![]() |
اسلام آباد (وحید اختر / خبرنگار خصوصی) پاک بحر یہ کے سربرا ہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کا عالمی یومِ بحر ہر سال 8 جون کو منایا جاتا ہے۔ چونکہ سمندر ہماری روزمرہ زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں لہٰذا سمندری وسائل کا پائیدار استعمال اور اُن کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ خصوصاً، زمین پر ہونے والی انسانی سرگرمیوں کا سمندروں اور اُن میں پائے جانے والے جانداروں کی زندگی پر براہِ راست اثر ہوتا ہے۔ عالمی یومِ بحر کا مقصد عوام الناس میں سمندروں اور اُن میں پائے جانے والے جاندار اور بے جان ذخائر کی حفاظت سے متعلق آگہی پیدا کرنا ہے تاکہ پائیدار سماجی ومعاشی ترقی کی راہ ہموار کی جاسکے۔ یہ دن ہمیں ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں سمندروں کو درپیش چیلنجز پر توجہ مرکوز کریں۔
ان خیالات کا اظہار نیول چیف نے عالمی یوم بحر 2022کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا، پاک بحر یہ کے سربرا ہ ایڈمر ل محمد امجد خان نیازی نے مزید کہا کہ عالمی یومِ بحر 2022 کے لیے اقوامِ متحدہ نے 'حیاتِ نو: سمندروں کے لیے مشترکہ کاوش'کا موضوع منتخب کیا ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ سمندروں اور اُن میں موجود ذخائر کی حفاظت اور حیاتِ نو کے لیے مل کر کام کرنے والے گروہوں، خیالات اور حل کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ ہمارے سمندروں کی حفاظت کے لیے جن اُمور پر کام کرنے کی ضرورت ہے وہ ماحولیاتی نظام، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف مزاحمت کو موثر کرنا ہیں۔ ہمیں ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سمندروں کے ساتھ ایک نیا توازن پیدا کیا جاسکے جس سے سمندروں کے ذخائر میں کمی نہ آئے بلکہ اُن کے تنوع میں اضافہ ہو اور اُن کو ایک نئی زندگی فراہم کی جاسکے۔
نیول چیف کا کہنا تھا کہ عالمی یومِ بحر کے موقع پر،ہم آلودگی، ماحولیاتی تبدیلیوں اور سمندری حیات کی بقا کو لاحق خطرات جیسے چیلنجز کو تسلیم کرتے ہیں جو کہ ہمارے سمندروں کی سالمیت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ جیسے جیسے سمندروں کو لاحق خطرات بڑھتے جارہے ہیں ویسے ہی اُن سے نبردآزما ہونے کے لیے منفرد حل کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ان بیش بہا سمندری ذخائر کو محفوظ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ایڈمر ل محمد امجد خان نیازی نے کہا کہ عالمی یومِ بحر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے، پاک بحریہ سمندری ذخائر کے تحفظ اور پائیدار استعمال کو عام کرنے کے لیے کلیدی کردار ادا کررہی ہے۔ اس سلسلے میں پاک بحریہ کی قابلِ ذکر کاوشوں میں ساحلوں کی صفائی، ہاربر ڈیبرس کلیکشن بارجز کی تعمیر، بڑے پیمانے پر مینگرووز کی شجرکاری، سمندر میں تیل کے اخراج سے ہونے والی آلودگی کو قابو کرنا اور سمندری آلودگی گھٹانے کے لیے مقامی و صنعتی کمیونٹی کے ساتھ روابط استوار کرکے فضلے کے اخراج کو کم کرنا شامل ہیں۔ سمندروں اور اُن کے ذخائر کے حوالے سے آگہی پیدا کرنے اور اس دن کو منانے کے لیے کئی تقریبات اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ کووڈ 19 کے مروجہ ضوابط کو مدِنظر رکھتے ہوئے تمام میرین برادری کی عملی اور معاون شرکت اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اس دن، ہم اپنے عزم اور ارادہ کی توثیق کرتے ہیں کہ ہم اپنے سمندروں کو پہنچنے والے نقصان کا سدِباب کریں گے اور انھیں مزید تباہی سے بچائیں گے۔ صرف مشترکہ کاوش سے ہی ہم روِ زمین پر زندگی کے اہم ترین اور بہترین سر چشمے 'سمندروں' کی بقا کو یقینی بنا سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ