Wednesday, 15 April, 2026
ٹی ٹی پی کا امارت اسلامیہ افغانستان سے کوئی تعلق نہیں، افغان طالبان

ٹی ٹی پی  کا امارت اسلامیہ افغانستان سے کوئی تعلق نہیں، افغان طالبان

کابل ۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے تحریک طالبان پاکستان کے امارت اسلامیہ افغانستان سے وابستگی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنظیم سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔

امارت اسلامیہ افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے عرب نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ نہ تو تحریک طالبان پاکستان کا افغانستان کی طالبان حکومت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ہمارے مقاصد یکساں ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور ہم دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ ہم ٹی ٹی پی کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پاکستان میں امن اور استحکام پر توجہ دیں۔ ان کے لیے سب سے اہم بات ملک دشمنوں کے خطے اور پاکستان میں مداخلت سے روکنا ہونا چاہیئے۔

ترجمان طالبان نے یہ بھی کہا کہ ہم پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ خطے اور پاکستان کی بہتری کے لیے ٹی پی پی کے مطالبات پر غور کرے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں انھیں یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹی ٹی پی امارت اسلامیہ افغانستان کا ہی ایک حصہ ہیں۔

ایک ماہ قبل طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے دونوں فریقوں کی خواہش پر پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی ٹی آر ٹی کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مختلف دھڑوں سے بات چیت جاری ہے۔

ایک ہفتے قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان مکمل سیز فائر پر آمادہ ہو چکے ہیں تاہم مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی۔

دوسری جانب دو روز قبل جنگ بندی کی معیاد کے اختتام پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے توسیع سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے چھ نکاتی معاہدے کی تفصیلات بھی بتائیں جس میں یکم نومبر سے 30 نومبر تک جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  11043
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
امریکہ کے ساتھ انتہائی اہم مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ نور خان ایئر بیس پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا کی جانب سے ایرانی موقف کو غلط رنگ میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کی وہ سختی سے تردید کرتے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاہم انہیں غیرمناسب قرار دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار نہیں دے سکتا کہ وہ جنگ کے خاتمے کا وقت مقرر کریں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے، اس جنگ کو صہیونی حکومت اور امریکا واسرائیل نے بھڑکایا ہے، اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں