Wednesday, 03 June, 2020
لاشوں کا کاروبار، کمزور انجن ٹرین، گاڑی اور جہاز میرے یار

لاشوں کا کاروبار، کمزور انجن ٹرین، گاڑی اور جہاز میرے یار
تحریر: رضوان علی شاہ

میرے بچپن میں میرے والد صاحب بیرون ملک ملازمت کرتے تھے. اچھا کھاتے پیتے تھے لیکن وہ ایک کمی ہوتی ہے نا کہ کب ابو آئیں گے اور کب ان کو لینے ایئرپورٹ جائیں گے، وہ ہمیشہ رہتی تھی. اور جب ان کو لینے ائیر پورٹ جاتے تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا.

شاید کل بھی کوئی کسی کو لینے کراچی ائیر پورٹ آیا تھا. شاید میری طرح کے کسی 8، 9 سال کے بچے کی بھی خواہش تھی کہ وہ اپنے ابو کے ساتھ عید منائے. لیکن ہوا کیا. لاشہ دیکھنے تو نہیں آیا تھا وہ...! 
مسئلہ یہ نہیں کہ وہ بچہ اپنے باپ کے ساتھ عید منانا چاہتا تھا. مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کے نظام کے جو باپ پچھلے 72 سال سے اس ملک کے اداروں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ان کا لاشہ کیوں نہیں آتا؟؟؟ وہ کیوں کرپشن کا پیسہ ہڑپ کے امریکہ، انگلینڈ اور دبئی شفٹ ہو جاتے ہیں؟؟
لاہور سے کراچی جانے والا طیارہ متعدد افراد کو لے کر زمیں بوس ہو گیا،. پورا میڈیا پاگل ہو گیا کہ اتنی اموات ہوئیں، اتنے بچ گئے وغیرہ. سوال تو یہ ہے یہ رونے پیٹنے کے علاوہ کب تک یہ سلسلہ چلے گا. کب تک ہم ہر واقعے کے بعد روئیں گے اور آگے بڑھ جائیں گے؟؟ کیا ایسے واقعات ہماری زندگی میں صرف ایک دن ہی ہمارے احساسات کو ہلا سکتے ہیں. کیوں نہیں تمام ائیر لائنز، تمام ٹرینوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فٹنس ٹیسٹ کئے جاتے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا کہ یہ سب قابل استعمال اور قابل اعتبار ہیں بھی یا نہیں؟؟ یا ہم ایک بد تہزیب قوم کی طرح بین کر کے آگے بڑھ جائیں گے. مسئلہ یہاں آج کے دن ضائع ہونے والی ان انسانی جانوں کا نہیں ہے. مسئلہ یہاں حویلیاں طیارہ حادثہ، بھوجا ائیر لائن حادثہ، ائیر بلیو حادثہ، رحیم یار خان ٹرین حادثہ اور  لوکل ٹرانسپورٹ سمیت ان تمام ان فٹ انجنوں کا ہے جو شاید جھلسی ہوئی لاشوں کا کاروبار کرنے کے لئے ہم نے رکھ چھوڑے ہیں.
سی ای او پی آئی اے ارشد ملک صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے جہاز ماضی کے مقابلے میں زیادہ فٹ ہیں. تو حضور کس ماضی کی بات کر رہے ہیں؟؟ زرداری دور کی یا نواز شریف دور کی؟؟
آپ انٹرنیشنل معیار کو کیوں نہیں مقصد بناتے. اداروں کو منافع اگر لوگوں کی لاشوں پر کھیل کر کرنا ہے تو پھر معذرت کہ آپ اپنی نوکری بچا رہے ہیں، ادارے یا ملک نہیں.
میں نے بطور رپورٹر سی ای او پی آئی اے ارشد ملک صاحب کی ان کے چارج سنبھالنے کے اوائل کے دنوں میں پریس کانفرنس کور کر رکھی ہیں. یہ مجھے تب کافی معقول آدمی لگے. چونکہ ان کا ائیر فورس کا پس منظر بھی ہے تو میرے لئے اور زیادہ قابل عزت ہو گئے. لیکن اس سانحے کے بعد یہ لگتا ہے کہ ہمیں بلا وجہ لوگوں سے امیدیں لگانے کی عادت پڑ گئی ہے.
خطرہ تو اس سے بھی بڑا ہے. خطرہ تو یہ بھی ہے کہ اگر یہ ملک ایسے ہی خراب انجن پر چلتا رہا تو ایسے کب تک پرواز کرے گا. یاد رکھیے گا ہم سب اس طیارے کے مسافر ہیں لیکن اپنی جڑیں خود ہی کھوکھلی کر رہے ہیں.
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہو گا
اللہ پاک اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں مقام عطاء فرمائے. اللہ پاک تمام زخمیوں کو شفا عطاء فرمائے اور جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے. آمین
لیکن ہم نے بطور قوم اپنا رویہ نہ بدلا اور حکومتوں سے تمام طیارے، ٹرینوں اور لوکل ٹرانسپورٹ کے شفاف فٹنس ٹیسٹ کا مطالبہ پرزور انداز میں نہ کیا تو شاید خدانخواستہ ہم ایک بار پھر بیٹھ کر افسوس سے ہاتھ ملتے رہ جائیں.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  38074
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
یکم مئی' یومِ مزدور' وہ دن جسے مزدور کے علاوہ سب مناتے ہیں' اس بار شائد وہ رنگ نہ جما سکے کہ کورونا کے دربار میں سبھی ایک ہوئے ہیں مگر متاثر صرف مزدور۔ مزدور کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے تھے اب وقت کی بے رحم موجوں کے سہارے زندگی اور موت کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ خیر یہ قصہ پھر سہی ابھی فی الحال ایک طائرانہ نظر اس دن کی مناسبت سے۔
امریکہ کی انتہائی خطرناک صورتحال پر مولانا سخاوت سندرالوی کا خصوصی مضمون: نرسنگ ہومز میں جگہ نہیں ہے۔ گھروں میں رکھیں توشودر سا سلوک ہو رہا ہے۔ آج پیارے نہ زندہ کو دیکھ سکتے ہیں نہ مردہ کو ۔لاشوں کیلئے فیونرل ہومز میں فریزرز نہیں ہیں۔ قبرستانوں میں دفنانے کی جگہ نہیں مل رہی۔ مل بھی جائے چار سے پانچ دن کا ویٹنگ پیریڈ ہے ۔مریض کو شفا خانہ نہیں مل رہا ۔ بیمار کو دوا خانہ نہیں مل رہا۔
ایک محفل میں ایک حضرت نے میری ایک بات پر سوال کیا کہ "آپ کا مسلک کیا ہے؟" میں نے جواب دیا "کچھ نہیں"۔ کہنے لگے "پھر بھی"

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
آج یہ کہتے ہوئے دل کر رہا ہے کہ مسلسل ہنستی رہوں کہ سپر پاورامریکہ۔۔۔ جی ہاں! وہی امریکہ جس نے افغانستان کو کھنڈرات میں بدل دیا وہی امریکہ جس نے عراق پر ایک عرصہ جنگ مسلط کیے رکھی، کبھی بمباری کر کے تو کبھی داعش کی شکل میں کیڑے مکوڑوں کی فوج بنا کے، عراق پر اپنا تسلط برقرار رکھنا چاہا۔
علامہ محمداقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ہے کہ”ثبات ایک تغیرکو ہے زمانے میں“،گویا اس آسمان کی چھت کی نیچے کسی چیز کو قرارواستحکام نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ اس زمین کا جغرافیہ ایک ایک صدی میں کئی کئی مرتبہ کروٹیں بدلتارہا ہے۔سائنس کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ جغرافیے کی تبدیلی کا عمل بھی تیزتر ہوتاجارہاہے،چنانچہ گزشتہ ایک صدی نے تین بڑی بڑی سپر طاقتوں کے ڈوبنے کا مشاہدہ کیا،
صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث کئی روز سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ میڈیا کے مطابق صوبائی وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ مرحوم کچھ روز
نظریہ مہدویت ایسا موضوع ہے، جو صدیوں سے انسانوں کے درمیان زیر بحث رہا ہے۔ اس اعتقاد کے ساتھ انسان کا مستقبل روشن ہے، یہ عقیدہ کسی ایک قوم، کسی فرقے یا کسی مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ مہدویت ایک ایسی عالمگیر حکومت کا نام ہے کہ جس کی بنیاد تمام انسانوں کے مابین عدل و انصاف اور اخلاق و محبت پر ہوگی۔ مہدویت ایسی آواز ہے، جو کہ ہر روشن خیال انسان کے اندر فطری طور پر موجود ہے۔ ایسی امید ہے، جو زندگی کو تروتازہ اور غم و اندیشہ سے دور کرکے نور الٰہی کی طرف لے جاتی ہے۔

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں