Sunday, 24 October, 2021
’’موت سے ایک لمحہ پہلے‘‘

’’موت سے ایک لمحہ پہلے‘‘
جاوید ملک / شب وروز

 

کوئی اگر آپ کوایک ایسے شخص کی کہانی سنائے جس کی زندگی کی گھڑیاں گنی جا چکی ہیں اسے موت کا فرشتہ سامنے دکھائی دے رہا ہے اور اس لمحہ بھی وہ کسی کی جیب کاٹنے کسی کو دا لگانے کسی کو ٹھگنے اور دھوکہ دہی سے کچھ مال بٹورنے کے چکر میں ہے تو کیا آپ یقین کریں گے؟

یقیناً نہیں آپ کہیں گے کہ اگر کسی کو بھی موت کے وقت کا پہلے علم ہو جائے وہ ایک لمحہ ہو ایک دن ایک مہینہ یا ایک سال وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رب کو راضی کرنے میں لگ جائے گا ہر روٹھے کو منائے گا ہر اس شخص کے پاؤں پڑ جائے گا جس کی اس نے دل آزاری کی یا اس کا حق مارا وہ مال و متاع کی ہوس سے آزاد ہو جائے گا اور یقیناً آپ درست کہہ رہے ہیں یہ ہی عقل فہم اور منطق کے مطابق ہے لیکن میں نے ایک دو نہیں سو ہزار نہیں لاکھوں لوگ ایسے دیکھے ہیں جو موت سے ایک لمحہ پہلے بھی غلاظت اکھٹی کر رہے ہیں سوداگری میں لگے ہیں۔

اس سال سورج کی پہلی کرن ہی شاید تباہی و بربادی کی داستان لکھنے آئی تھی ایک وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہماری ترقی، سائنس دعوے سب اس کے سامنے زمین بوس ہوگئے ہماری تو اوقات ہی کیا تھی ترقی یافتہ ممالک اپنی جدید میڈیکل کی سہولیات سمیت اس وائرس کے سامنے ناک رگڑنے لگے پوری دنیا کی معاشیات درہم برہم ہوگئی لوگ گھروں میں محصور ہوگئے اور گلیوں میں خوف ناچنے لگا۔

اس کو چھوڑیں کہ ہماری حکومت سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں یہ بحث بھی اب بے کار ہے کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں اور اگر ہو تو وہ کس قسم کا ہو سوال یہ ہے کہ موت نے اپنی با نہیں کھول لی ہیں وائرس سے متاثرین کی تعداد اب ایف سولہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے مرنے والوں کی تعداد کا بھی روز نیا ریکارڈ بنتا ہے ہماری معلومات حفاظتی انتظامات سب مفروضوں پر مبنی ہے کسی کو وثوق سے کچھ نہیں پتہ،طبیب حیران، مریض پریشان ہیں روز نئی کہانی نئی تھیوری نئی حقیقتیں ان کا منہ چڑھاتی ہیں ہمیں نہیں معلوم یہ وائرس ہاتھ ملانے،گلے ملنے، جھوٹا کھانے، متاثرہ شخص کے استعمال شدہ برتن یا کسی دوسری چیز کو چھونے سے منتقل ہوتا ہے اس کی ساری علامتیں بھی مفروضوں پر مبنی ہیں ہر مریض میں اسکا مختلف ردعمل دیکھا گیا ہے بہت احتیاط کرنے والے، باہمی فاصلوں کا خیال رکھنے والے، بار بار ہاتھوں کو دھونے والے، ماسک پہننے، ہاتھوں پر دستانے چڑھانے والے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں اور حیران ہیں کہ ایسا کیوں؟ اور کیسے ہوا بعض ایسے لوگوں کی رپورٹیں بھی مثبت آئیں ہیں جنہیں بہ ظاہر کوئی علامت نہیں اور بعض ایسی اموات بھی سامنے آئیں ہیں جن کا آخری لمحے تک نتیجہ منفی تھا گویا موت ہمارے سروں پر ناچ رہی ہے اور ہم اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔

لیکن اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں اس ماحول میں ہم کر کیا رہے ہیں وائرس کی خبر آتے ہی میڈیکل سٹوروں سے ماسک دستانے اور دیگر حفاظتی سامان غائب ہوگیا ہر چیز بلیک میں تین چار گنا مہنگی مل رہی تھی پھر معیار گرنا شروع ہوگیا ماسک کے نام پر تماشہ بکنے لگا ڈیٹول مارکیٹ سے نایاب ہوگیا عجیب و غریب سینی ٹائزرز جو پہلے کوئی مفت لینے کو بھی تیار نہیں تھا ہزاروں روپے میں بکنے لگے کسی نے شوشہ چھوڑ دیا کہ اس کا علاج سنا مکی میں ہے تو معمولی قیمت کی یہ جڑی بوٹی سونے کے بھاؤ بکنے لگی ہر چیز کی قیمت کو پر لگ گئے پرائیوٹ ہسپتالوں نے ایک دن کے لاکھوں روپے وصول کرنے شروع کر دئیے وینٹی لیٹرز کے چارجز گھنٹوں کے حساب سے طے ہونے لگے پرائیویٹ لیبارٹریوں نے منہ مانگے داموں ٹیسٹ شروع کر دئیے جس دوا انجیکشن کی افواہ اڑتی کہ وہ اس بیماری میں مفید ہے اس کی قیمت آسمانوں کو چھونے لگتی ہے اس کو تو چھوڑیں جو لوگ موت کے منہ سے واپس آئے اور اس مہلک مرض سے شفا یاب ہوئے وہ اب اپنے خون کا پلازمہ لاکھوں میں بیچ رہے ہیں ایک لوٹ مار کی منڈی لگی ہے اور ہر شخص جلدی میں ہے کہ کچھ نہ کچھ سمیٹ لے۔

افسر شاہی کلرک مافیا آج بھی دفتر مال بنانے جاتے ہیں ناکوں پہ کھڑے پولیس اہلکار بھی دیہاڑیاں لگا رہے ہیں پٹوار خانوں، تھانوں کچہریوں میں دھندا عروج پر ہے بلکہ کورونا کے سبب ریٹ بڑھ گئے ہیں مافیاز نے بھی اپنے دانت تیز کر لیئے ہیں چینی آٹا پٹرول ہر سطح پر بحران پیدا کر کے کورونا کے فائدے سمیٹے جا رہے ہیں کوئی نہیں جانتا کب یہ موذی مریض اسے آ دبوچے وہ جو رشوت کے نوٹ وصول کر رہا ہے اس کے ساتھ ہی وائرس بھی اسے چمٹ جائے لیکن موت سے ایک لمحہ پہلے بھی جھوٹ منافقت لوٹ مار دھوکہ دہی اقربا پروری اور رشوت کا بازار گرم ہے موت سے ایک لمحہ پہلے بھی دل میں خوف ہے، آنکھ میں ندامت کے آنسو ہیں، نہ لب پہ معافی کی التجا ہے سارا دھیان لوٹ مار کرنے دوسروں کی جیبوں کا صفایا کرنے اور اپنی تجوریاں بھرنے پر مرکوز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  18809
کوڈ
 
   
مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں