Thursday, 16 April, 2026
افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے، طالبان کابل میں داخل

افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ گئے، طالبان کابل میں داخل

کابل . افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور نیٹو سے ہنگامی رابطے کئے۔ صدر غنی کی تاجکستان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑا۔

 

افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر اشرف غنی کے استعفیٰ دینے کا معاملہ طے پا گیا ہے۔ عبوری حکومت کے قیام سے متعلق معاہدہ طے پانے کے بعد اشرف غنی استعفیٰ دے دیں گے۔ افغان حکومت کا وفد طالبان سے مذاکرات کے لیے دوحہ جائے گا۔ وفد میں یونس قانونی، احمد ولی مسعود اور محمد محقق بھی شامل ہونگے۔

خیال رہے کہ آج ہی افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر قوم کے نام ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جو لوٹ مار یا انتشار کا سوچے گا، اس سے بزور طاقت نمٹا جائے گا، ہم اسے بہترین انداز میں سرانجام دینگے کیونکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔

 

قائم مقام افغان وزیر داخلہ عبدالستار میرز کوال نے کہا ہے کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کا معاہدہ طے پا گیا ہے، افغانستان میں اقتدار پرامن طور پرعبوری حکومت کو منتقل ہو گا۔

 

افغان میڈیا کے مطابق طالبان کو اقتدار کی منتقلی کیلئےافغان صدارتی محل میں مذاکرات جاری ہیں، علی احمدجلالی کونئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔ عبداللہ عبداللہ معاملےمیں ثالث کا کردارادا کر رہے ہیں۔

 

طالبان نے افغانستان کے تمام بارڈرز کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ جنگ کے ذریعے کابل میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں ہے، جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔

 

طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

 

یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کو دارالحکومت میں داخلے کے دوران قابل ذکر مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جنگجووں کی آمد کی اطلاعات پر افغان شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ، کابل یونیورسٹی سے طالبات گھروں کو جا چکی ہیں، عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

 

طالبان صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں بھی داخل ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی قبضہ ہو گیا ہے۔ زابل کے گورنر نے طالبان کے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ صوبہ دایکندی کے دارالحکومت نیلی پر طالبان نے بغیر لڑے قبضہ کر لیا ہے۔ افغان فوجیوں کی بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں سمیت پناہ کے لئے ایران جانے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔

 

امریکی اور برطانوی سفارتی عملے کا کابل سے انخلا کا عمل جاری ہے۔ دیگر ممالک کی جانب سے بھی افغانستان سے شہریوں کی واپسی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ روس نے کابل سے اپنے سفارتی عملے کو واپس نہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ترجمان روسی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کابل میں ماسکو کے سفیر سے رابطے میں ہیں، سفارتی عملے کی واپسی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی میڈٰیا اسے اہم فیصلہ قرار دے رہا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان جنگجوؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے نگرانی جاری رکھی جائے گی۔

 

کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں، ترجمان طالبان

ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں، اقتدار پرامن طریقے سے منتقل کیا جائے گا، سب کودعوت دیتے ہیں، آئیں مل کر افغانستان کی خدمت کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئےعام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کوخوش آمدید کہیں گے جو بد عنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اعلیٰ سطح کی مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اہم معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

بروز پیر مورخہ 16 اگست کو بلائے گئے اجلاس میں خطے خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں سول اور عسکری قیادت شرکت کرے گی۔

خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر افغانستان کی سیاسی قیادت پاکستان پہنچ گئی ہے۔ افغان سپیکر میر رحمان رحمانی بھی وفد میں شامل ہیں۔ خصوصی نمائندہ افغانستان محمد صادق نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

میڈیا کے مطابق افغان وفد میں محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیاء مسعود، احمد ولی مسعود، عبداللطیف پیدرام اور خالد نور بھی شامل ہیں۔ افغان سیاسی رہنما افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد کی صورتحال پر ملاقاتیں کریں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  22836
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران اپنے قائد اور دیگر شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لینے کے لیے پُرعزم ہے۔ سرکاری ٹی وی پر پڑھے گئے اپنے تحریری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اس جنگ میں دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے اور حتمی فتح ایران ہی کی ہے۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور میناب اسکول کے بچوں کے چہلم کے موقع پر تہران سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ جمعرات کی صبح شروع ہونے والی مرکزی ریلی تہران کے جمہوری اسکوائر سے اس مقام تک نکالی گئی جہاں آیت اللہ خامنہ ای نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی افواج ہر لمحہ الرٹ ہیں اور ان کی "انگلیاں اب بھی ٹریگر پر" موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لبنان پر جاری وحشیانہ اسرائیلی حملے حالیہ جنگ بندی کے معاہدے اور پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے متوقع مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل ماجد خادمی امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ سرکاری اور عسکری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ میجر جنرل ماجد خادمی آج صبح ہونے والی ایک کارروائی کا نشانہ بنے۔

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں