Friday, 17 April, 2026
یورپی یونین نے 73 روسی سفارتکاروں کو بےدخل کردیا

یورپی یونین نے 73 روسی سفارتکاروں کو بےدخل کردیا


 ماسکو - یوکرین جنگ کے ردِعمل میں یورپی ممالک اٹلی، ڈنمارک، سویڈن اور اسپین نے کُل 73 روسی سفارتکاروں کو ملک سے بےدخل کردیا ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے اس اقدام پر کریملن کے ترجمان ڈمتری پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ متعدد یورپی ممالک سے روسی سفارت کاروں کی اس وسیع پیمانے پر بے دخلی ایک تنگ نظری کا ثبوت ہے جو ہمارے اور اُن کے درمیان مواصلات کو پیچیدہ بنا دے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کا یہ فیصلہ لامحالہ انتقامی اقدامات کا باعث بنے گا۔

ہسپانوی وزیر خارجہ ہوزے مینوئل الباریس نے بتایا کہ ان کا ملک 25 روسی سفارت کاروں کو بےدخل کر رہا ہے جو ملکی مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

سویڈن کے وزیر خارجہ این لِنڈے کے مطابق جاسوسی کے الزام میں تین روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کیا جائے گا۔

اسی طرح اٹلی کے وزیر خارجہ لوئیگی ڈی مایو نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک نے قومی سلامتی کے پیش نظر 30 روسی سفیروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔ دوسری جانب ڈنمارک نے کہا کہ اُس نے خود کو سفارت کار ظاہر کرنے والے 15 روسی انٹیلی جنس افسران کو ملک چھوڑنے کے لیے 14 دن کی مہلت دی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  54790
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔
امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیخلاف جنگ میں مدد نہ کرنے والے یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ملکوں کو سیکھنا پڑے گا کہ اپنی خاطر لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے
ایران کی ملٹری سینٹرل آپریشنل کمانڈ "خاتم الانبیاء" نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے ایک ڈپو کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ممکن ہے، تاہم یہ مذاکرات مخصوص شرائط پر منحصر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اس وقت مذاکرات کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں