![]() |
اسلام آباد - وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران شرکا نے پیکا آرڈیننس پر تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک کرائم پر آرڈیننس سے کسی کی عزت کو اچھالا نہیں جاسکے گا۔
وزیراعظم کی سربراہی میں پارٹی رہنماؤں اور ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا، اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی جوابی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔
میڈیا کے مطابق عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ’آل از ویل‘ کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، اب اپوزیشن سے بھی کہتا ہوں گھبرانا نہیں۔
وزیر اعظم نے وزراء کی ٹاک شوز میں عدم شرکت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اور وزرا کو ٹاک شوز میں جا کر حکومتی پالیسی کا دفاع کرنا چاہیے۔
میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت نے ذاتی کردار کشی کی مہم میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومتی شخصیات کی کردار کشی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس لانے سے کسی کی عزت کو اچھالا نہیں جا سکے گا، اجلاس میں شرکاء نے پیکا آرڈیننس پر تنقید کو بلاجواز قرار دے دیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اسلامی معاشرے کی عکاسی مغربی ممالک میں ملتی ہے، جان بوجھ کر پاکستان میں اخلاقیات کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
میڈیا کے مطابق اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ میں بیک وقت قانونی کاروائی شروع ہو گی، وزیراعظم نے گرین سگنل دے دیا۔ میڈیا کے مطابق اجلاس کے دوران دورہ روس سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ خطہ کی موجودہ صورتحال میں دورہ روس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، دورے سے پاکستان سمیت خطے پر اثر پڑے گا، روس اور پاکستان کے درمیان معاہدوں سے معاشی بہتری آئے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ