Monday, 27 September, 2021
سوشل میڈیا ایک نیا میدان

سوشل میڈیا ایک نیا میدان
جاوید ملک / شب وروز

 

میں یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ ہم قدامت پسند زیادہ ہیں یا سست المزاج لیکن یہ طے ہے کہ جدت کو اپنانے میں جس قدر غفلت ہم کرتے ہیں شاید ہی دنیا میں اس کی کوئی نظیر مل پائے جب پانی سر سے چڑھ جاتا ہے تو مجبوراً ہمیں ترکی کی ٹرین سے لٹکنا پڑتا ہے ورنہ جس وقت تک حیلے بہانوں کا آسرا موجود ہو ہم اُن کے پیچھے پناہ لیتے رہتے ہیں میں نے جب صحافت میں قدم رکھا تو جدت ٹیڑھی میڑھی ہو کر اخباری دفاتر میں گھس چکی تھی کمپیوٹر آسانیاں پیدا کر رہا تھا اور اخبارات کے تین لازمی شعبے خطاطی،تصاویر لائبریری اور کاپی پیسٹنگ دم توڑ رہے تھے کمپیوٹر کا خیال کسی نئی نویلی دلہن کی طرح رکھا جاتاہلکی سی گرد بھی پڑجاتی تو ٹیکنکل اسٹاف کہرام بپا کر دیتا تھا ان دنوں ایک اخباری مالک اخبار کی تاخیر سے اشاعت پر ملازمین پر برہم ہو رہا تھا کہ کاپی تاخیر سے تیار ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کمپیوٹر شعبہ کے انچارج نے بتایا کہ سر کئی دن سے سرور مسئلہ کر رہا ہے جس کی وجہ سے تاخیر ہوتی ہے۔

مالک سخت برہم ہوا اور گالی دے کر کہا اس سرور کو فوراً ملازمت سے برخواست کر دو مجھے اپنے ادارے میں مسائل پیدا کرنے والے ملازمین نہیں برداشت کمپیوٹر کے آ جانے کے بعد بھی طویل عرصہ تک مسائل برقرار رہے صفحہ جوڑنے کا عمل مشکل اور پیچیدہ ہی رہا سب ایڈیٹرز کاپی پیسٹر کے ہمراہ لکڑی کے تختہ(پیسٹنگ ٹیبل)کے پاس کھڑے رہتے خبر کی ایک ایک سرخی کو قینچی سے تراشا جاتا متن علیحدہ سے کاٹ کر جوڑا جاتا یہ ایک کھٹن اور طویل عمل تو تھا ہی مگر اس میں غلطی رہ جانے کے امکانات بھی بہت زیادہ تھے آج یہ سارا عمل بہت سہل ہے صفحہ کمپیوٹر میں جڑ جاتا ہے اور پورے صفحے کا پرنٹ لے لیا جاتا ہے صرف رنگین اخبار کے رنگ جوڑنے کیلئے کاپی پیسٹر کو معمولی محنت کرنی پڑتی ہے لیکن یہ محنت اس دور میں ایک صفحہ جوڑنے کی محنت کا ایک فیصد بھی نہیں ہے ٹیکنالوجی آسانیاں لائی ہے۔

کمپیوٹر عام ہونے اور اردو کے بہتر پروگراموں کے رائج پانے کے بعد ایک دور میں اخبارات و جرائد کا ریکارڈ اجراء ہوا دور دراز شہروں اور دیہاتوں سے بھی اخبارات گھاس پھونس کی طرح اگتے چلے گئے اس بہتات نے معیار کو تو متاثر کیا لیکن روزگار کے نئے مواقع ضرور پیدا کئے اس تیز رفتار ٹریفک کے آگے الیکڑانک میڈیا اسپیڈ بریکر ثابت ہوا اور صحافت کی لگام ایک بار پھر عام آدمی اور کارکنان کے ہاتھ سے نکل گئی سیھٹوں کا دوبارہ راج قائم ہوا میڈیا ہاؤسز کی اصطلاح سامنے آئی ٹی وی چینل چونکہ پیسوں کا کھیل تھا اس لئیے اجارہ داریاں مضبوط ہوئیں لیکن یہ سب ایک دہائی بھی برقرار نہ رہ سکا اور اب سوشل میڈیا نے نئی راہیں کھول دی ہیں میر شکیل الرحمان سمیت میرے بہت سے دوست ڈیجیٹل میڈیا کو گٹر سے اس لیئے تشبہیہ دیتے ہیں کہ اس میڈیم نے ایک بار پھر صحافت کو کارکنان کی جھولی میں ڈال دیا ہے اور اس کو ہضم کرنا سرمایہ دار کیلئے انتہائی مشکل ہے۔

گزشتہ روز تھنکر جرنلسٹ فورم کے منتظمین ڈاکٹر سعدیہ کمال اور امجد قریشی نے ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت اور صحافیوں کیلئے مواقع کے عنوان سے نیشنل پریس کلب میں ایک نشست کا اہتمام کیا تھا جس کی خاص بات نوجوان صحافی صدیق جان کی شرکت تھی جنہوں نے مختصر مدت میں ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارم پر اپنا لوہا منوایا ان کی کامیابی تمام صحافیوں اور بالخصوص رپورٹرز کیلئے ایک قابل تقلید مثال ہے پروگرام میں سینیئر صحافی فاروق اقدس نے بھی شرکت کی فاروق اقدس تین دہائیوں سے پرنٹ میڈیا پر راج کر رہےہیں اردو صحافت میں ان کا اپنا ایک مقام ہے میں اپنے دور طالب علمی سے ان کو پڑھ رہا ہوں اور ان کا معتقد ہوں اگر وہ اپنے کام کا معمولی حصہ بھی ڈیجیٹل میڈیا کی نظر کر دیں تو ایک قد آور بلاگر کے طور پر سامنے آئیں گے ان کی جیل کہانی تاریخ کیلئے قیمتی اثاثہ ہے صدیق جان اپنے اچھے برے تجربات سے آگاہ کر رہے تھے ان کے ٹیکنیکل شعبہ کے ممبر تصدق نے بھی صحافیوں کو سوشل میڈیا کے اسرار و رموز سے آگاہ کیا پروگرام کے اختتام پر صحافی دوست وحید ڈوگر کے ہمراہ صدیق جان سے مختصر نشست رہی تشنگی برقرار ہے مجھ سمیت تمام صحافیوں کو ان کے تجربات سے مستفید ہونا چاہیے اور ڈیجیٹل میڈیا کے میدان میں طبع آزمائی ضرور کرنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  43474
کوڈ
 
   
مقبول ترین
نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان بھی منسوخ ہوگیا۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بناکر اچانک دورہ پاکستان ختم کردیا گیا تھا اور اب آئندہ ماہ انگلینڈ کی میزبانی کی امیدوں پر بھی پانی پھر گیا۔
طالبان نے کابل فتح کرنے کے چار دن بعد افغانستان میں اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔ روسی نیوز چینل ’’آر ٹی‘‘ کی انگریزی ویب سائٹ کے مطابق افغانستان میں اسلامی حکومت یعنی امارتِ اسلامی قائم کرنے کا اعلان، افغان طالبان کے ترجمان
افغانستان کی حکومت نے طالبان کے سامنے سرنڈر کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈٰیا کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی اپنی ٹیم کے ہمراہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ خبریں ہیں کہ ملک چھوڑنے سے قبل صدر اشرف غنی نے امریکی
افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،19 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا، ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں