کی بار بار کوشش ناکام ہی رہی۔ وفاقی دارالحکومت میں ان دنوں بھٹو  کے نام پر سیاست کرنے والوں کا ڈیرہ ہے مگر کسی نے اسے یاد نہیں کیا۔ پیپلز سیکرٹریٹ میں بھی چند ورکرز نے فاتحہ خوانی کی اور آج بھی بھٹو زندہ ہے کی ریکارڈنگ چلا کر یوں یہ دعائیہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔ سیاست کے سینے میں اگر دل ہوتا تو 4اپریل کا دن بھٹو کا دن ہوتا۔ بھٹو کی یاد کو دیگر سب مصروفیات پر فوقیت ملتی مگر اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ اور یوں اگر بھٹو آج بھی زندہ ہے تو کیا ضرورت ہے۔ فاتحہ خوانی کی قرآن خوانی  کی اور دعائیہ تقریبات برپا کرنے کی۔

دوسری جانب ہمارے محبوب رہنما بھی تو بھٹو ری وزیٹڈ پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ہمارے ہاں یہ خط لہرانے کی رسم نہ جانے کب ختم ہوگی۔  بھٹو نے بھی خط لہرائے۔ ضیاء نے بھی رنگ میں سائیکل چلا کر خط لہرائے اور اب عمران نے بھی ایسا ہی کیا لیکن یہ بھی عجب تماشا ہے کہ بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار سے دوا لینے کی عادت بھی ترک نہ کرسکے۔ ہر صاحب ثروت اور صاحب اقتدار امریکہ میں ریٹائرمنٹ کے دن گزارنا چاہتا ہے کیونکہ سوشل سیکورٹی‘ لا اینڈ آرڈر اور صحت کی سہولیات وہاں سٹیٹ آف دی آرٹ ہیں۔ ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری دوستی تو ہم چائنا سے چاہتے ہیں مگر چائنا جا کر سیٹل ہونے کا کبھی کسی نے نہیں سوچا اور نہ ہی بڑے لوگوں کی اولادیں وہاں پڑھائی کیلئے جانا چاہتی ہیں۔ کیونکہ امریکہ میں پڑھائی کے بعد انٹرنیشنل  اداروں میں اور تھرڈ ورلڈ کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے تھنک ٹینکس میں اہم تعیناتیاں بھی ہاورڈ اور دیگر امریکی جامعات کے فارغ التحصیل ہونہار کو میسر ہوتی ہیں اور پھر یہی معززین کے معزز ترین  سپوت صاحبان اقتدار کے اتالیق اور ایڈوائزر ہوتے ہیں۔ عوام اور ووٹرز کو تو شاید نہ یہ پتہ ہے کہ یہ لیٹر کیا ہے اس کی اہمیت اور حیثیت کیا ہے لیکن لیٹر لہرانے والے قوم کو خودداری اور عظمت کا درس دیتے ہیں تو یہ لوگ اپنے آپ کو آزاد خودمختار اور بااختیار سمجھنے لگتے ہیں۔

ہرجانے والے کی برائی کرنا ہر آنے والی حکومت اپنا فرض اولین سمجھتی ہے۔ ہر آنے والی حکومت کو خزانہ خالی ملتا ہے اور سب خرابیاں جانیوالوں میں گنوائی جاتی ہیں ہر کوئی جو اقتدار میں آتا ہے  عوام کو راحتیں دینے کے وعدے تو کرتا ہے مگر سب سے زیادہ مشکلیں دے کر چلا جاتا ہے۔ نہ پولیس بدلی  نہ لوگ بدلے‘ حالات بدلتے ہیں تو اقتدار کا حصہ رہنے والے لوگوں کے بدل جاتے ہیں۔ عوام کو اقتدار منتقل کرنے  کیلئے بلدیاتی نظام کی باتیں تو ہوتی ہیں الیکشن بھی  ہوتے ہیں مگر عوام کے حالات تو نہیں بدلتے البتہ بلدیاتی نمائندوں کے اپنے حالات خوشگوار ہوجاتے ہیں۔ یوں ایک عرصے سے یہی کھیل جاری ہے جمہوریت کا نعرہ لگانے والے جمہور کو تو اندازہ ہی نہیں کہ وہ تو اس کھیل میں محض ایندھن ہیں جسے محض استعمال ہونا ہوتا ہے۔ آئوٹ پٹ میں  نہ اس کا کوئی حصہ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی کلیم۔ اس گنتی کے کھیل میں انہیں کچھ نہیں ملنے والا سوائے پناہ گاہوں کے اور احساس پروگرام کے تحت ملنے والی امداد کے۔

جوں جوں وطن عزیز کی آبادی بڑھ رہی ہے نئے مافیاز نئے ٹرینڈز کے ساتھ فروغ پارہے ہیں اور پھر کچھ مافیاز تو مافیاز کے خلاف ایکشن لینے کے لئے آگے آگے ہوتے ہیں کیونکہ مافیاز کے مافیاز ہی حکومتوں کا دست و بازو ہوتے ہیں۔
بھٹو صاحب کو بھی اب احساس تو ہوگیا ہوگا کہ آج بھی بھٹو زندہ ہے مگر جب جب ضرورت ہو تو بھٹو زندہ ہوتا ہے جب دیگر مصروفیات ہوں تو ان کے اپنے ورثاء یہ ذمہ داری پرولتاری ورکرز کو ہی دے دیتے ہیں۔ یوں بھی پرولتاری اکثریت تو نعروں پر مطمئن رہتی ہے۔ یوں بھی اب سوشل میڈیا  نے کئی طرح کے ایپس متعارف کرادی ہیں جو ہر طبقہ فکر اور ہر عمر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق سیاسی تعلیمی‘ مذہبی کلپس بکثرت فراہم کرتے رہتے ہیں اور بڑے غیر محسوس انداز میں یہی ایپس ہر شعبہ زندگی میں ٹرینڈ سیٹ کرتی ہیں۔ 

ابھی آنے والے دنوں میں پھر وہی گیم ہوگی ادھر آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف مزید ٹائٹ کرنے کیلئے پرتول رہے ہیں۔ سیاسی فیصلے  عدالتوں میں ہونگے حکومت اور اپوزیشن ہڑتالیں کروائیں گی مارکیٹ پھر اوپر جائے گی ایک اور مافیا وجود میں آئیگا اور نہ جانے کب تک یہ خط بھی لہرائے جاتے رہیں گے اور کب تک یہ ہڑتالیں اور ہنگامے ہوتے رہیں گے۔ سیاسی رہنمائوں کو بھی پتہ ہے ایندھن وافر دستیاب ہے کسی کو کوئی اعتراض نہیں اور یوں یہ سلسلہ ایسے ہی چلے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  67116
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایران سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی ضرورت تھی مگر یہ جنگ بندی قائم نہیں رہ پائے گی - امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک دوبارہ ایران پر حملہ آور ہوں گے مگر اسکے لئے کوئی نیا راستہ اختیار کریں گے اور پہلے سے ذیادہ تیاری اور شدت سے ایران کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے-
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ستی کی گفتگو سننے کے بعد میں نے ان سے درخواست کی۔ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو،لیکن کتاب کیا لکھوں کیا ہم نے کوئی قابلِ فخر کام کیا تھا جس پر کتاب لکھی جائے؟ صلاح الدین ستی نے جواب دیا۔
میں نہیں مانتا جب لوگ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی پہچان اس کا حسن جھرنیں آبشاریں اور آسمان کو چھوتی بلند و بالا چوٹیاں ہیں گلگت بلتستان کا حسن تو سید مہدی تھے یہ بلند چوٹیاں تو ان کے پاؤں کی دھول بھی نہ ہیں وہ نہ رہے تو جی بی کے جھرنے ترنم کیسے بپا کر سکتے ہیں یہ گھاٹیاں

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں