Saturday, 28 March, 2026
افغانستان میں انسانی بحران سے دہشتگردی کی نئی لہرجنم لےسکتی ہے، شاہ محمود قریشی

افغانستان میں انسانی بحران سے دہشتگردی کی نئی لہرجنم لےسکتی ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد - وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران کےپاکستان پراثرات مرتب ہوں گے ، بحران سے دہشت گردی کی نئی لہرجنم لےسکتی ہے۔

میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائےخارجہ کونسل اجلاس پر بیان میں کہا ہے کہ 19دسمبرکواو آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس منعقدکیاجارہا ہے، اس اجلاس کا واحد ایجنڈا افغانستان کی صورتحال ہوگا۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ابھرتاانسانی بحران سنگین صورتحال اختیارکرسکتاہے، افغانستان کامعاشی انہدام واضح دکھائی دےرہاہے، اس بحران سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوراخطہ متاثرہوگا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے ملاقاتوں میں افغانستان کی مخدوش صورتحال کی جانب توجہ دلائی، یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ سے افغانستان صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، بحران سےنہ صرف خطےکےممالک متاثرہوں گے بلکہ یورپ بھی متاثرہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج اقوام متحدہ، ورلڈبینک، آئی ایم ایف ہماری بات دہرارہےہیں، افغانستان میں کوئی بینکنگ نظام نہیں ہے، توجہ نہ دی گئی تو 2022 کے وسط تک 97 فیصد افغان سطح غربت سے نیچے ہوں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس وقت 95 فیصدافغانوں کے پاس کھانےکو کچھ نہیں ہے، ہم اپنی ذمہ داری نبھارہے ہیں لیکن پاکستان تنہا ذمہ داری نہیں اٹھاسکتا، افغانستان میں بارشیں نہیں ہوئیں قحط کی صورتحال ہے، ان کے پاس سرکاری ملازمین کودینے کے لیے تنخواہیں نہیں، فوری فیصلے نہ کیے گئے تو بڑا بحران آئے گا۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس مناسب ہوگا افغان اتھارٹیز کا نقطہ نظربھی سامنے رکھا جائے، پورا خطہ سردی کی لپیٹ میں آنےوالاہے، پاکستان کہتا آرہا ہے کہ افغانستان کا سیاسی حل تلاش کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کوباورکراناچاہتےہیں کہ افغانستان میں حالات بگڑرہے ہیں، دنیا کوافغانستان کےمعاملات میں فوری مداخلت کرنا ہوگی اور افغانستان کو انسانی بحران سے بچانا ہوگا۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں انسانی بحران کےپاکستان پراثرات مرتب ہونگے، 40لاکھ افغان مہاجرین کی آج بھی خدمت کررہےہیں، مزیدافغان مہاجرین کابوجھ اٹھانےکی استطاعت نہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ افغانستان میں انسانی بحران کا پڑوسیوں پر بھی اثر پڑے گا، دہشت گردی کی نئی لہرجنم لےسکتی ہے، وزیر اعظم عمران خان نے ہر فورم پر افغانستان کا معاملہ اٹھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارےہاں افغانستان کی صورتحال پرقومی اتفاق رائےموجودہے، انسانی بحران کےنتیجےمیں افغان مہاجرین کی ایک یلغارسامنےآ سکتی ہے، صورتحال خراب ہونے سے دہشت گردوں کو پنپنے کا موقع مل جائے گا اور دہشت گردی کےخلاف کی گئی کاوشیں ملیامیٹ ہوجائیں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  21467
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے پاک-بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی میڈیا کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اپنا فخر قرار دیا اور کہا کہ ہمارے میڈیا نے بھارتی میڈیا کو جو جواب دیا وہ یادگار ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا اقدام یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں جاسوسی کے لیے آنے والے 26 اسرائیلی ساختہ ڈرونز پاک فوج نے مار گرائے جبکہ دھماکے بھی سنے گئے، ان کارروائیوں کے دوران ڈرونز کا ملبہ گرنے سے 2 افراد شہید، 2 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
بھارتی فوج میں افسر کی جانب سے اپنے جوان کی کی بیوی سے جنسی زیادتی کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے۔ بھارتی فوج میں جنسی ہراسگی کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک بھارتی فوجی

مقبول ترین
عالمی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے قبل اس آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، لیکن یکم مارچ سے 25 مارچ تک یہاں سے صرف 116 جہاز گزرے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جبکہ بعض ‘ڈارک فلیٹ’ کے جہاز بھی شامل تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کا تعلق اعلیٰ سطح پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی نائب صدر اور اسرائیلی
وزیراعظم نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے پیش کی گئی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کر دی گئی، جس میں پیٹرول کی قیمت 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 203 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز شامل تھی۔
اجلاس میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے اور معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تیل و گیس کی عالمی قیمتوں کے اثرات اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں