Wednesday, 22 April, 2026
توشہ خانہ ریفرنس: الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دے دیا

توشہ خانہ ریفرنس: الیکشن کمیشن نے عمران خان کو نااہل قرار دے دیا

 اسلام آباد - الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی چئیرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کو نااہل قرار دے دیا، ان کی قومی اسمبلی کی نشست خالی قرار دے دی ساتھ ہی عمران خان کے خلاف فوج داری کارروائی شروع کرنے کا بھی حکم دے دیا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ سنادیا۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے جب کہ الیکشن کمیشن کا کمرہ عدالت صحافیوں، وکلاء اور پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد سے بھر گیا۔ رہنماؤں میں فواد چوہدری، اسد عمر، عمر ایوب، شاہ محمود قریشی، شیری مزاری، فیصل جاوید، ملیکہ بخاری و دیگر موجود تھے۔
اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن نے عمران خان کو توشہ خانہ ریفرنس میں اثاثے چھپانے کے جرم میں نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوج داری کارروائی کا حکم دے دیا۔ فیصلے کے بعد عمران خان رکن اسمبلی نہیں رہے اور الیکشن کمیشن نے ان کی قومی اسمبلی کی نشست بھی خالی قرار دے دی۔

الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ عمران خان کرپٹ پریکٹس میں ملوث رہے، جھوٹا اسٹیٹمنٹ جمع کرانے پر آرٹیکل 63 ون پی کے تحت انہیں نااہل قرار دیا جارہا ہے، ان کے خلاف فوج داری کارروائی شروع کی جائے۔

الیکشن کمیشن نے عمران خان کو مس ڈیکلریشن کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں غلط گوشوارے جمع کرائے اور ملنے والے تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کیے، انہوں نے سال 2018-19 میں تحائف کی فروخت سے حاصل رقم بھی ظاہر نہیں کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان کا پیش کردہ بینک ریکارڈ تحائف کی قیمت سے مطابقت نہیں رکھتا، انہوں نے اپنے جواب میں جو موقف اپنایا وہ مبہم تھا، انہوں نے مالی سال 2020-21 کے گوشواروں میں بھی حقائق چھپائے، جس کے نتیجے میں انہوں نے الیکشن ایکٹ کی دفعات 137، 167 اور 173 کی خلاف ورزی کی۔

عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی دستاویز کے مطابق عمران خان نے توشہ خانہ سے 14 کروڑ 20 لاکھ 42 ہزار روپے مالیت کے تحائف حاصل کیے۔

عمران خان نے ان تحائف کے 3 کروڑ 81 لاکھ 77 ہزار روپے ادا کیے اور 8 لاکھ مالیت کے تحائف کی ادائیگی نہیں کی۔ عمران خان کی اہلیہ نے 58 لاکھ 59 ہزار روپے کے ہار، بُندے، انگوٹھی اور کڑا 29 لاکھ 14 ہزار روپے وصول کیے جب کہ عمران خان نے گھڑی ،کف لنکس، پین، انگوٹھی 2کروڑ 27 لاکھ روپے دے کر حاصل کیے۔

ریفرنس دستاویز میں عمران خان کی حاصل کی گئی گھڑی کی اصل مالیت 8 کروڑ 50 لاکھ ،کف لنکس کی اصل مالیت 56 لاکھ روپے، پین کی اصل مالیت 15 لاکھ اور انگوٹھی کی اصل مالیت 87 لاکھ ہے۔

قبل ازیں الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کے پہنچنے یا ممکنہ ہنگامہ آرائی کے خدشے کے پیش نظر پورے علاقے اور خصوصاً عمارت کے ارد گرد سخت سکیورٹی تعینات کردی گئی تھی جب کہ نفری کے لیے آنسو گیس کے شیل سمیت دیگر ضروری سامان بھی پہنچا دیا گیا تھا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے لیے پولیس کے علاوہ ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے تھے۔

ممکنہ احتجاج پر قابو پانے کے لیے پورے اسلام آباد میں بھاری نفری الرٹ تھی۔ اسلام آباد پولیس نے توشہ خانہ ریفرنس کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں پی ٹی آئی کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی پلان بنایا تھا، جس کے مطابق ایکسپریس وے اور سری نگر ہائی وے سمیت پورے دارالحکومت میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ آئی جی اسلام آباد نےاعلیٰ افسران کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایت کی تھی۔

توشہ خانہ ریفرنس کیس کا پس منظر
اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے اگست کے اوائل میں توشہ خانہ کیس کی روشنی میں عمران خان کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

عمران خان کی جانب سے تحریری جواب:
آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بعد ازاں عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جس کے مطابق یکم اگست 2018ء سے 31 دسمبر 2021ء کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی، جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادائیگی کر کے خریدا تھا۔اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  23582
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی کھپت میں کمی لانے کے لیے کفایت شعاری کے ان اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس فیصلے کا اطلاق آج 7 اپریل سے پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں فوری طور پر ہوگا۔
الیکشن التوا کیس میں سپریم کورٹ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قمر زمان کائرہ اور مریم اورنگزیب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کفایت شعاری کی پالیسی دی جا رہی ہے، اس سلسلے میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں سیکرٹری پاور، وزیر دفاع سمیت 10 وزرا شامل ہیں۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں