Sunday, 28 June, 2026
سپریم کورٹ کا پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم

سپریم کورٹ کا پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم

 اسلام آباد - الیکشن التوا کیس میں سپریم کورٹ نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کا 22 مارچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرانے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ آئین الیکشن کمیشن کو 90 دن سے آگے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ عدالت نے 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 مارچ کو غیر قانونی حکم جاری کیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کا 30 اپریل کو پنجاب میں انتخابات کا شیڈول ترمیم کے ساتھ بحال کردیا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو 10 اپریل تک فنڈز مہیا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی نگراں حکومت، چیف سیکرٹری اور آئی جی 10 اپریل تک الیکشن کی سکیورٹی کا مکمل پلان پیش کریں۔ وفاقی حکومت کو 21 ارب جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔اگر وفاقی اور نگراں حکومت نے الیکشن کمیشن کی معاونت نہ کی تو کمیشن سپریم کورٹ کو آگاہ کرے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں الیکشن شیڈول دے دیا، جس کے مطابق کاغذات نامزدگی 10 اپریل تک جمع کیے جائیں گے۔ اپیل فائل کرنے کی آخری تاریخ 17 اپریل ہوگی اور اپیلوں پر نظرثانی 18 اپریل تک ہوگی۔ امیدواروں کی حتمی فہرست 19 اپریل کو جاری کی جائے گی۔ امیدواروں کو الیکشن نشانات 20 اپریل کو جاری کیے جائیں گے۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ 11 اپریل کو الیکشن کمیشن فنڈز وصولی کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔ الیکشن کمیشن کی رپورٹ بینچ ممبران کے چیمبر میں دی جائے گی۔ فنڈز جاری نہ ہوئے تو عدالت رپورٹ کی روشنی میں مناسب حکم جاری کرے گی۔ حکومت پنجاب آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل تعاون کرے گی۔

پہلے مرحلے میں پنجاب میں الیکشن کے لیے فنڈز فراہم کیے جائی۔ نگراں حکومت، آئی جی، چیف سیکرٹری پنجاب سکیورٹی فراہمی یقینی بنائیں۔ وفاقی حکومت الیکشن کے انعقاد کے لیے ہرممکن سہولیات فراہم کرے۔ پنجاب میں اضافی سکیورٹی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انتخابات کا منصفانہ اور شفاف انعقاد یقینی بنایا جائے۔

سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ عدالت میں دیگرمعاملات کوبھی اٹھایا گیا۔ عدالتی کارروائی چلانے سے 2 ججز نےمعذرت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جو فیصلہ کیا، اس کا ہمارے بینچ پر کوئی اثر نہیں۔ خیبرپختونخوا میں الیکشن کا معاملہ الگ سے دیکھا جائے گا۔عدالت کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

قبل ازیں انتخابات التوا کیس کے سلسلے میں وزارت دفاع نے سربمہر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔اٹارنی جنرل اور وزارت دفاع کے حکام کی جانب سے سکیورٹی اہل کاروں کی دستیابی سے متعلق سربمہر رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کی گئی۔چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال، جسٹس منیب اختر اور جسٹس اعجاز الاحسن نے چیمبر میں رپورٹ کا جائزہ لیا۔

سپریم کورٹ نے انتخابات التوا کیس میں گزشتہ روز اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جو کہ آج سنا دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے گزشتہ روز سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ لوگ من پسند ججز سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ روز انتخابات التوا کیس کی سماعت میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا بھی کی تھی۔

آج سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان سپریم کورٹ پہنچے۔ بعد ازاں وزیراعظم کے معاونین خصوصی ملک احمد خان اور عطا تارڑ سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ میں اہم کیس کی سماعت کے سلسلے میں اندر اورباہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ شاہراہ دستور کی حفاظت رینجرز اور ایف سی کے سپرد کی گئی تھی جب کہ سپریم کورٹ کی سکیورٹی پراسلام آباد پولیس اورایف سی اہلکار مامور کیے گئے تھے۔

آج سماعت کا آغاز ہوا تو بینچ کے تینوں ارکان نے معمول کے مقدمات کی سماعتیں مکمل کیں۔ چیف جسٹس، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر الگ الگ بنچز میں تھے ۔ تینوں ججز معمول کے مقدمات کی سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنے چیمبرز میں پہنچے۔

بعد ازاں وزارت دفاع نے سکیورٹی اہلکاروں کی دستیابی سے متعلق رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کردی۔تینوں ججز رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد الیکشن سے متعلق فیصلہ تحریر کیا۔ اہم کیس کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کے اندر اور باہر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات مکمل کیے گئے تھے۔ اس موقع پر پولیس، رینجرز اور ایف سی کے اہل کار تعینات کیے گئے جب کہ غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگا عائد تھی۔ عام شہریوں کو ان کے کیس سے متعلق کاغذات کی تصدیق کے بعد اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  24487
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں