Friday, 24 April, 2026
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، پیکا آرڈیننس پر تنقید بلاجواز قرار

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، پیکا آرڈیننس پر تنقید بلاجواز قرار

اسلام آباد - وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارٹی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران شرکا نے پیکا آرڈیننس پر تنقید کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک کرائم پر آرڈیننس سے کسی کی عزت کو اچھالا نہیں جاسکے گا۔

وزیراعظم کی سربراہی میں پارٹی رہنماؤں اور ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران ملکی سیاسی معاشی صورتحال پر غور کیا گیا، اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کی جوابی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔

میڈیا کے مطابق عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ’آل از ویل‘ کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، اب اپوزیشن سے بھی کہتا ہوں گھبرانا نہیں۔

وزیر اعظم نے وزراء کی ٹاک شوز میں عدم شرکت کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ اور وزرا کو ٹاک شوز میں جا کر حکومتی پالیسی کا دفاع کرنا چاہیے۔

میڈیا کے مطابق وفاقی حکومت نے ذاتی کردار کشی کی مہم میں زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومتی شخصیات کی کردار کشی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں الیکٹرانک کرائم ایکٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آرڈیننس لانے سے کسی کی عزت کو اچھالا نہیں جا سکے گا، اجلاس میں شرکاء نے پیکا آرڈیننس پر تنقید کو بلاجواز قرار دے دیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اسلامی معاشرے کی عکاسی مغربی ممالک میں ملتی ہے، جان بوجھ کر پاکستان میں اخلاقیات کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

میڈیا کے مطابق اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ میں بیک وقت قانونی کاروائی شروع ہو گی، وزیراعظم نے گرین سگنل دے دیا۔ میڈیا کے مطابق اجلاس کے دوران دورہ روس سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ خطہ کی موجودہ صورتحال میں دورہ روس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، دورے سے پاکستان سمیت خطے پر اثر پڑے گا، روس اور پاکستان کے درمیان معاہدوں سے معاشی بہتری آئے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  95832
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے وفود نے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور دو طرفہ اہمیت کے حامل امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا پورا فائدہ عوام تک پہنچانا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس کمی کے بعد ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہو کر 385 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ایک ہفتے کے لیے کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری ہو چکا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
اقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں