Thursday, 26 November, 2020
’’موت سے ایک لمحہ پہلے‘‘

’’موت سے ایک لمحہ پہلے‘‘
جاوید ملک / شب وروز

 

کوئی اگر آپ کوایک ایسے شخص کی کہانی سنائے جس کی زندگی کی گھڑیاں گنی جا چکی ہیں اسے موت کا فرشتہ سامنے دکھائی دے رہا ہے اور اس لمحہ بھی وہ کسی کی جیب کاٹنے کسی کو دا لگانے کسی کو ٹھگنے اور دھوکہ دہی سے کچھ مال بٹورنے کے چکر میں ہے تو کیا آپ یقین کریں گے؟

یقیناً نہیں آپ کہیں گے کہ اگر کسی کو بھی موت کے وقت کا پہلے علم ہو جائے وہ ایک لمحہ ہو ایک دن ایک مہینہ یا ایک سال وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رب کو راضی کرنے میں لگ جائے گا ہر روٹھے کو منائے گا ہر اس شخص کے پاؤں پڑ جائے گا جس کی اس نے دل آزاری کی یا اس کا حق مارا وہ مال و متاع کی ہوس سے آزاد ہو جائے گا اور یقیناً آپ درست کہہ رہے ہیں یہ ہی عقل فہم اور منطق کے مطابق ہے لیکن میں نے ایک دو نہیں سو ہزار نہیں لاکھوں لوگ ایسے دیکھے ہیں جو موت سے ایک لمحہ پہلے بھی غلاظت اکھٹی کر رہے ہیں سوداگری میں لگے ہیں۔

اس سال سورج کی پہلی کرن ہی شاید تباہی و بربادی کی داستان لکھنے آئی تھی ایک وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہماری ترقی، سائنس دعوے سب اس کے سامنے زمین بوس ہوگئے ہماری تو اوقات ہی کیا تھی ترقی یافتہ ممالک اپنی جدید میڈیکل کی سہولیات سمیت اس وائرس کے سامنے ناک رگڑنے لگے پوری دنیا کی معاشیات درہم برہم ہوگئی لوگ گھروں میں محصور ہوگئے اور گلیوں میں خوف ناچنے لگا۔

اس کو چھوڑیں کہ ہماری حکومت سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں یہ بحث بھی اب بے کار ہے کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں اور اگر ہو تو وہ کس قسم کا ہو سوال یہ ہے کہ موت نے اپنی با نہیں کھول لی ہیں وائرس سے متاثرین کی تعداد اب ایف سولہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے مرنے والوں کی تعداد کا بھی روز نیا ریکارڈ بنتا ہے ہماری معلومات حفاظتی انتظامات سب مفروضوں پر مبنی ہے کسی کو وثوق سے کچھ نہیں پتہ،طبیب حیران، مریض پریشان ہیں روز نئی کہانی نئی تھیوری نئی حقیقتیں ان کا منہ چڑھاتی ہیں ہمیں نہیں معلوم یہ وائرس ہاتھ ملانے،گلے ملنے، جھوٹا کھانے، متاثرہ شخص کے استعمال شدہ برتن یا کسی دوسری چیز کو چھونے سے منتقل ہوتا ہے اس کی ساری علامتیں بھی مفروضوں پر مبنی ہیں ہر مریض میں اسکا مختلف ردعمل دیکھا گیا ہے بہت احتیاط کرنے والے، باہمی فاصلوں کا خیال رکھنے والے، بار بار ہاتھوں کو دھونے والے، ماسک پہننے، ہاتھوں پر دستانے چڑھانے والے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں اور حیران ہیں کہ ایسا کیوں؟ اور کیسے ہوا بعض ایسے لوگوں کی رپورٹیں بھی مثبت آئیں ہیں جنہیں بہ ظاہر کوئی علامت نہیں اور بعض ایسی اموات بھی سامنے آئیں ہیں جن کا آخری لمحے تک نتیجہ منفی تھا گویا موت ہمارے سروں پر ناچ رہی ہے اور ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔

لیکن اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اس ماحول میں ہم کر کیا رہے ہیں وائرس کی خبر آتے ہی میڈیکل سٹوروں سے ماسک دستانے اور دیگر حفاظتی سامان غائب ہوگیا ہر چیز بلیک میں تین چار گنا مہنگی مل رہی تھی پھر معیار گرنا شروع ہوگیا ماسک کے نام پر تماشہ بکنے لگا ڈیٹول مارکیٹ سے نایاب ہوگیا عجیب و غریب سینی ٹائزرز جو پہلے کوئی مفت لینے کو بھی تیار نہیں تھا ہزاروں روپے میں بکنے لگے کسی نے شوشہ چھوڑ دیا کہ اس کا علاج سنا مکی میں ہے تو معمولی قیمت کی یہ جڑی بوٹی سونے کے بھاؤ بکنے لگی ہر چیز کی قیمت کو پر لگ گئے پرائیوٹ ہسپتالوں نے ایک دن کے لاکھوں روپے وصول کرنے شروع کر دئیے وینٹی لیٹرز کے چارجز گھنٹوں کے حساب سے طے ہونے لگے پرائیویٹ لیبارٹریوں نے منہ مانگے داموں ٹیسٹ شروع کر دئیے جس دوا انجیکشن کی افواہ اڑتی کہ وہ اس بیماری میں مفید ہے اس کی قیمت آسمانوں کو چھونے لگتی ہے اس کو تو چھوڑیں جو لوگ موت کے منہ سے واپس آئے اور اس مہلک مرض سے شفا یاب ہوئے وہ اب اپنے خون کا پلازمہ لاکھوں میں بیچ رہے ہیں ایک لوٹ مار کی منڈی لگی ہے اور ہر شخص جلدی میں ہے کہ کچھ نہ کچھ سمیٹ لے۔

افسر شاہی کلرک مافیا آج بھی دفتر مال بنانے جاتے ہیں ناکوں پہ کھڑے پولیس اہلکار بھی دیہاڑیاں لگا رہے ہیں پٹوار خانوں، تھانوں کچہریوں میں دھندا عروج پر ہے بلکہ کورونا کے سبب ریٹ بڑھ گئے ہیں مافیاز نے بھی اپنے دانت تیز کر لیئے ہیں چینی آٹا پٹرول ہر سطح پر بحران پیدا کر کے کورونا کے فائدے سمیٹے جا رہے ہیں کوئی نہیں جانتا کب یہ موذی مریض اسے آ دبوچے وہ جو رشوت کے نوٹ وصول کر رہا ہے اس کے ساتھ ہی وائرس بھی اسے چمٹ جائے لیکن موت سے ایک لمحہ پہلے بھی جھوٹ منافقت لوٹ مار دھوکہ دہی اقربا پروری اور رشوت کا بازار گرم ہے موت سے ایک لمحہ پہلے بھی دل میں خوف ہے، آنکھ میں ندامت کے آنسو ہیں، نہ لب پہ معافی کی التجا ہے سارا دھیان لوٹ مار کرنے دوسروں کی جیبوں کا صفایا کرنے اور اپنی تجوریاں بھرنے پر مرکوز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  31205
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
موت کے بعد دنیا اُس کی عظمت کو سلام کر رہی ہے لیکن اُس کی عظمت کا یہ سفر کرب کا سفر تھا۔ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک مالٹا کی خاتون صحافی ڈیفنی کاروانہ گالیزیا کے وجود کو ایک بم دھماکے میں بکھیر دیا گیا۔ بم دھماکے کی آواز سن کر ڈیفنی کا بیٹا میتھیو بھاگتا ہوا
عربی کی کہاوت ہے ’’انسان جب بدقسمتی کے دور میں آتا ہے تو وہ خواہ اونٹ پر بھی بیٹھا ہو اسے کتا کاٹ جاتا ہے‘‘ میاں نواز شریف کی حکومت بھی اس وقت بدقسمتی کے اسی عمل سے گزر رہی ہے‘ یہ لوگ روز غلط فہمیوں‘ مسائل اور
دنیا میں رقبہ کے لحاظ سے 109 جبکہ آبادی کے اعتبار سے پچاس ممالک سے بڑی ریاست جموں وکشمیر انہتر سال سے طاقتور قوتوں کے نرغے میں ہے۔اس دوران ریاست کے تشخص کو مسخ کرنے کےلئے کئی اطراف سے حملے کئے گئے۔
طیب اردگان 1954ء میں استنبول کی نواحی بستی ’’قاسم پاشا‘‘ میں پیدا ہوئے، خاندان غریب تھا، والد کوسٹ گارڈ تھے، یہ تین بھائی اور ایک بہن ہیں، بچپن حضرت ایوب انصاریؓ کے مزار کے گرد گزرا، 13سال کی عمر میں کام شروع کر دیا

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی قضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وہ چند دنوں‌سے شدید علیل تھے۔ مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل
ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے خبردار کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت نے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پر محاز کھول دیا ہے، 7 اور 8 نومبر کو مبینہ طور پر بھارتی فوج کی ضلع کپواڑہ میں حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جھڑپ حریت پسندوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں