Saturday, 30 May, 2026
چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکا دفاع کرے گا، صدر بائیڈن

چین نے تائیوان پر حملہ کیا تو امریکا دفاع کرے گا، صدر بائیڈن

 ٹوکیو - امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اگر چین نے تائیوان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو امریکا عسکری طاقت کے ساتھ دفاع کرے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدارت کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد ایشیاء کے پہلے دورے پر جو بائیڈن کی جانب سے تائیوان کی حمایت میں یہ سخت بیان پیر کے روز ٹوکیو میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں دیا گیا۔

صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ روس کے یوکرین پر بلا اشتعال حملے کے بعد اس خود مختار جزیرے کی حفاظت کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے تائیوان کے خلاف کی جانے والی کوئی بھی کوشش مناسب نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کا کوئی حملہ پورے خطے کو متاثر کرے گا اور یہ صورتحال بالکل یوکرین کے مماثل ہوگی۔

جاپان کے دارالحکومت میں دیئے جانے والے بیان کے بعد امریکا کی تائیوان کے حوالے سے موجودہ مبہم اسٹریٹیجک پالیسی میں وضاحت سامنے آئی ہے۔

اس سے قبل امریکا نے تائیوان کی حکومت کی حمایت کرنے کا وعدہ تو کیا ہے لیکن یہ بات واضح نہیں تھی کہ اگر تائیوان پر حملہ کر دیا جاتا ہے تو امریکا کا کیا ردِ عمل ہوگا۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ امریکا ’ون چائنا پالیسی‘ کو مانتا ہے جس کا مطلب ہے کہ چین کے ساتھ صرف رسمی سفارتی تعلقات ہیں جبکہ تائیوان کے ساتھ غیر رسمی بات چیت جاری رہتی ہے۔

دوسری جانب بیجنگ ’ون چائنا پرنسپل‘ کو مانتا ہے جس کے مطابق چین ایک ایسی اکائی ہے جس میں تمام متنازع خطے، بشمول تائیوان، شامل ہوتے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کچھ عرصہ پہلے تائیوان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور اس مقصد کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔

تائیوان کے مطابق چین کی جانب سے گزشتہ برس سے عسکری سرگرمیوں میں شدت لائی گئی ہے۔ تائیوان نے چین کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے قرار دیا ہے تاکہ تائیوان خود کو چین کے ساتھ ضم کر لے۔ واضح رہے جنگِ عظیم دوم کے بعد سے تائیوان کا وجود بطور خود مختار ریاست رہا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  66517
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔
امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیخلاف جنگ میں مدد نہ کرنے والے یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ملکوں کو سیکھنا پڑے گا کہ اپنی خاطر لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے
ایران کی ملٹری سینٹرل آپریشنل کمانڈ "خاتم الانبیاء" نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے ایک ڈپو کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت ممکن ہے، تاہم یہ مذاکرات مخصوص شرائط پر منحصر ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اس وقت مذاکرات کے لیے بے تاب دکھائی دیتا ہے

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں