Sunday, 24 October, 2021
بے سمجھے پڑھی جانے والی اکلوتی کتاب

بے سمجھے پڑھی جانے والی اکلوتی کتاب
تحریر: سید ثاقب اکبر

 

آپ کسی سے پوچھیں کہ کیا آپ نے ’’بانگ درا‘‘ پڑھی ہے؟ اگر وہ کہے کہ ہاں تو آپ یقیناً یہی سمجھیں گے کہ اس نے ضرور غوروفکر کرکے، کچھ نہ کچھ سمجھ کر پڑھی ہے۔ آپ نے بھی پڑھ رکھی ہو تو اس کی مختلف نظموں، علامہ اقبال کے زور کلام، مشکلاتِ کلام، پیغام، تبدیلی افکار وغیرہ کے موضوعات پر آپ آپس میں تبادلۂ خیال بھی کرسکتے ہیں۔ یہی حال دیگر موضوعات پر پڑھی جانے والی کتابوں کا ہے۔

            شاید دنیا میں’’قرآن‘‘ ایک عجیب ومنفرد کتاب ہے جسے ہر روز کروڑوں افراد بے سمجھے پڑھتے ہیں اوربہت سارے پڑھتے ہوئے اسے سمجھنے کا سوچتے بھی نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑھ کو لوگ مطمئن بھی ہوتے اور اپنے تئیں ثواب کا مستحق بھی سمجھتے ہیں۔ آخرت میں کسی چیز اور کسی کام کا اجر دینا یا کسی کام کو اجر کا مستحق نہ سمجھنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے،اس پر حکم لگانا ہم جیسے اُس کے ادنیٰ بندے کا کام نہیں لیکن ہم نے قرآن حکیم کوجس قدر سمجھنے کی کوشش کی ہے اُس کے مطابق یہ قرآن کے ساتھ بے انصافی ہے کہ اُسے بے سمجھے پڑھا جائے۔

            ’’قرآن‘‘ کا لفظی معنی ہے ’’ کثرت سے پڑھا جانے والا‘‘۔ اہل ادب کی زبان میں کہا جائے تو ’’قرآن‘‘ مبالغے کاصیغہ ہے اوراس کا معنی وہی ہے جو ہم نے عرض کردیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پڑھے بغیر سمجھنے کی نوبت نہیں آتی۔ پڑھناسمجھنے کے لئے مقدمے اورتمہید کی حیثیت رکھتا ہے۔ سمجھنے کے لئے پڑھنا ضروری ہے۔’’قرآن‘‘ کے لئے یہ نام خود قرآن نے انتخاب کیا ہے۔ مثلاً ارشاد ہوتا ہے:

یٰسٓo والقرآن الحکیم۔(۱)

یسین،قسم ہے قرآن حکیم کی ۔

            راقم کی نظر میں اسے اوّل روز سے ’’قرآن‘‘ کہنا گویا اس امر کی پیش گوئی تھی کہ اسے کثرت سے پڑھا جائے گا۔ واقعاً یہ پیش گوئی  حرف بحرف پوری ہوئی۔ اسے قرآن حکیم کا ایک اعجاز ہی سمجھا جائے گا کہ اس کے نازل کرنے والے نے جو نام اختیار کیا وہ معنی کے لحاظ سے بھی سچ ثابت ہوا۔ جیسے حضرت عبدالمطلبؑ نبی کریمؐ کی ولادت کے بعد جب آپؐ کو اپنی گود میں اٹھا کر خوشی خوشی خانہ کعبہ میں لے کر آئے تو وہاں موجود لوگوں نے اپنے بزرگ سردار سے پوچھا کہ آپ نے اپنے پوتے کا کیا نام رکھا ہے تو حضرت عبدالمطلب نے فرمایا: ’’محمد‘‘ ۔لوگوں نے یہ نام رکھنے کی وجہ پوچھی تو فرمایا: مجھے توقع ہے اس مولود کی بہت تعریف کی جائے گی۔ ’’محمد‘‘ کا معنی ہے جس کی بہت تعریف کی جائے اور واقعاً تاریخ نے ثابت کیا کہ آنحضرتؐ کے دادا بزرگوار کی پیش گوئی مُوبہ مُو درست ثابت ہوئی۔

            لہٰذا یہ بات تو درست ہے کہ قرآن حکیم کو کثرت سے پڑھا جانا چاہیے لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر اہم ہے کہ اس آسمانی کتاب کا ہم سے کیا رشتہ ہے۔ قرآن حکیم خود فرماتا ہے:

الٓمّo ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ  فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ۔(۲)

ا ل م، یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں اور یہ پرہیز گاروں کے لئے ہدایت ہے۔

            اس کا ترجمہ یوں بھی کیا جاسکتا ہے:

ا ل م، یہ وہ کتاب ہے جس کے بارے میں شک نہیں کہ یہ پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے۔

            اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب ہماری ہدایت اور راہنمائی کے لئے نازل کی گئی ہے۔ یہ زندگی کی اونچ نیچ میں ہماری راہنمائی کرتی ہے۔ یہ دوراہوں اورچوراہوں پر ہمیں ہماری منزل کے راستے کی ہدایت کرتی ہے۔ کیا ٹریفک کے قوانین پر مبنی کتاب سمجھے بغیر پڑھ لی جائے تو ہم گاڑی ان قوانین کے مطابق چلالیں گے؟ اسی طرح سڑک کے اوپر راہنمائی کے بورڈ سمجھے بغیر پڑھ لئے جائیں تو ہم یقینی طور پر قانون شکنی سے بچ پائیں گے اور راستہ معلوم نہ ہو تو کیا راہنمائی کے بورڈ سمجھے بغیر پڑھ کر ہم منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے؟ یقینی طور پر اس طرح سے ہمارے گمراہ ہوجانے کا شدید اندیشہ ہے۔

            قرآن اپنے بارے میں کہتا ہے۔

ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَ الْفُرْقَانِ۔(۳)

یہ انسانوں کے لئے ہدایت ، اس میں ہدایت کی روشن نشانیاں ہیں اور یہ حق وباطل میں تمیز کرتا ہے۔

            آیت کے مفہوم پر نظرکیجئے اورسوچیے کہ قرآن نے اپنے نزول کا جو مقصد بتایا ہے اور اپنے بارے میں اس کا جو دعویٰ ہے کیا ہم اسے سمجھے بغیر پا سکتے ہیں اورآزما سکتے ہیں؟

            حیرت ناک بات یہ ہے کہ قرآن خود اپنے متن اورعبارت پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر غوروفکر نہ کرنے والوں کی مذمت کرتا ہے۔ مثلاً فرماتا ہے:

 اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا ۔(۴)

کیا وہ قرآن پر تدبر اورغوروفکر نہیں کرتے یا پھر ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں؟

            گویا قرآن کی طرف بڑھنے کے مراحل یہ ہیں:

                        پڑھنا

                        سمجھنا

                        غوروفکرکرنا

            ظاہر ہے کہ غوروفکر کے نتیجے میں انسان کو قرآنی ہدایت پر عمل کرنا ہے اور یہی باقی تمام مراحل کا حقیقی مقصد ہے۔ پڑھنے، سمجھنے اور غوروفکر کرنے سے انسان اورمعاشرہ منقلب نہ ہو تو پھر تمام سعی لاحاصل ہے۔

            قرآن حکیم کی ایک اورآیت ہمارے زیر بحث موضوع میں بڑی مددگار ہے۔سورہ فرقان کے آخر میں رحمان کے بندوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔اُن میں سے ایک نشانی یہ ہے:

وَالَّذِیْنَ اِِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْہَا صُمًّا وَّعُمْیَانًا۔(۵)

 جن انھیں ان کے پروردگار کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ ان پر بہرے اوراندھے ہوکر نہیں پڑتے۔

            ’’آیاتِ رب‘‘ کا یہاں جو بھی معنی کیا جائے قرآن حکیم اوراس کی آیات کا واضح اوربارزمصداق ہیں۔

            گویا قرآن حکیم نہیں چاہتا کہ اُسے طوطے کی طرح رٹ لیا جائے، ٹیپ ریکارڈر کی طرح سنا دیا جائے اور کمپیوٹر کی طرح آیات کا پتہ بتا دیا جائے۔ قرآن کی آرزو ہے کہ مومن اس پر غور وفکر کرے اور اس سے اندھوں بہروں کا سا سلوک نہ کرے۔

            قرآن نے اپنے لئے جو القاب اور دیگر نام اختیار کیے ہیں وہ بھی بڑے معنی خیز اور ہمارے مطلب تک رسائی میں نہایت کار آمد ہیں۔ مثلاً قرآن اپنے آپ کو’’ حکیم‘‘ کہتا ہے۔ یعنی بڑی حکمت والا۔ حکمت گہرے معانی ومطالب کے معنی میں ہے۔گویا قرآن ظاہری معانی سے بڑھ کر اپنے اندر حکمت ودانش کے خزانے سمیٹے ہوئے ہے۔ کیا صرف پڑھ لینے سے اور وہ بھی مطلب سمجھے بغیر، انسان ان خزانوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟ اسی طرح قرآن اپنے آپ کو’’مجید‘‘ یعنی بہت بزرگی والا کہتا ہے۔ سورہ ق اور سورہ بروج میں قرآن کی یہ صفت آئی ہے۔

            قرآن نے اپنے آپ کو’’ذکر‘‘ بھی کہا ہے۔ ’’ذکر‘‘یاد آوری اور توجہ کے معنی میں ہے۔ قرآن واسلام کے جن الفاظ اوراصطلاحات کے معانی ومفاہیم ہمارے ہاں دگر گوں ہوگئے ہیں ان میں’’ذکر‘‘ بھی شامل ہے۔ ذکر کا حقیقی معنی بھی قرآن کو سمجھنے اوراس پر غوروفکر کا متقاضی ہے۔

            قرآن نے اپنے آپ کو ’’فرقان‘‘ بھی کہا ہے۔ گذشتہ سطور میں ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ اس کا معنی ہے ’’فرق کرنے والا‘‘ یا’’تمیز دینے والا‘‘ اوراس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حق وباطل میں فرق واضح کرتا ہے۔اس کی مدد سے ہم حق وباطل میں امتیاز کرسکتے ہیں۔ یہ صفت بھی ہمیں قرآن حکیم کو سمجھ کر پڑھنے کی دعوت دیتی ہے۔

            افسوس کہ بعض احادیث وروایات کے معانی پر غوروفکر نہ کرنے نے بہت سے فکری الجھائو پیدا کردیے ہیں جو بالآخر قرآنی مطالب سے دوری کا باعث ہوا ہے اورنتیجۃً پورا مسلمان معاشرہ روبہ زوال ہوگیا اورشاید کمال کی طرف ایک حقیقی اوراجتماعی سفر ابھی شروع نہیں ہے۔

            مشہور روایت ہے کہ قرآن حکیم کے ایک حرف کی ادائیگی سے دس نیکیاں ملتی ہیں۔’’الٓمّ ‘‘ تین حروف ہیں، انھیں ادا کرنے سے تیس نیکیاں ملیں گی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ بس قرآن کے حروف جوڑ کر پڑھنا سیکھ لیں اور پھر نیکیوں کے ڈھیر لگا لیں۔

            اس روایت کی سند سے قطع نظر اس کی درستی کو فرض کرتے ہوئے ہم چند پہلوئوں پر غوروفکر کی دعوت دیتے ہیں:

            (i) جب یہ بات عربی جاننے والوں اور قرآن کا مطلب سمجھنے والوں سے کہی جارہی تھی تو یہ امرواضح تھا کہ وہ اسے سمجھ کر پڑھیں گے۔

            (ii) جیسا کہ ہم نے کہا ہے، اصولی طور پر کوئی سمجھ دار آدمی یہ فرض ہی نہیں کرسکتا کہ پڑھنے کا مطلب ہے بے سمجھے پڑھنا۔یہ نادانی اورکج فہمی ہے کہ ہم بے سمجھے پڑھنے کو درست جانیں۔

            (iii)اس ایک اور روایت کا اگر یہ مطلب لے لیا جائے کہ مطلب ومعنی سمجھے بغیر پڑھنے سے ثواب ملتا ہے تو کیا یہ ایک روایت قرآن کی مذکورہ بالا اور دیگر ہم مقصد آیات کو کالعدم قرار دینے کے لئے کافی ہے؟ یعنی قرآن تو بار بار سمجھنے اور غوروفکر کرنے کی دعوت دے رہا ہو اور غوروفکر نہ کرنے والوں کی مذمت کررہا ہو اورہم مذکورہ روایت کے اپنے فہم (یا کج فہمی) سے یہ سمجھتے رہیں کہ ہم بے سمجھے پڑھ کر نیکیاں سمیٹ رہے ہیں۔ قرآن حکیم کے بارے میں علمائے اسلام بالعموم اس اصول پر اتفاق کرچکے ہیں کہ حدیث کی صحت کو پرکھنے اورحدیث کا معنی متعین کرنے کے لئے قرآن معیار کی حیثیت رکھتا ہے اور قرآن سے ٹکرانے والی حدیث صحیح نہیں ہوسکتی، اُسے دیوار پر دے مارا جائے گا۔ البتہ زیر بحث روایت کا معنی صحیح طور پر سمجھا جائے تویہ قرآن حکیم کے مطالعے کے لئے تشویق وترغیب کا کام دیتی ہے نہ یہ کہ قرآن حکیم کی واضح تعلیمات سے متصادم ہے۔

            (iv) ذخیرہ احادیث میں ایسی بہت سی روایات موجود جو قرآن حکیم پر غوروفکر کرنے، اسے سمجھ کر پڑھنے اوراس پر عمل کرنے پر زور دیتی ہیں۔ زیر بحث حدیث کے معنی کا تعین ان احادیث کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ امیرالمومنین حضرت علیؑ اس سلسلے میں ہماری راہنمائی کرتے ہیں:

قرآن اچھائیوں کا حکم دینے والا، برائیوں سے روکنے والا(بظاہر) خاموش اور(بباطن) گویا اور مخلوقات پر اللہ کی حجت ہے کہ جس پر عمل کرنے کااُس نے اپنے بندوں سے عہد لیا ہے اوران کے نفسوں کواس کاپابند بنایا ہے۔ اس کے نور کو کامل اوراس کے ذریعے سے دین کو مکمل کیا ہے اورنبی کواس حالت میں دنیا سے اٹھایا ہے کہ وہ لوگوں کو قرآن کے ایسے احکام کی تبلیغ کرکے فارغ ہوچکے تھے کہ جو ہدایت ورستگاری کا سبب ہیں۔(۶)

            عام مسلمان اور عام قاری جو عرب نہیں ہے اورآیات پڑھ کر اُس کا مطلب نہیں سمجھ پاتا، یہ سوال کر سکتا ہے کہ وہ قرآن کوکیسے سمجھے۔ ہم عرض کریں گے کہ قرآن حکیم کا ترجمہ دنیا کی تمام زندہ زبانوں میں ہوچکا ہے بلکہ ہر زبان میں بہت سے ترجمے موجود ہیں۔ علاوہ ازیں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ترجمے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ قرآن کے ابتدائی طالب علم کے لئے یہ نہایت مفید ہوتے ہیں۔ ہر شخص اپنے ذوق کے مترجم کا انتخاب کر سکتاہے۔ قرآن حکیم حواشی اور تفاسیر کے بغیر صرف ترجمے سے بھی بہت تاثیر گزار،اثرانگیز اورمفید ہوتا ہے۔ جوں جوں دلچسپی بڑھتی جائے انسان تفاسیر کی طرف رجوع کرسکتا ہے۔

            یہ عذر قابل قبول نہیں ہونا چاہیے کہ ترجمہ پڑھنے کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ عام طورپر ایک شخص قرآن حکیم کی تلاوت کے لئے جتنا وقت دیتا ہے وہی وقت نصف نصف تقسیم کرلیا جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب مسلمان قرآن حکیم کھولتے ہی نہ ہوں اورانھوں نے گھر میں اسے حفظ جان ومال کے تعویذ کے طور پر رکھ رکھا ہو۔

            علاوہ ازیں ہمارے ہاں قرآن کی خدمت کرنے والے ایسے بہت سے ادارے اور افراد ہیں جنھوںنے اردو دان طبقے کے لئے آسانی سے قرآن حکیم سمجھنے کے لئے مختلف طریقے متعارف کروائے ہیں۔ ان طریقوں میں سے جس کی طرف میلان پیدا ہوجائے اُسے اختیار کرنا چاہیے۔

            پوری دنیا میں مسلمان حفظِ قرآن پر بہت زوردیتے ہیں اورحافظِ قرآن کا ہمارے معاشرے میں بہت احترام ہے۔ قاریٔ قرآن اورحافظِ قرآن کا احترام لائق ستائش ہے لیکن یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ قرأت بے سمجھے کرتے رہنا جس طرح قرآن کے حقیقی مقاصد سے دور رہنے کا سبب ہے اسی طرح حفظِ قرآن کا حقیقی معنی قرآن کے معارف ومقاصد کی حفاظت ہے۔ اصل عبارت کی حفاظت بہت ضروری ہے لیکن عبارت والفاظ کی حفاظت دراصل مفاہیم ومقاصد کی حفاظت کے لئے ہے۔

حکیم الامت علامہ اقبال کہتے ہیں:

گر تو می خواہی مسلمان زیستن

نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن (۷)

            اگر تم مسلمان کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو یہ قرآن کے ساتھ جینے کے بغیر ممکن نہیں۔

            یعنی قرآن کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہیے۔ قرآن ہمارا اوڑھنا بچھونا ہونا چاہیے ہماری زندگی قرآنی تعلیمات کی عکاس ہونی چاہیے۔

            نماز تراویح کے نتیجے میں عالم اسلام میں قرآن پاک کے لاکھوں حفاظ پیدا ہوئے ہیں۔ لاکھوں مساجد میں ہر سال یہ حفاظ پورے قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ نماز تراویح نے ضرورت پیدا کردی ہے کہ حفظ قرآن کے ہزاروں ادارے پوری دنیا میں موجود ہیں لیکن نماز تراویح میں شرکت کرنے والے کروڑوں مسلمان اپنے آپ سے سوال کریں کہ جس تیز رفتاری سے نماز تراویح میں قرآنی عبارات پڑھی جارہی ہوتی ہیں اس کا عملی نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ مسلمانوں کے اہل درد کو اس صورتِ حال کا جائزہ ضرور لیناچاہیے اور قرآن سے بہتر استفادے کی تدابیر پرغورکرنا چاہیے۔

            یہی قرآن ہے جو صدر اسلام میں انسان کی بیداری، ان کے درمیان تفرق وانتشار کے خاتمے، دور غلامی سے نجات، عدالتِ اجتماعی کے قیام، اخوتِ انسانی کے پیغام کی تشہیر اورمجموعی طورپر مسلمانوں کے لئے عزت وشوکت کا ذریعہ بن گیا اورآج لاکھوں حفاظ، کروڑوں قاریوں، حفظ وقرآت کے ہزاروں اداروں، طرح طرح کی خوبصورت اشاعتوں کے باوجود تنزل سے ہماری نجات کا ذریعہ نہیں بن رہا۔ اتنے بڑے اور ہمہ گیر انسانی اوراسلامی المیے پر غوروفکر کی نوبت کب آئے گی؟ ہماری رائے ہے کہ قرآن پر غوروفکر کے بغیر یہ نوبت نہیں آسکتی۔ انسانی معاشرے کے کمال وارتقا کا یہ آخری محفوظ نسخہ ہے۔ اس نسخے کو سنبھال کر رکھنے، بے سمجھے رٹ لینے اورچومنے سے ہمارے درد کا مداوا نہیں ہوسکتا۔ اس نسخہ شفا پر عمل کیے بغیر چارہ نہیں۔ امیرالمومنین امام علیؑ فرماتے ہیں:

جان لو کہ قرآن کی تعلیمات کے بعد کسی اورلائحہ عمل کی احتیاج نہیں رہتی اور نہ کوئی قرآن سے(کچھ سیکھنے) سے پہلے اس سے بے نیاز ہوسکتا ہے۔ اس سے اپنی بیماریوں کی شفا چاہو اوراپنی مصیبتوں پر اس سے مدد مانگو۔ اس میں کفرونفاق اور ہلاکت وگمراہی جیسی بڑی بڑی مرضوں کی شفا پائی جاتی ہے۔(۸)

            یہی وجہ ہے کہ شرف انسانیت فخر موجودات رحمتِ عالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ۔(۹)

تم میں سے بہترین وہ ہے جوقرآن سیکھے اوردوسروں کو سکھائے۔

            سطور بالا کے مطالعے کے بعد اس میں شک نہیں رہنا چاہیے کہ قرآن سیکھنے اور سکھانے کا صحیح مفہوم کیا ہے۔ قرآن کی تعلیم حاصل کرنے اورقرآن کی تعلیم دینے کا واضح مقصد قرآن حکیم تو سمجھ کر پڑھنا، پھراس کی ہدایت کی روشنی میں زندگی بسر کرنا اوراس ہدایت کی طرف باقی انسانیت کو دعوت دینا ہے۔

            مسلمانوں کے وسائل لوٹنے والی استعماری قوتیں ہرگز نہیں چاہتیں کہ مسلمان قرآن پر غور شروع کردیں اور اپنی کھوئی ہوئی حیثیت کو پالیں۔ حکیم الامت علامہ اقبال اس سلسلے میں ابلیس کی زبان سے ابلیسی منصوبوں کو عمدگی سے بیان کرتے ہیں۔ چند شعر ملاحظہ کیجئے:

جانتا ہوں میں یہ امت حاصلِ قرآن نہیں

ہے وہی سرمایہ داری بندہ مومن کا دیں

 جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں

بے یدِبیضا ہے پیرانِ حرم کی آستیں

 عصرِ حاضر کے تقاضائوں سے ہے لیکن یہ خوف

ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبرؐ کہیں

 

کیا مسلماں کے لئے کافی نہیں اس دور میں

یہ الٰہیات کے ترشے ہوئے لات و منات

ہر نفس ڈرتا ہوں اس امّت کی بیداری سے میں

ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات

مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے (۱۰)

 

حواشی

۱۔         یٰسٓ(۳۶:۱،۲)

۲۔         البقرہ(۲:۱،۲)

۳۔         بقرہ(۲:۱۸۵)

۴۔         محمد(۴۷:۲۴)

۵۔         الفرقان(۲۵:۷۳)

۶۔         نہج البلاغہ، خطبہ نمبر۱۸۱،(امامیہ کتب خانہ ،لاہور،سنہ ندارد)،ص:۴۸۲

۷۔         محمد اقبال ،کلیات اقبال فارسی،(شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور،فروری ۱۹۷۳ء)ص:۱۲۳

۸۔         نہج البلاغہ، خطبہ نمبر۱۷۴،(امامیہ کتب خانہ ،لاہور،سنہ ندارد)ص:۴۶۰

۹۔         محمدی، الری شہری:میزان الحکمۃ،(مکتب الاعلام الاسلامی، ایران،۱۳۶۷ء)ج: ۸،ص:۷۳

۱۰۔       محمد اقبال ،کلیات اقبال اردو، ارمغان حجاز،نظم:ابلیس کی مجلس شوریٰ،(ادارہ اہل قلم، علامہ اقبال ٹائون، لاہور،دسمبر۲۰۰۵)ص: ۱۷تا۲۰

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  26641
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے شہر کے سب سے مہنگے اور عالیشان ہوٹل میں ایک پروگرام کا اہتمام کیا تھا۔اس کی جیب میں ریزگاری ملا کر اتنے ہی پیسے بچے تھے کہ یک طرفہ کرایہ ادا کر کے ہوٹل پہنچ جاتا واپسی پر کسی سے لفٹ مل جاتی تو موجیں ہو جاتیں

مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں