Thursday, 23 April, 2026
حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان

حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان

اسلام آباد - وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے، پٹرول کی قیمتیں آج نہیں بڑھا رہے تاہم کسی بھی وقت دوبارہ تعین کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان ہمارے لئے بارودی سرنگیں بچھا کر گئے ہیں، عمران خان کی پالیسی اور نااہلی کی وجہ سےملکی معیشت شدیدخسارےمیں ہے۔ کاٹن اور دوسری زرعی اجناس درآمد کریں گے، چینی سستی دے رہے ہیں، مزید سستی کرنے کا کہہ دیا۔ 4 بلین ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کریں گے۔ چینی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں، اس سال 45 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑے گا۔زراعت کو ٹھیک نہ کر سکے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں گندم اور کھاد افغانستان میں سمگل ہوئی۔ کورونا کے دوران امداد اور قرض ادائیگی کے التوا سے گزشتہ حکومت کو فوائد ملے مگر عوام تک منتقل نہیں کئے گئے۔

 وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا اس پر عملدرآمد کے پابند ہیں،چند سالوں بعد پی آئی ڈی میں کانفرنس کر رہا ہوں، آج معیشت کے بارے میں بات کروں گا، 4 سال پہلے جب ہم نے حکومت چھوڑی گندم ایکسپورٹ کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے چینی ایکسپورٹ کی اور مہنگی امپورٹ بھی کی، اس سال پھر ہم گندم ایکسپورٹ کریں گے، گنا، گندم اور کپاس تینوں کی پیدوار ان کے دور میں کم ہوئی ہے، کیا فوڈ سیکیورٹی میں مشکوک افراد کو بٹھایا گیا ہے؟، ان کا کہنا تھا کہ کیا یوریا کی اسمگلنگ کرائی گئی ہے؟ یوریا کی اسمگلنگ میں بہت سے لوگ ملوث ہوتے ہیں، پنجاب حکومت کے بغیر یہ اسمگلنگ ممکن نہیں ہوتی، گندم بھی پاکستان سے اسمگل ہوئی، ہم زراعت کو ٹھیک نہ کر سکے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں تمام اشیاء کی پیداوار ہوئی ہے، فوڈ سیکیورٹی میں ایسے افسر لگائے گئے جو کرپشن میں ملوث ہیں، پنجاب حکومت کی مدد سے کھاد اور گندم اسمگل کی گئی، یہ ایف آئی اے کی رپورٹ آئی ہے جو عمران خان نیازی کی حکومت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹک میں کتنے پیسے دے کر افسران لگوا رہا تھا، گندم افغنستان اسمگل کروائی گئی، اگر ہم پاکستان میں زراعت کو ٹھیک نہیں کر سکتے تو ہم ترقی نہیں کر سکتے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس سال پاکستان کا امپورٹ ہے وہ 75 ملیں ڈالر ہے، گندم اس وقت بہت مہنگی ہے جب ہم گئے تھے آٹا 35 تھا اب اسی تک جا پہنچا ہے، ہم گھی پر بھی سبسڈی دے رہے ہیں، کرونا میں بہت نقصان ہوا لیکن اس کا پاکستان کو بھی فائدہ بھی ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ڈیڑھ ملین ڈالر ادا کئے، دنیا بھر سے بہت سارا پیسہ ملا، آخری وقت میں حکومت بچانے کے لئے تیل عمران نے سستا کیا، عمران خان اب تو بھنگڑے ڈال رہے ہیں لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ سب بگاڑ کر گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہاں ڈالر چھوڑا تھا اور اب ڈالر کہاں ملا ہمیں عوام خود دیکھ لیں، عمران خان کے علاوہ سب غدار ہیں، یہ کہتے ہیں ایکسپورٹ بڑھا ہے لیکن اس کے نتائج دیکھ لیں، پہلے سال 5 ملین کم تھا دوسرے سال بھی کم تھا اور تیسرے سال 25 فیصد بڑھا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب پیسوں سے سبسڈی دی وہ پیسے کہاں ہیں مجھے بھی بتا دیں، میں وزیر خزانہ آیا ہوں مجھح بتا دیں وہ ہیسے کہاں ہے؟ سبسڈی کے لئے جو فنڈز ہیں وہ بھی شہباز حکومت نے جاری کئے۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اے شوکت ترین وعدہ کر کے گئے تھے، ہم نے وعدے نہیں کئے تھے آئی ایم ایف سے، خان صاحب کہتے تھے نواز شریف کا شاہی خرچ ہے، لیکن عمران صاحب کا خرچہ تو اس سے بھی زیادہ تھا، انہوں خرچہ کم کیسے کیا؟

ان کا کہنا تھا کہ پہلے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ وزیر اعظم ہاؤس کے ساتھ چلتا تھا، اب اس کے اخراجات الگ ظاہر کئے جا رہے تو وزیر اعظم ہاؤس کا خرچہ کم ہو گیا، میں نے کہا تھا کہ پٹرول مسنوعات کی قیتمیں بڑھائی جائیں، لیکن وزیر اعظم مزید قیمتیں بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جو جو وعدے عمران خان نے کئے، وہ تمام وعدے ہمیں پورے کرنے پڑیں گے کیونکہ وہ وعدے وزیر اعظم پاکستان نے کئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  23852
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
بلوچستان میں پاک فوج کے لاپتہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا جس میں سوار کور کمانڈر کوئٹہ سمیت تمام 6 افسران و جوانوں کی شہادت کی تصدیق ہوگئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق گزشتہ روز بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں