Wednesday, 22 April, 2026
عوام کا اعتماد توڑنے والے اب اسمبلیاں توڑ رہے ہیں، وزیراعظم

عوام کا اعتماد توڑنے والے اب اسمبلیاں توڑ رہے ہیں، وزیراعظم

 اسلام آباد - وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے سیاسی استحکام کو بنیادی شرط قرار دے دیا۔ ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے وفاداری اور دوستی کا تقاضا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام ہو، کسی کی کوشش ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے تو ایسا نہیں ہوگا، نہ کرنے دیں گے، ان شاءاللہ۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی بنیادوں میں بارودی سرنگیں بچھانے والے اب سیاسی نظام کی بنیادوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی سازش کر رہے ہیں، جس طرح آئین کی طاقت سے ملک کو جھوٹی اور راشی حکومت سے نجات دلائی تھی، اب عوام کو روٹی، روزگار کی پریشانیوں سے نجات دلائیں گے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاسی شرپسند انتشار پھیلا کر دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ کریں اور سیلاب متاثرین اپنے گھروں میں آباد نہ ہوں، سیلاب متاثرین کو سردی، بھوک اور بیماری سے بچانے میں سیاسی شریروں کا کوئی حصہ نہیں، یہ سیاسی مطلب پرستی اور خودغرض ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار دلانے کے لئے سیاسی بے روزگاروں سے نجات لازم ہے، قوم کو سوچنا ہوگا کہ جب جب ملک معاشی ترقی کی طرف چلنا شروع ہوتا ہے تو فسادی لشکر کیوں متحرک ہوجاتا ہے؟، کوئی شک نہیں رہا، ایک ایجنڈے کے تحت معاشی تباہی کی گئی، سیاسی عدم استحکام بھی اسی کا تسلسل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا اعتماد توڑنے والے اب اسمبلیاں توڑ رہے ہیں، مقصد سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے، عوام کی حالت پر رحم کریں، مہنگائی، بے روزگاری کے عذاب سے انہیں نجات دلانا سیاست ہے، پاکستان سابق چار سال کی معاشی تباہی سے زہرناک مہنگائی کا شکار ہوا، عوام کی زندگیوں سے یہ زہر ختم کرنے دیں، رکاوٹیں مت کھڑی کریں، سیاسی استحکام اور میثاق معیشت ہی پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  98111
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے احکامات کے مطابق پشاور سمیت تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کر دی جائیں گی، جبکہ دیگر اضلاع میں بازاروں کو رات 8 بجے تک بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے مختلف حصوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری طوفانی بارشوں اور برف باری نے نظامِ زندگی درہم برہم کر دیا ہے۔ ملک کے مختلف صوبوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں کم از کم 43 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں بچوں
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں