Saturday, 04 July, 2020
’’موت سے ایک لمحہ پہلے‘‘

’’موت سے ایک لمحہ پہلے‘‘
جاوید ملک / شب وروز

 

کوئی اگر آپ کوایک ایسے شخص کی کہانی سنائے جس کی زندگی کی گھڑیاں گنی جا چکی ہیں اسے موت کا فرشتہ سامنے دکھائی دے رہا ہے اور اس لمحہ بھی وہ کسی کی جیب کاٹنے کسی کو دا لگانے کسی کو ٹھگنے اور دھوکہ دہی سے کچھ مال بٹورنے کے چکر میں ہے تو کیا آپ یقین کریں گے؟

یقیناً نہیں آپ کہیں گے کہ اگر کسی کو بھی موت کے وقت کا پہلے علم ہو جائے وہ ایک لمحہ ہو ایک دن ایک مہینہ یا ایک سال وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رب کو راضی کرنے میں لگ جائے گا ہر روٹھے کو منائے گا ہر اس شخص کے پاؤں پڑ جائے گا جس کی اس نے دل آزاری کی یا اس کا حق مارا وہ مال و متاع کی ہوس سے آزاد ہو جائے گا اور یقیناً آپ درست کہہ رہے ہیں یہ ہی عقل فہم اور منطق کے مطابق ہے لیکن میں نے ایک دو نہیں سو ہزار نہیں لاکھوں لوگ ایسے دیکھے ہیں جو موت سے ایک لمحہ پہلے بھی غلاظت اکھٹی کر رہے ہیں سوداگری میں لگے ہیں۔

اس سال سورج کی پہلی کرن ہی شاید تباہی و بربادی کی داستان لکھنے آئی تھی ایک وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہماری ترقی، سائنس دعوے سب اس کے سامنے زمین بوس ہوگئے ہماری تو اوقات ہی کیا تھی ترقی یافتہ ممالک اپنی جدید میڈیکل کی سہولیات سمیت اس وائرس کے سامنے ناک رگڑنے لگے پوری دنیا کی معاشیات درہم برہم ہوگئی لوگ گھروں میں محصور ہوگئے اور گلیوں میں خوف ناچنے لگا۔

اس کو چھوڑیں کہ ہماری حکومت سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں یہ بحث بھی اب بے کار ہے کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں اور اگر ہو تو وہ کس قسم کا ہو سوال یہ ہے کہ موت نے اپنی با نہیں کھول لی ہیں وائرس سے متاثرین کی تعداد اب ایف سولہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے مرنے والوں کی تعداد کا بھی روز نیا ریکارڈ بنتا ہے ہماری معلومات حفاظتی انتظامات سب مفروضوں پر مبنی ہے کسی کو وثوق سے کچھ نہیں پتہ،طبیب حیران، مریض پریشان ہیں روز نئی کہانی نئی تھیوری نئی حقیقتیں ان کا منہ چڑھاتی ہیں ہمیں نہیں معلوم یہ وائرس ہاتھ ملانے،گلے ملنے، جھوٹا کھانے، متاثرہ شخص کے استعمال شدہ برتن یا کسی دوسری چیز کو چھونے سے منتقل ہوتا ہے اس کی ساری علامتیں بھی مفروضوں پر مبنی ہیں ہر مریض میں اسکا مختلف ردعمل دیکھا گیا ہے بہت احتیاط کرنے والے، باہمی فاصلوں کا خیال رکھنے والے، بار بار ہاتھوں کو دھونے والے، ماسک پہننے، ہاتھوں پر دستانے چڑھانے والے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں اور حیران ہیں کہ ایسا کیوں؟ اور کیسے ہوا بعض ایسے لوگوں کی رپورٹیں بھی مثبت آئیں ہیں جنہیں بہ ظاہر کوئی علامت نہیں اور بعض ایسی اموات بھی سامنے آئیں ہیں جن کا آخری لمحے تک نتیجہ منفی تھا گویا موت ہمارے سروں پر ناچ رہی ہے اور ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔

لیکن اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اس ماحول میں ہم کر کیا رہے ہیں وائرس کی خبر آتے ہی میڈیکل سٹوروں سے ماسک دستانے اور دیگر حفاظتی سامان غائب ہوگیا ہر چیز بلیک میں تین چار گنا مہنگی مل رہی تھی پھر معیار گرنا شروع ہوگیا ماسک کے نام پر تماشہ بکنے لگا ڈیٹول مارکیٹ سے نایاب ہوگیا عجیب و غریب سینی ٹائزرز جو پہلے کوئی مفت لینے کو بھی تیار نہیں تھا ہزاروں روپے میں بکنے لگے کسی نے شوشہ چھوڑ دیا کہ اس کا علاج سنا مکی میں ہے تو معمولی قیمت کی یہ جڑی بوٹی سونے کے بھاؤ بکنے لگی ہر چیز کی قیمت کو پر لگ گئے پرائیوٹ ہسپتالوں نے ایک دن کے لاکھوں روپے وصول کرنے شروع کر دئیے وینٹی لیٹرز کے چارجز گھنٹوں کے حساب سے طے ہونے لگے پرائیویٹ لیبارٹریوں نے منہ مانگے داموں ٹیسٹ شروع کر دئیے جس دوا انجیکشن کی افواہ اڑتی کہ وہ اس بیماری میں مفید ہے اس کی قیمت آسمانوں کو چھونے لگتی ہے اس کو تو چھوڑیں جو لوگ موت کے منہ سے واپس آئے اور اس مہلک مرض سے شفا یاب ہوئے وہ اب اپنے خون کا پلازمہ لاکھوں میں بیچ رہے ہیں ایک لوٹ مار کی منڈی لگی ہے اور ہر شخص جلدی میں ہے کہ کچھ نہ کچھ سمیٹ لے۔

افسر شاہی کلرک مافیا آج بھی دفتر مال بنانے جاتے ہیں ناکوں پہ کھڑے پولیس اہلکار بھی دیہاڑیاں لگا رہے ہیں پٹوار خانوں، تھانوں کچہریوں میں دھندا عروج پر ہے بلکہ کورونا کے سبب ریٹ بڑھ گئے ہیں مافیاز نے بھی اپنے دانت تیز کر لیئے ہیں چینی آٹا پٹرول ہر سطح پر بحران پیدا کر کے کورونا کے فائدے سمیٹے جا رہے ہیں کوئی نہیں جانتا کب یہ موذی مریض اسے آ دبوچے وہ جو رشوت کے نوٹ وصول کر رہا ہے اس کے ساتھ ہی وائرس بھی اسے چمٹ جائے لیکن موت سے ایک لمحہ پہلے بھی جھوٹ منافقت لوٹ مار دھوکہ دہی اقربا پروری اور رشوت کا بازار گرم ہے موت سے ایک لمحہ پہلے بھی دل میں خوف ہے، آنکھ میں ندامت کے آنسو ہیں، نہ لب پہ معافی کی التجا ہے سارا دھیان لوٹ مار کرنے دوسروں کی جیبوں کا صفایا کرنے اور اپنی تجوریاں بھرنے پر مرکوز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  37076
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
موت کے بعد دنیا اُس کی عظمت کو سلام کر رہی ہے لیکن اُس کی عظمت کا یہ سفر کرب کا سفر تھا۔ یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک مالٹا کی خاتون صحافی ڈیفنی کاروانہ گالیزیا کے وجود کو ایک بم دھماکے میں بکھیر دیا گیا۔ بم دھماکے کی آواز سن کر ڈیفنی کا بیٹا میتھیو بھاگتا ہوا
عربی کی کہاوت ہے ’’انسان جب بدقسمتی کے دور میں آتا ہے تو وہ خواہ اونٹ پر بھی بیٹھا ہو اسے کتا کاٹ جاتا ہے‘‘ میاں نواز شریف کی حکومت بھی اس وقت بدقسمتی کے اسی عمل سے گزر رہی ہے‘ یہ لوگ روز غلط فہمیوں‘ مسائل اور
دنیا میں رقبہ کے لحاظ سے 109 جبکہ آبادی کے اعتبار سے پچاس ممالک سے بڑی ریاست جموں وکشمیر انہتر سال سے طاقتور قوتوں کے نرغے میں ہے۔اس دوران ریاست کے تشخص کو مسخ کرنے کےلئے کئی اطراف سے حملے کئے گئے۔
طیب اردگان 1954ء میں استنبول کی نواحی بستی ’’قاسم پاشا‘‘ میں پیدا ہوئے، خاندان غریب تھا، والد کوسٹ گارڈ تھے، یہ تین بھائی اور ایک بہن ہیں، بچپن حضرت ایوب انصاریؓ کے مزار کے گرد گزرا، 13سال کی عمر میں کام شروع کر دیا

مزید خبریں
سید منور حسن مسلم امہ کا اثاثہ و سرمایہ تھے۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء پر نہیں ہو سکے گا۔
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔

مقبول ترین
پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ نے ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو میں بین الاقوامی فورمز پر باہمی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے خطے
ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل مل ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو برطرف کر دیا ہے۔ ارشد ملک کا اسکینڈل سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ مائنس عمران خان کا مطالبہ غیر جمہوری مطالبہ نہیں۔ حکومت ہٹانے کے لیے کبھی بھی غیر آئینی طریقے کی حمایت نہیں کریں گے۔
تائیوان حکومت کا عجیب و غریب اقدام ،کورونا وائرس میں سفر کے لیے ترسنے والوں کے لیے تائیوان میں ’’جعلی پروازوں‘‘ کا سلسلہ شروع کردیا۔ ابتدائی مرحلے میں اس سفر کے لیے 7 ہزار افراد نے رجوع کیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں