Thursday, 26 November, 2020
فرقہ واریت سے ہوشیار

فرقہ واریت سے ہوشیار
تحریر: سید ثاقب اکبر

 

یوں محسوس ہوتا ہے کہ کچھ افراد یا گروہ نئے سرے سے فرقہ واریت کو پھیلانے میں سرگرم ہوگئے ہیں یا فرقہ واریت کے سلیپر سیلز پھر سے متحرک کیے جارہے ہیں۔ اس کے لیے وہ تمام افراد جنھوں نے پاکستان میں فرقہ واریت کے خلاف سالہا سال جدوجہد کی ہے انھیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اپنی طاقتوں کو نئے سرے سے مجتمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فرقہ واریت کی نئی لہر کا مقابلہ کیا جاسکے۔

ہمیں یہ بات ملحوظ نظر رکھنا چاہیے کہ اس وقت اسلام دشمن قوتوں کو یہ ضرورت کیوں پیش آ ئی کہ وہ عالم اسلام میں نئے سرے سے فرقہ واریت کے الائو بھڑکائیں اور نئے سرے سے اس آگ کو روشن کریں۔

  اس وقت بھارت جس انداز سے پاکستان پر حملے کے لیے پَر تول رہا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے، بھارت کے اندر مسلمانوں کی حالت زار اور کشمیری مسلمانوں کے خلاف مسلسل کریک ڈائون بھی جاری ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ نے بھی اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ بھارت پاکستان میں اپنے سلیپر سیلز پھر سے متحرک کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ان سلیپر سیلز میں فرقہ پرست عناصر بھارتی مقاصد کے سب سے بڑے اور اہم آلہ کار ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو اس پاک سرزمین پر آپس میں لڑا کر دشمن کے مقاصد زیادہ پورے کر سکتے ہیں کیونکہ فرقہ واریت کی آگ شہر بہ شہر، محلہ بہ محلہ اور کوچہ بہ کوچہ پہنچائی جاسکتی ہے۔ ماضی میں ہم اس کے نہایت تلخ اور تکلیف دہ تجربوں سے گزر چکے ہیں۔

            دوسری طرف امریکی ایما پر صہیونی غاصب ریاست باقی ماندہ فلسطینی علاقوں کو ہڑپ کرنے کے لیے اپنے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔ صدی کی ڈیل(Deal of the Centurey) کے یک طرفہ منصوبے پر عمل کے لیے فلسطین کے بچے کھچے حصوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کے لیے قدم بہ قدم پیش رفت دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کے مسلمان اسرائیل کو ایک غاصب ریاست سمجھتے ہیں اور پہلے دن سے فلسطینیوں کے ساتھ ہیں اگر پاکستانی اور دیگر مسلمان فرقہ وارانہ مسائل میں الجھے ہوئے ہوں تو پھر فلسطینیوں کی حمایت میں کون آواز اٹھائے گا!

            ہم دیکھ رہے ہیں کہ لیبیا کو بھی مسلمانوں کی باہمی آویزش کا نیا مرکز بنایا جارہا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ مصر اور دیگر عرب ریاستیں ایک طرف جب کہ ترکی اور اس کے ساتھی دوسری طرف میدان جنگ میں ایک دوسرے پر آگ برسا رہے ہوں اور اسرائیل اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہو۔

            اس وقت جب کہ ضرورت ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے اپنی آواز بلند کریں، اپنے وسائل اکٹھے کریں اور مل کر مظلوموں کی نجات کے لیے جدوجہد کا آغاز کریں اگر وہ آپس میں الجھ پڑیں تو پھردشمن کے لیے اس سے بڑی خوشخبری اور کیا ہو سکتی ہے۔

            گذشتہ دنوں ایک مولوی صاحب نے پاکستان میں ایک افسوسناک تاریخی واقعے کی بنا پر جس انداز سے حضرت فاطمۃ الزہراؑ کے بارے میں   ہرزہ سرائی کی اس کا ردعمل پاکستان کے تمام مسالک کے علماء کی طرف سے سامنے آیا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ مذکورہ مولوی صاحب مناسب وضاحت کے بعد اپنے دیگر امور و مشاغل میں مصروف ہو جاتے، انھوں نے اب مسئلے کو مستقل فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے ملک بھر میں جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے لیے ان کے پاس ماضی کے واقعات کو نئے زہر آلود انداز میں پیش کرنے کا حربہ ہی موجود ہے۔ پہلے بھی ایسے ہی حربوں کے ذریعے مسلمانوں کو لڑایا جا چکا ہے اور مسلمان ریاستوں کو کمزور کیا جاچکا ہے۔ اس کی روک تھام حکومتی و ریاستی سطح پر بھی ضروری ہے اور علماء و عوام کی سطح پر بھی۔

            ہمیں یہ بات افسوس کے ساتھ کہنا پڑتی ہے کہ کچھ عرصے سے بعض علماء نما شیعہ بھی ایسی تقریریں کررہے ہیں اور ایسی ویڈیوز نشر کررہے ہیں جو معاشرے میں مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ بات اس لحاظ سے زیادہ افسوسناک ہے کہ قبل ازیں یہ کہا جاتا تھا کہ بعض ان پڑھ ذاکرین فرقہ ورانہ باتیں کرتے ہیں لیکن اگر یہی باتیں علماء کا لباس پہن کر بعض افراد شروع کردیں تو پھر مسئلہ نہایت خطرناک صورت اختیار کر جاتا ہے۔ ہم ایسے تمام افراد کو استعماری اور صہیونی طاقتوں کا شعوری یا لا شعوری آلہ کار سمجھتے ہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای ان افراد کے مکتب کو برطانوی تشیع قرار دیتے ہیں اور انھیں ایم آئی سکس کے ایجنٹ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

            ہر وہ بات اور کوشش جو مسلمانوں کو جوڑنے اور ملانے کے لیے کی جائے قابل قدر ہے اور ہر وہ بات اور کوشش جس کی بنیاد پر مسلمانوں میں تفرقہ اور فرقہ واریت پیدا ہوتی ہو،دشمنوں کے مفاد میں ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ملی یکجہتی کونسل اور دیگر تمام قوتوں کو نئے سرے سے سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے اور اس صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آگ زیادہ پھیل جائے اور ہمیں بعد میں ہوش آئے۔

            اس سلسلے میں ہم ایک مثال عرض کرنا چاہیں گے اور وہ یہ ہے کہ گذشتہ دنوں حضرت عمر ابن عبدالعزیز کی قبر کی بے حرمتی کی خبریں جاری ہوئیں، اس پر جس انداز سے بغیر سوچے سمجھے ردعمل سامنے آیا، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہم دشمن کی معمولی سی کسی سازش کا شکار ہو کر کس طرح باہم دست و گریباں ہو سکتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز تمام عدالت پسند مسلمانوں کے نزدیک محترم ہیں کیونکہ انھوں نے خود اپنے خاندان اور آباء کی بعض غلط روایتوں کا قلع قمع کیا اور معاشرے میں عدل و انصاف کی بنیادوں کو نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کی۔

            حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا احترام اہل سنت بھی کرتے ہیں اور اہل تشیع بھی لیکن یہ ظاہر کیا گیا کہ اہل تشیع نے ان کی قبر کی بے حرمتی کی ہے اور یہ الزام بعد میں غلط ثابت ہو گیا۔ اس دوران میں نفرت کی کتنی آگ تھی جو مسلمانوں کے مابین پھیل گئی تھی۔

             یہاں ہم ایک اور بات کہنا چاہتے ہیں کہ فرض کیا کہ اپنے آپ کو شیعہ کہلوانے والا کوئی ایک فرد یا گروہ کوئی غلط حرکت کرے یا اپنے آپ کو سنی کہلوانے والا کوئی فرد یا گروہ غلط حرکت کرے تو ہمیں تمام شیعوں یا سنیوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ جب کوئی چور چوری کرتا ہے تو ہم یہ نہیں کہتے  کہ یہ شیعہ چور یا سنی چور ہے تو پھر کسی بھی غلط حرکت کرنے والے کو شیعہ یا سنی قرار دے کر تمام اہل تشیع یا اہل تسنن کو نفرت کا نشانہ بنانا کہاں کی دانشمندی ہے۔ ہمیں اس بات کو اصول کے طور پر اختیار کر لینا چاہیے تاکہ آئندہ ہم کسی سازش کا شکار نہ ہوں۔ یہاں میں ملی یکجہتی کونسل کے احیا گر قاضی حسین احمد مرحوم کے اس شعار کو دہراتا ہوں کہ ہمیں درد مشترک اور قدر مشترک کی بنیاد پر ایک ہوجانا چاہیے۔میں یہاں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ہم ماضی کے واقعات کو تبدیل نہیں کر سکتے لیکن ہم دانش و حکمت سے کام لے کر اپنے مستقبل کو ضرور سنوار سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: مضمون نگار ’’مبصر ڈاٹ کام‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور البصیرہ کے سربراہ ہیں۔ مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  27193
کوڈ
 
   
متعلقہ کالم
اسلام ایک جامع و کامل دین ہے۔ جس نے زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق بشریت کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر اسلامی احکامات کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہو گا کہ اسلام نے اقتصاد اور معاش کو عبادی احکامات سے اگر زیادہ نہ کہیں تو کم اہمیت بھی نہیں دی۔ بدون شک اقتصاد انسانی زندگی کا بنیادی ترین رکن ہے۔
2018 میں سرکاری حج کی فیس دو لاکھ اسی ہزار روپے تھی جو افراد اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب تھے انہوں نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے جمع تفریق شروع کردی تھی۔
آخر کار انسانیت کی تذلیل کا نشانہ بننے والے بھارتی دلتوں نے ذلت کی گھٹیا ترین زندگی گزارنے کے بعد بڑا اعلان کر کے بھارت کی تاریخ میں بھونچال کھڑا کر کے رکھ دیا ہے بدقسمتی سے دلتوں کا شمار بھارت کے ان افراد میں ہوتا ہے جو کچرا اٹھانے والوں
16 دسمبر کی تاریخ گزر گئی۔ وہ تاریخ جس نے پاکستان کو دولخت کرکے اس کھیل کا کام تمام کیا جس میں پاکستان کی حکمران اشرافیہ شروع سے مصروف تھی۔ وہ ملک جو مشرقی بنگال کے لوگوں کے ووٹوں

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کے مزید پھیلاؤ کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے اضلاع کی سطح پر قرنطینہ مرکز بنانے کی ہدایت کردی ہے۔
وزارت قانون و انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی منظوری سےخالد جاوید خان کو انور منصور کی جگہ پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مائیکروسافٹ نے Imagine Cup 2020میں نیشنل یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ)، اسلام آباد کی ٹیمFlowlines کو نیشنل فائنل 2020کا فاتح قرار دیاہے۔نسٹ کی ٹیم نے ملک بھر کی 60 فائنلسٹ ٹیموں میں بہترین کارکردگی دکھائی۔

مقبول ترین
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی قضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وہ چند دنوں‌سے شدید علیل تھے۔ مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل
ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے خبردار کیا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں کراچی، لاہور اور پشاور میں بھارتی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا خطرہ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابر افتخار نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ مشترکہ
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارت نے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ایل او سی پر محاز کھول دیا ہے، 7 اور 8 نومبر کو مبینہ طور پر بھارتی فوج کی ضلع کپواڑہ میں حریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جھڑپ حریت پسندوں

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں