Friday, 17 April, 2026
جنرل ستی، دیرآید درست آید

جنرل ستی، دیرآید درست آید
اعزاز سید کا کالم

 

جنرل صاحب آپ نے تاریخ کو قریب سے دیکھا ہے، 12اکتوبر1999ءکے واقعات آپ کوآج بھی یاد ہیں ، آپ کو کتاب لکھنی چاہئے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ستی کی گفتگو سننے کے بعد میں نے ان سے درخواست کی۔ بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو،لیکن کتاب کیا لکھوں کیا ہم نے کوئی قابلِ فخر کام کیا تھا جس پر کتاب لکھی جائے؟ صلاح الدین ستی نے جواب دیا۔ وہ اپنے اقدام پرنادم تھے۔

ستی فوج کے وہ واحد افسر ہیں جنہوں نے اس وقت 111 بریگیڈ کمانڈر کی حیثیت سے 12 اکتوبر 1999کی آئینی بغاوت کے منصوبے پر عملدرآمد کیا۔ بعد میں وہ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے اور پیپلزپارٹی کے دور میں انہیں برونائی میں سفیر بھی مقرر کیا گیا۔

عرض کی کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ واقعی کسی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنا کوئی اچھی بات نہیں تو کیا یہ کتاب لکھنے کی دلیل نہیں ہے؟جو آپ لکھیں گے وہ ایک تجربے کی روشنی میں ہوگا۔ لوگ آپ کی بات کو مستقبل میں حوالے کے طور پر استعمال کریں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین ستی میری باتوں سے متفق مگر باضابطہ انٹرویو دینے یا کتاب لکھنے کے بارے میں کوئی وعدہ کرنے سے گریزاں تھے۔ یہ 14 اکتوبر 2014ء کو ستی صاحب کے راولپنڈی ڈی ایچ اے میں واقع گھر میں ہونے والی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔ صلاح الدین ستی بریگیڈئیر کی حیثیت سے کارگل میں اہم ذمہ داریاں ادا کرچکے تھے اور اس وقت کے کور کمانڈر راولپنڈی جنرل محمود احمد کے قریبی تھے اسی لئے انہیں کارگل کے بعد راولپنڈی کے ٹرپل ون بریگیڈ میں تعینات کیا گیا تھا۔

ستی صاحب نے اس ملاقات میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں 12 اکتوبر 1999 ءکے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع تھی نہ اس کے بارے میں کوئی ہدایات دی گئی تھیں۔ یہ حسن اتفاق ہی تھا کہ ستی بھی اسی تاریخ یعنی 12 اکتوبر 1952 کو پیدا ہوئے تھے اور47 سال کی عمر میں 12 اکتوبر 1999 کو انہیں ایک بڑے امتحان کا سامنا تھا۔ مجھے ستی صاحب کے الفاظ آج بھی نہیں بھولتے، بولے’’ میں ایک ایسے ہینگ مین (جلاد )کی طرح تھا جس نے صرف حکم کی بجا آوری کی، اگر میں کمانڈ کا حکم نہ مانتا تو اس وقت فوج کا میر جعفر و میر صادق بن جاتا ۔

انہوں نے بتایا کہ اس شام ان کے گھر پر ختم شریف کے دوران ان کا بیٹا ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ ٹیلی وژن پر جنرل مشرف کو برطرف کرکے ان کی جگہ جنرل ضیاالدین کو تعینات کرنے کی خبر چل رہی ہے۔ ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ شاید یہ مذاق کررہا ہے لیکن پھر فوری میں نے اس کی بات کو سنجیدہ لیا کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میرا بیٹا جنرل مشرف کا نام تو جانتا ہے لیکن جنرل ضیاالدین کا نام نہیں جانتا۔

اس کے بعد بریگیڈئیرصلاح الدین ستی فوری فون کی طرف لپکے اور راولپنڈی کے کور کمانڈر جنرل محمود کے گھر فون کیا جنکی سخت مزاج اہلیہ کو انکا دفتری اوقات سے ہٹ کر فون کرنا پسند نہ آیا تاہم انہوں نے معاملے کی اہمیت کے پیش نظر جنرل محمود کو یہ پیغام پہنچا ہی دیا۔ محمود گالف کھیل رہے تھے اور انہوں نے ادھر سے ہی ستی کو فون پر ضروری ہدایات دیں۔

میں نے پوچھا ستی صاحب آپ نے حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے کتنے فوجی بھیجے تھے۔ بولے فوجی بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وزیراعظم ہاؤس پر سکیورٹی کے لیے تعینات فوجی پہلے ہی کام کرچکے تھے باقی ہمارے فوجی تو اس وقت گئے جب کور کمانڈرجنرل محمود احمد اور اس وقت کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل علی محمد جان اورکزئی وہاں گئے۔ ان کی بات سن کر مجھے خیال آیا کہ ملک میں مارشل لا لگنا اس وقت بند ہوجائیں گے جب ہمارے وزرائے اعظم اپنی سکیورٹی کا انحصار پولیس پر کرنا شروع کردیں گے، دیگر بہت سی وجوہات میں سے یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

12 اکتوبر 1999ء کو جب فوجیوں کا دستہ وزیراعظم ہاؤس پہنچا تو اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے تعینات کیے گئے آرمی چیف جنرل ضیا الدین خواجہ نے بھی وزیراعظم ہاؤس سے بظاہر آخری کوشش کے طور پر ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر صلاح الدین ستی کو فون کیا اور کہا، یہ کس کے جوان وزیراعظم ہاؤس آئے ہیں؟ جس پر ستی نے جواب دیا، سر یہ جوان کور کمانڈر صاحب کے حکم پر بھیجے گئے ہیں۔ نئے آرمی چیف نے ستی کو کہا، بیٹا آپ کہاں ہیں؟ سر میں آس پاس ہی ہوں، ستی نے گول مول جواب دیا۔ کیا آپ مجھے مل سکتے ہیں؟ جنرل ضیاالدین نے ستی سے کہا جس پر ستی نے کہا کہ میں اپنے باس سے پوچھنے کے بعد آپ سے رابطہ کروں گا۔

ظاہر ہے ستی نے جنرل ضیا الدین سے رابطہ نہیں کرنا تھا سو نہ کیا۔ پوچھا آپ خود وزیراعظم ہاؤس کیوں نہ گئے تو ستی بولے کہ وہاں جانے کی ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ افسروں و جوانوں نے تمام مطلوبہ کام احسن انداز میں خود سرانجام دے دیا تھا۔

14 اکتوبر2014 کو ان کی باتیں ان کا نام لیے بغیر شائع نہ کرنے پر اتفاق ہوا مگر بعد ازاں انہوں نے ایسا کرنے سے مجھے روک دیا۔ صحافتی اخلاقیات کا تقاضا بھی یہی تھا کہ یہ گفتگو شائع نہ کی جاتی تاہم اب 7 برس بعد صلاح الدین ستی صاحب نے ہمت کرکے اردو نیوز کے سینئر اور کہنہ مشق صحافی وسیم عباسی کو انٹرویو دیا، تو مجھے خوشی ہوئی کہ جنرل صاحب نے چپ کا روزہ توڑا۔

مثالی بات تو یہ ہوتی کہ ستی اس وقت غیرآئینی اقدام پر عمل کرنے سے انکار کرتے، اپنے نئے آرمی چیف سے ملاقات کرلیتے یا پھر وقت پر سچ بولتے ۔ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا لیکن بہرحال دیر آید درست آید۔ جس کے لیے واقعی ہمت اور اخلاقی جرأت چاہیے ہوتی ہے۔ پاکستان میں سچ بولنے والوں کی ہی کمی ہے۔ جب تک سچ بولنے والے سامنے نہیں آئیں گے مسائل کی نشاندہی ہوگی نہ ان کا حل۔ جنرل صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے دیر سے ہی سہی سچ تو بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

 
 
اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  96402
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ایران سے زیادہ امریکی اور اسرائیلی ضرورت تھی مگر یہ جنگ بندی قائم نہیں رہ پائے گی - امریکہ، اسرائیل اور مغربی ممالک دوبارہ ایران پر حملہ آور ہوں گے مگر اسکے لئے کوئی نیا راستہ اختیار کریں گے اور پہلے سے ذیادہ تیاری اور شدت سے ایران کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے-
کہتے ہیں سیاست عبادت ہے‘ عوام کی خدمت سیاست کی معراج ہے‘ ہر کوئی جو سیاستدان ہے اسے عوامی خدمت کا جذبہ بے چین رکھتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے لئے محض اس بنا پر دن رات کوشاں رہتے ہیں

مقبول ترین
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت ترین وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو انہیں فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ کا دعویٰ تھا کہ ایرانی بحریہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وفد کی ایرانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات اچھی رہی اور بیشتر نکات پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، مگر سب سے اہم یعنی جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔
پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ امریکہ اور ایران مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں، جس سے ایران امریکہ جنگ روکنے اور عالمی امن کے قیام کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں ممالک کے وفود کے درمیان 21 گھنٹوں تک طویل اور اعصاب شکن مذاکرات جاری رہے، تاہم اہم شرائط پر عدم اتفاق کے باعث کوئی ڈیل طے نہ پا سکی، جس کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن واپس روانہ ہو گئے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اس دستے میں لڑاکا اور معاون طیارے شامل ہیں، جن کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف جنگی تیاریوں کی سطح کو بلند کرنا ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں