Thursday, 16 April, 2026
حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کردیا

حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 30 روپے کا اضافہ کردیا


 اسلام آباد - وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 29 روپے سے زائد اضافہ کردیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وزیرخزانہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود کافی نقصان ہورہا تھا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہے کیونکہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس کی وجہ سے مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں جس کے باعث ہم بھی اضافے پر مجبور ہیں، پندرہ جون کو اوگرا کی سمری آتی ہے تو اس سے قومی خزانے میں مزید نقصان بڑھ جائے گا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں:
انہوں نے پیٹرول کی قیمت 30 روپے اضافے کے بعد 209 روپے 86 پیسے فی لیٹر، ڈیزل 204.15 روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل 178 روپے 03 پیسے جبکہ مٹی کا تیل 181.94 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا، جس پر دو جون کی رات 12 بجے سے اطلاق شروع ہوجائے گا۔

وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سستے پیٹرول کی اسکیم شروع کی ہے، جس سے ایک کروڑ چالیس ہزار لوگوں کو دو ہزار روپے ماہانہ دیا جارہا ہے، اس مد میں 28 ارب روپے دیے جائیں گے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ریلیف پیکج کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی ستر روپے فی کلو اور آٹا 40 روپے کلو ملے گا جبکہ چاول، دالوں گھی کی سبسڈی کچھ عرصہ مزید چلے گی مگر چینی اور آٹے کی سبسڈی پورا سال چلے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب دی جانے والی ایمنسٹی اسکیم بھی دو جون سے ختم ہوگئی ہے، جون میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ آئی ایم ایف بجٹ کو بھی دیکھ رہا ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بات چیت ہورہی ہے،  آئی ایم ایف کی ہر بات نہیں مان سکتے ہیں مگر کچھ مشکل باتیں ماننا بھی پڑتی ہیں، شوکت ترین نے جو آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس سے زیادہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کسی بھی خبر سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ علاوہ ازیں آپ بھی اپنا کالم، بلاگ، مضمون یا کوئی خبر info@mubassir.com پر ای میل کر سکتے ہیں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  42655
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کے اطلاق کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 458 روپے 40 پیسے، جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جنوری 2026 سے نئے ٹیرف میں فکسڈ چارجز کو لوڈ کی بنیاد پر عائد کرنے کی منظوری دی۔ اس سے قبل یہ چارجز ماہانہ بجلی کی کھپت کے مطابق وصول کیے جاتے تھے۔
ملک بھر میں بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے خوشخبری ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 1 روپے 83 پیسے کی کمی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا اطلاق
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس کے نرخ نئی تاریخ ساز سطح پر پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق امریکا کی تجارتی جنگ اور دنیا بھر کے سینٹرل بینکس کا اپنے زخائر بڑھانے

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں