Thursday, 16 April, 2026
عالمی برادری کا پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھرپور خراجِ تحسین

عالمی برادری کا پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھرپور خراجِ تحسین
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین

اسلام آباد - امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں پائیدار امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے بھی پاکستان کی ثالثی کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ امارات اپنی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے ایک بڑے تنازع سے محفوظ رہا ہے۔ انہوں نے پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی تعاون کو ناگزیر قرار دیا۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ یوویٹ کوپر نے جنگ بندی اور اسلام آباد میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا اور جہاز رانی کی بحالی عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ادھر چین کے دفترِ خارجہ نے بھی پاکستان کی کاوشوں کو 'قابلِ تعریف' قرار دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اپنا تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کو برادر ملک قرار دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ اس جنگ بندی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

قطر نے بھی اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔ عالمی رہنماؤں کے یہ بیانات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی نے خطے کو ایک ہولناک جنگ سے بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  39684
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اہم ترین مذاکرات کے پیشِ نظر حکومت نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 11 اپریل بروز ہفتہ کو بھی عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اس تعطیل کا اطلاق تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور دفاتر پر ہوگا، تاہم ایمرجنسی سروسز اور ہسپتال معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ صدارت جی ایچ کیو میں اہم کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملکی سلامتی، علاقائی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکا نے سعودی عرب کے پیٹرو کیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 'آپریشن غضب للحق' کی تازہ ترین تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس آپریشن میں اب تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے 796 دہشت گرد ہلاک جبکہ 1,043 زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں