Wednesday, 13 May, 2026
پاک فوج کی کابل اور ننگرہار میں کارروائیاں، عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا گیا

پاک فوج کی کابل اور ننگرہار میں کارروائیاں، عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا گیا

راولپنڈی - پاک افواج نے کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان فوجی کی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو تباہ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملے کے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا ، افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کا ڈرگ ہسپتال کو نشانہ بنانے کا بیان مضحکہ خیز ہے ۔

ننگر ہار میں کاروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے چار مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا ، ننگر ہار میں فضائی کاروائیوں کے دوران ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک ، ایمونیشن، ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا ، آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

وزارت اطلاعات نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کابل اور ننگزہارمیں کی تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ وگولہ بارود کے گودام پر کارروائی کی گئی جس دوران 16مارچ کی شب افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی فوجی تنصیبات اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کی جانب سے اہداف کا تعین انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق نشانہ بننےوالی تنصیب کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا حقائق مسخ کرنے کی کوشش ہے،اس کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کی غیرقانونی سرپرستی کو چھپا کر جذبات بھڑکانا ہے،افغان طالبان رجیم کے نام نہادترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس اور عوام کو گمراہ کرنا ہے،حملے کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے بھی جھوٹے دعوے کی مکمل تردید کرتے ہیں،یہ بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کے باعث مسترد کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف افغان حکام نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کے فضائی حملے کے بعد شہری ہلاکتوں اور بڑی تعداد میں زخمیوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے- طالبان حکومت کا دعویٰ ہے یہ حملہ منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے مرکز پر کیا گیا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے ایکس پر لکھا کہ ہسپتال کو پیر کے روز نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کچھ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔

جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  19114
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایک طرف جہاں پاکستان کی ثالثی سے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل نے لبنان پر حملوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں میں 254 لبنانی شہری شہید ہو گئے ہیں،
امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے اسے خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کے بعد بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے پر آ گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاک افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں