Saturday, 31 July, 2021
پی ایف یو جے کا بھوک مٹاؤ رقص

پی ایف یو جے کا بھوک مٹاؤ رقص
جاوید ملک / شب وروز

 

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے شہر کے سب سے مہنگے اور عالیشان ہوٹل میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔اس کی جیب میں ریزگاری ملا کر اتنے ہی پیسے بچے تھے کہ یک طرفہ کرایہ ادا کر کے ہوٹل پہنچ جاتا واپسی پر کسی سے لفٹ مل جاتی تو موجیں ہو جاتیں ورنہ جوتیاں چٹخانے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا۔پروگرام میں شرکت بھی بہت ضروری تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس کی نمائندہ تنظیم نے صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے یقیناً کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا ہوگا اس کے قائدین دن رات ان کی فکر میں گھلتے رہتے تھے اس لئیے انہیں تنہا چھوڑنا کوئی اچھی مثال ہر گز نہ تھی۔

ابھی چند روز قبل ہی اسے ملازمت سے برخواست کر دیا گیا تھا لیکن یہ کوئی انہونی بات نہیں تھی ہر سال دو سال بعد اسے اس حادثے کا شکار ہونا پڑتا تھا اور اب تو ایسی عادت ہوگئی تھی کہ ملازمت سے برخواستگی اور بجلی کا بل ادا نہ کر سکنے کے سبب کنکشن کا منقطع ہو جانا اسے ایک جیسا لگتا تھا جس نے سال میں ایک دو بار ضرور وقوع پذیر ہونا ہوتا تھا۔

ایک دور تھا کہ وہ بہت جوشیلا تھا جس اخبار میں بھی کام کرتا تھا پھڈے بناۓ رکھتا تھا مگر اب بالوں میں سفیدی چمکنے لگے تھے ہمت بھی پہلے جیسے نہیں تھی اور تیس سالہ خواری کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا اخباری مالکان کبھی خوشحال نہیں ہوتے ان کے گھروں میں مفلسی ہمیشہ بال کھولے سو رہی ہوتی ہے ہر حکومت کو ان سے خدا واسطے کا بیر ہوتا ہے وہ ان کا گلہ گھوٹتی ہی رہتی ہے سرکاری اشتہارات نہیں ملتے کاغذ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور وہ بے چارے دس دوسرے دھندے کرکے اپنے بچوں کے پیٹ پر لات مار کر اخباری کارکنان کی جیبیں بھرتے رہتے ہیں اس لئیے ان کو برا بھلا کہنا گنائے کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے یہ سارے کے سارے لوگ ایدھی جیسے مقام مرتبے منزلت کے حامل ہیں چنانچہ ان سے منہ ماری کرنے کے بجائے ان کا آداب بجا لانا چاہیے۔

میٹرو اسٹیشن کا آخری اسٹاپ بھی اس ہوٹل سے ذرا دور تھا وہ بس سے اتر کر خراماں خراماں ہوٹل کی طرف چل پڑا۔تھوڑی دیر میں سانس پھولنے لگا تو اسے اپنے موٹاپے کا احساس ہوا ایک بار پھر اپنے قائدین کیلئے اس کے دل میں تشکر کے جذبات جاگ اٹھے منتظمین نے یقیناً اس ہوٹل کا انتخاب اسی غرض سے کیا تھا کہ ویسے تو یہ چہل قدمی سے بھاگتا ہے اسی بہانے چار قدم چل لے گا تو صحت بھی درست رہے گی یہ اور بات کہ وہ جب ہوٹل پہنچا تو پسینے سے شرابور ہونے کی بناء پر تھوڑی سی خجالت ضرور محسوس کی لیکن جلد ہی پرجوش تقریروں میں اس کے پسینے کی بدبو کا احساس کہیں دب ہی گیا۔

اس کا سینہ فخر سے پھول گیا کیا عالیشان ہال میں اس کے مسائل کے حل کیلئے سارے قائدین نے اہتمام کیا تھا دبیز قالینوں میں پاؤں تو جیسے دھنسے چلے جا رہے تھے آرکسٹرا کی ہلکی سی دھن فضاء میں موسیقی کے رس گھول رہی تھی کس قدر سکون تھا سرور تھا جیسے کوئی حسینہ اپنی نازک نازک انگلیوں سے دل کے تاروں کو چھیڑ رہی ہو

ہر چیز سے نذاکت جھلک رہی تھی سلیقہ اور قرینہ اس قدر تھا کہ صاحب ثروت صحافی پہلی صف میں لگی کرسیوں پر تشریف فرما تھے اور اس جیسے فقروں کیلئے پیچھے کرسیاں لگائی گئی تھیں وہ اس اہتمام پر بھی عش عش کر اٹھا یعنی فقروں کی نمائندگی بھی ہوگئی اور مہمانوں پر صحافت کا اچھا تاثر بھی روشن ہوگیا۔

پی ایف یو جے کے قائدین اپنی تابناک تاریخ پیش کی جدوجہد کی کہانی کو کتابی شکل میں بھی ڈھالا گیا تھا اپنی قیادت کی لازوال قربانیوں کی داستان سن کر اس کی آنکھیں بھر آئیں ان تاریخی قربانیوں کے سامنے اسے اپنے مسائل بالکل بونے بونے دکھائی دے رہے تھے ضیافت کا نتظام مثالی تھی وہ پیٹ بھر کر کھانے کے چکر میں بھول ہی گیا کہ اسے ابھی اپنے قائدین کو بتانا ہے کہ گذشتہ سال اس کے نیشنل پریس کلب کی ممبر شپ سیاست کی نظر ہوگئی تھی اسے اپنے دوستوں نے ہی نامعلوم قرار دیا تھا وہ ابھی تک عدالتوں کے دھکے کھا رہا ہے اب تک کھانے کے بھی لالے ہیں کورٹ کچہری کے خرچے کون پورے کرے اس لئیے کوئٹہ سے لانگ مارچ اور اسلام آباد میں صحافتی دھرنے سے قبل اس کی ممبرشپ تو بحال کی جاۓ حکومت سے حقوق کیلئے لڑنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن جو حقوق آپ نے خود سلب کئے ہیں ان کا کیا بنے گا؟ 

اس کی کئی پرانے دوستوں سے ملاقات ہوگئی ایک دوست تو سال بھر کا بے روزگار تھا اس نے حال احوال پوچھا تو وہ دل جلا گنگنانے لگا

لگا کر آگ شہر کو بادشاہ نے کہا
اٹھا ہے دل میں آج تماشے کا شوق بہت
جھکا کر سر تبھی شاہ پرست بولے حضور
شوق سلامت رہے شہر اور بہت 

واپسی پر ایک دوست نے لفٹ بھی دے دی وہ بہت خوش تھا اجتجاجی پروگرام کے حوالہ سے پرجوش بھی بہت تھا بس فکر تھی تو اتنی کہ گلی کے نکل پر کریانے والے کی دوکان تھی دو ماہ سے ادھار نہیں چکا پایا تھا آج پھر کلو آٹا لینے کیلئے اسے بہت دیر جلی کٹی سننی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  7069
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
25 مئی 2020 امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے امریکہ بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی پولیس کے ایسے مظالم طویل عرصے سے جاری ہیں۔

مقبول ترین
- وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پاکستان پر بہت بڑا پریشر آئے گا، ہم دباؤ میں آنے کے بجائے عوام کی بہتری کے لیے فیصلے کریں گے۔ وزیراعظم نے یہ بات اسلام آباد میں اپنے زیر صدارت حکومتی رہنماؤں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب میں کہی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب لاکھوں امریکی و نیٹو فوجی افغانستان میں تھے تب طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے اب جب طالبان کو افغانستان میں فتح نظر آرہی ہے تو وہ ہماری بات کیوں سنیں گے۔ تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا رابطہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
افغانستان میں قیام امن اور خطے میں تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے پاکستان، امریکا، افغانستان اور ازبکستان پر مشتمل سفارتی پلیٹ فارم قائم کردیا گیا۔ امریکی دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق سفارتی پلیٹ فارم کا قیام تاشقند میں جاری سنٹرل اینڈ ساؤتھ ایشیا کانفرنس کے موقع پر عمل میں آیا۔
کروڑوں دلوں پر راج کرنے والے برصغیرکے مایہ ناز اداکار اوربالی ووڈ کے شہنشاہ جذبات اداکار دلیپ کمار 98 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انہوں نے 65 سے زائد فلموں میں لازوال کردار نبھائے۔ ایک اور عہد تمام، یوسف خان عرف دلیپ کمار خالق حقیقی سے جا ملے، وہ طویل عرصے سے ممبئی

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں