Saturday, 20 August, 2022
سید مہدی ..... یادیں زندہ ہیں

سید مہدی ..... یادیں زندہ ہیں
جاوید ملک / شب وروز

 

میں نہیں مانتا جب لوگ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی پہچان اس کا حسن جھرنیں آبشاریں اور آسمان کو چھوتی بلند و بالا چوٹیاں ہیں گلگت بلتستان کا حسن تو سید مہدی تھے یہ بلند چوٹیاں تو ان کے پاؤں کی دھول بھی نہ ہیں وہ نہ رہے تو جی بی کے جھرنے ترنم کیسے بپا کر سکتے ہیں یہ گھاٹیاں کیسے مسکرا سکتی ہیں بادلوں کی یہ ٹکڑیاں اٹھکیلیاں کیسے کر سکتی ہیں میں کبھی ان مناظر کا دلدادہ تھا ان کے حسن میں کہیں کھو جاتا تھا لیکن اب تو مجھے ان سے وحشت سی ہونے لگی ہے مجھے ہوائیں سسکیاں لیتی محسوس ہوتی ہیں یوں لگتا برف سے ڈھکے پہاڑ برف نہیں پگھلا رہے آنسو بہا رہے ہیں چپہ چپہ نوحہ خواں ہے آہ سید مہدی آپ کیا گئے پورے گلگت بلتستان کو ہی ویران کر گئے آپ کو لفظ کیوں سے چڑھ تھی اس لئیے میں تو یہ بھی نہیں پوچھ سکتا کہ ہمیں تنہا چھوڑ کر کیوں چلے گئے کہ مبادا آپ برہم ہی نہ ہو جائیں۔

سید مہدی برہم ہو جائیں گے یہ بھی تو میری خام خیالی ہی ہے آپ کی پہچان تو خوش دلی تھی حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں مشکلات کتنی ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہوں وہ کبھی بھی آپ کی مخصوص مسکراہٹ کو آپ سے چھین نہ سکیں آپ تو ڈانٹتے بھی ایسے تھے کہ پیار کا گمان ہوتا تھا مجھے کل کی طرح یاد ہے کہ ڈیسک پر جب میں نے پہلی خبر کی سرخی نکالی تو آپ نے مجھے تھپکی دی اور کہا تم تو مجھ سے بھی اچھی سرخی نکالتے ہو چھوٹے بھائی میں جانتا ہوں یہ جھوٹ تھا لیکن ان الفاظ نے مجھے جو حوصلہ دیا وہ آج تک نہیں بھول سکتا آپ لفظوں کے بادشاہ تھے پوری خبر کو چند لفظوں کی سرخی میں جس مہارت سے آپ پروتے تھے ایسا ہنر مند شاید قدرت نے ایک ہی پیدا کیا تھا ہمارے لفظ تو مصنوعی سے ہیں آپ کے لفظوں میں جان تھی وہ ہنستے تھے روتے تھے چھنگاڑتے تھے ایوان اقتدار میں زلزلہ برپا کر دیتے تھے۔

کسی کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچائے بغیر اصلاح آپ کا خاصہ تھا کس خوبصورتی سے اپنے زیر نگرانی کام کرنے والوں کی درستگی کرتے کہ چھوٹے بھائی سرخی تو تم نے کمال نکالی ہے لیکن اگر اس کو ایسے کر دو تو مزہ آ جاۓ گا۔

سید مہدی کے بارے میں لکھنے بیھٹوں تو یادوں کا ایک ہجوم مجھے گھیر لیتا ہے ان کو مرحوم لکھتے ہوئے آج بھی کلیجہ حلق کو آتا ہے وہ تو زندگی کی علامت تھے کیا زندگی خود بھی مر سکتی ہے؟ مجھے اکثر یوں لگتا ہے کہ وہ ہمارے آس پاس ہیں ابھی کسی نکڑ پر آمنا سامنا ہو گیا مجھے کان سے پکڑیں گے اور کہیں گے تم پھر ڈیسک سے بھاگ گئے چلو کام کرو اس رپورٹنگ میں کچھ نہیں رکھا۔کمرشل مارکیٹ راولپنڈی کے ایک چھوٹے فلیٹ سے گلگت بلتستان کیلئے ہفتہ وار اخبارات کا اجراء اور بعد میں سب سے مقبول علاقائی روزنامہ کی مسلسل اشاعت سے انہوں نے کارکن صحافیوں کیلئے ایک ایسی مثال چھوڑی ہے جس کا دامن پکڑ کر کامیابیوں کی نئی دنیا بسائی جا سکتی ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وسائل کی کمی اور دیگر مشکلات محنت اور لگن کے سامنے رائی جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتیں آخری فتح حوصلے اور جہد مسلسل کی ہوتی ہے۔

وہ بہت محنت کرتے تھے بیک وقت اپنے ادارے چلانا اور قومی اخبارات میں بھی کام کرنا بہت کھٹن ہے مجھے کل کی طرح یاد ہے ایک دن ان کی طبعیت کچھ بوجھل سی تھی میں ضد کر کے ان کو چائےپلانے لے گیا اور ان سے لڑنے لگا کہ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں اور انہیں چھیڑتے ہو کہا کہ اب آپ بوڑھے ہو گئے ہیں بابا جی آرام کیا کریں تھک جاتے ہیں جس سے طبعیت خراب رہنے لگی ہے انہوں نے گہری سانس لی اور کہا تم میرے بیٹے ہو میں تمہیں اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہوں ہم بہت پسماندہ علاقوں کے لوگ ہیں ہماری زندگیوں میں بدلاؤ اور انقلاب کا ایک ہی فارمولہ ہے تعلیم اور محنت دیکھنا ایک دن میرے بچوں کی کامیابی میری ساری تھکن دور کر دے گی آج جب میں ان کے بچوں سید ابرار ، سید اکرار، سید علی اور سیدہ ناجیہ زہرا کو اعلی سول عہدوں پر دیکھتا ہوں تو دل کو قرار ملتا ہے میرے بھائی بہنوں نے بابا کی تھکن اتار دی انہوں نے یہ ساری خوشیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اب وہ مٹی کی چادر اوڑھ کر آرام سے سو رہے ہیں۔

سابق وزیر داخلہ کرنل شجاع خان زادہ شہید میرے یار غار تھے سید مہدی کی طرح انہیں بھی میری صلاحتیوں پر بہت مان تھا پولیس اصلاحات کے حوالے سے ان دنوں ہم نے بہت کام کیا ان کی ذرہ نوازی تھی کہ میری تجاویز کو اہمیت دیتے اور مجھے اعلی سطحی میٹنگز میں بھی ساتھ رکھتے پولیس کی کسی اندرونی رقابت کے سبب سید علی کے حوالہ سے کچھ متنازعہ باتیں ان تک پہنچائی گئیں میں نے دو ٹوک لہجے میں انہیں کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے کرنل شجاع خان زادہ نے مجھ سے پوچھا کہ تم اتنے یقین سے کیسے کہہ رہے ہو میں نے کہا کیونکہ یہ سید مہدی کا بیٹا ہے جس طرح سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو سکتا اس طرح سید مہدی کی تربیت میں کمی نہیں ہو سکتی۔

سید مہدی کو ہم سے بچھڑے پانچ سال ہو گئے مجھے ہمیشہ یہ افسوس رہے گا کہ جب ان کا انتقال ہوا میں ملک سے باہر تھا میں ان کا آخری دیدار نہیں کرسکا لیکن یہ خبر ایسی تھی جیسے کسی نے کوہ ہمالیہ میرے سر پر گرا دیا ہو میرا وہ کندھا چھن گیا جس پر سر رکھ کر میں رو سکتا تھا میرا غم گسار چلا گیا میرا حوصلہ ہمت سب لمحوں میں چکنا چور ہوگیا اور اپنے اس محسن کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے میرے پاس کچھ بھی نہیں یہ چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہیں مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ بھی ان ہی کے سکھائے ہوئے ہیں. سچ تو یہ ہے کہ یہ بھی ان ہی کے سکھائے ہوئے ہیں ہائے یہ کیسا پت جھڑ آیا ہے کہ میرے سارے پیارے ایک ایک کر کے رخصت ہو رہے ہیں منو بھائی،عباس اطہر، مسعود ملک، الطاف قریشی سب چلے گئے اور سید مہدی بھی نہ رہے.

 

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا

ہم رہ گئے ہمارا زمانہ چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  92258
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
چولستان میں خشک سالی نے زندگی کو معدوم کرکے رکھ دیا ہے ۔66 لاکھ ایکٹرپر مشتمل یہ علاقہ رواں ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی بناء پر پانی کی شدید قلت سے دوچار ہے ۔یہاں چرند ،پرند ،جانور اور انسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
کہتے ہیں سیاست عبادت ہے‘ عوام کی خدمت سیاست کی معراج ہے‘ ہر کوئی جو سیاستدان ہے اسے عوامی خدمت کا جذبہ بے چین رکھتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے لئے محض اس بنا پر دن رات کوشاں رہتے ہیں
ہم جیسے لوگوں نے بھی عمران خان کی پوری تقریر سننے کی اذیت برداشت کی لیکن اس پہاڑ سے بھی آخر میں کاغذ کے ایک ٹکڑے کی صورت میں ایک چوہا ہی نکلا۔ وہ کبھی کاغذ کو جیب سے نکالتے اور کبھی واپس رکھتے۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ستی کی گفتگو سننے کے بعد میں نے ان سے درخواست کی۔ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو،لیکن کتاب کیا لکھوں کیا ہم نے کوئی قابلِ فخر کام کیا تھا جس پر کتاب لکھی جائے؟ صلاح الدین ستی نے جواب دیا۔

مقبول ترین
ملک بھر میں چودہ اگست کا آغاز ہوتے ہی 75 ویں آزادی کا جشن بھرپور عقیدت اور احترام سے منانے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور فضا قومی نعروں اور ملی نغموں سے گونج اٹھی ہے۔
لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیٹڈیم میں ’حقیقی آزادی‘ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں امریکا اور برطانیہ کو زیادہ تر پاکستانیوں سے بہتر جانتا ہوں، میں کسی ملک کا دشمن نہیں، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیش کش کردی۔ قوم سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آج محض ایک مبارکباد کافی نہیں، ہم ہرسال دھوم دھام سے یوم آزادی مناتےہیں، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا اور حققت یہ ہےکہ 75برس سے ان دنوں کو منایا ہے
سانحہ لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثہ و شہداء سے متعلق سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کی تحقیقات کے معاملے پر جوائنٹ انکوائری ٹیم کا دائرہ کار بڑھا کر انٹیلجنس ایجینسز کے دو افسران بھی ٹیم میں شامل کر لیے گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں