Tuesday, 26 May, 2026
کینیڈا انتخابات: وزیراعظم مارک کارنی نے لبرل پارٹی کی کامیابی کا اعلان کردیا

کینیڈا انتخابات: وزیراعظم مارک کارنی نے لبرل پارٹی کی کامیابی کا اعلان کردیا

اوٹاوا - کینیڈا کے عام انتخابات میں لبرل پارٹی کی جانب سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم مارک کارنی نے انتخابات میں لبرل پارٹی کی کامیابی کا اعلان کردیا۔

کینیڈا میں پارلیمانی انتخابات پر ووٹنگ صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک جاری رہی جس میں شہریوں نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

کینیڈا کے وزیراعظم اور لبرل پارٹی کے امیدوار مارک کارنی اور کنزرویٹو پارٹی کے پیئر پولی ایو میں کانٹے کا مقابلہ متوقع تھا۔

انتخابات میں لبرل پارٹی کی جانب سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے بعد وزیراعظم مارک کارنی نے انتخابات میں لبرل پارٹی کی کامیابی کا اعلان کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ پارلیمینٹ میں تمام جماعتوں کے ساتھ تعمیری کام کرنے کے لیے پرامید ہیں، دو خودمختار ممالک کے درمیان مستقبل کے اقتصادی اور سیکورٹی تعلقات پر بات چیت کے لیے ٹرمپ کے ساتھ بیٹھیں گے۔

دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ نے پیئر پولی ایو نے لبرل پارٹی کے رہ نما مارک کارنی کوانتخابات میں کامیابی پرمبارک باد دی ہے۔

پارلیمانی انتخابات میں لبرل پارٹی کو برتری حاصل :

خبر رساں ایجنسی کے مطابق متعدد میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی لبرل پارٹی نے کینیڈا کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔

پبلک براڈکاسٹر سی بی سی اور سی ٹی وی نیوز دونوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لبرل پارٹی کینیڈا کی اگلی حکومت تشکیل دے گی تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہوئی ہے یا نہیں۔

اب تک کے نتائج کے مطابق لیبرپارٹی کے114 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور 48 نشستوں پربرتری حاصل ہے جب کہ کنزرویٹو پارٹی کے106 امیدوار کامیاب ہوچکے ہیں جب کہ 43 نشستوں پربرتری حاصل ہے۔

اس کے علاوہ بلاک کیوبک کے 19 اور این ڈی پی کے 2 امیدواروں نے اب تک کامیابی سمیٹی ہے۔

واضح رہے 343 کےایوان میں اکثریت حاصل کرنےکیلئےکسی بھی پارٹی کو 172 نشستیں درکارہوں گی۔

یاد رہے کہ الیکشن سے پہلے لبرلز کے پاس 152 اور کنزرویٹوز کے پاس 120 نشستیں تھیں جب کہ Bloc Québécois کے پاس 33 اور این ڈی پی کے پاس 24 نشستیں تھیں۔

یہ الیکشن ایسے وقت ہوئے ہیں جب صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا پر عائد ٹیرف ووٹرز کے ذہنوں پر سوار ہے۔ساتھ ہی شہری علاقوں میں گھروں کی قیمتیں زیادہ ہونا ،بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد ہونا اور ہیلتھ کئیر تک لوگوں کی رسائی میں دشواری سمیت دیگر اشوز بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبزول کیے ہوئےہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  85895
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
صدر ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکہ کی 'سو فیصد کامیابی' قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس جنگ بندی کے نتیجے میں ایران کے یورینیم ذخائر کو اب مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس اہم سفارتی پیش رفت میں چین کے کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد فراہم کی۔
امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کیخلاف جنگ میں مدد نہ کرنے والے یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ ملکوں کو سیکھنا پڑے گا کہ اپنی خاطر لڑائی کیسے لڑی جاتی ہے
ایران کی ملٹری سینٹرل آپریشنل کمانڈ "خاتم الانبیاء" نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے یوکرین کے اینٹی ڈرون سسٹم کے ایک ڈپو کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔

مقبول ترین
ایران نے لبنان میں جنگ بندی کے بعد اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کے لیے بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے اور جنگ بندی کے دوران یہ راستہ بغیر کسی رکاوٹ کے کھلا رہے گا۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں