Thursday, 03 December, 2020
آن لائن ایجوکیشن سسٹم

آن لائن ایجوکیشن سسٹم
تحریر: شمائلہ شاہین

آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریباً پوری دنیا میں رائج ہے ۔پاکستان میں بھی دو بڑی یونیورسٹیاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اورورچوئل یونیورسٹی اس وقت ہزاروں اسٹوڈنٹ کو آن لائن ایجوکیشن فراہم کر رہی ہیں۔ آن لائن ایجوکیشن سسٹم  کا بنیادی مقصد ان طلباء کوتعلیم کی فراہمی ہے جوطلباءجاب کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سےباقاعدہ یونیورسٹیزاورکالج نہ جاسکتے ہوں۔  
بدقسمتی سے بعض والدین یا عزیزواقارب لڑکیوں کا کالجز یا یونیورسٹیز جانا  نہ پسند کرتے ہیں، آن لائن ایجوکیشن سسٹم کا ایک بڑا مقصدان خواتین کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا اور شعور اجاگر کرنا ہے، یہ دونوں یونیورسٹیزطلبا کو ریکارڈ لیکچر فراہم کرتی ہیں ۔کورونا وباء کی وجہ سے ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیئےگئے جس کے بعد اب پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے آن لائن ایجوکیشن سسٹم متعارف کرواچکے ہیں، کرونا وبا کے بعد پاکستان میں میں پلے گروپ کو بھی آن لائن ایجوکیشن مہیا کی جا رہی ہے۔جبکہ طلباء کو آن لائن ایجوکیشن سسٹم  کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔ اینڈرائیڈ موبائل فون کا نہ ہونا، لیپ ٹاپ کا نہ  ہونا،انٹرنیٹ کے مسائل ،لوڈشڈنگ اور کمپیوٹر کا نہ ہونا جیسے مسائل کی وجہ سے اسٹوڈنٹس  کو آن لائن ایجوکیشن حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔سب سے مشکل کام آن لائن امتحان دینا ہے،آن لائن امتحانات کی وجہ سے بھی طلباء کافی پریشان دیکھائی دیتے ہیں،اسکی وجہ انٹرنیٹ  کے مسائل ،لوڈشیڈنگ   اور اینڈرائڈ فون کا نہ ہوناہے۔
ورچوئل  یونیورسٹی اور علامہ اقبال اوپن  یونیورسٹی  آن لائن ایجوکیشن تو فراہم کر رہی ہیں لیکن  طلبا کے مسائل کو سمجھتے ہوئےآن لائن  ایگزیمز نہیں لیتیں  اس کے لیے انھوں نے مختلف تعلیمی سینٹرز قائم کر رکھے ہیں ،کورونا وبا کی وجہ سے  پاکستان کے علاوہ بھی کئی ممالک ہیں جہاں لاک ڈاؤن لگایا گیا جس میں امریکہ ، بھارت اور چین وغیرہ شامل ہیں ان ممالک میں بھی  طلباء کو آن لائن ایجوکیشن دی جانے لگی،چین اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک  میں آن لائن ایجوکیشن سسٹم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ حکومت کا طالبعلموں کوسہولیات مہیا کرنا ہےوہاں بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے لیے رکھا جاتا ہے۔ بھارت جیسے ترقی پذیر ملک  نے تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے، طلباوطالبات میں اینڈرائڈ فون تقسیم کیے، بھارت بخوبی جانتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں تعلیم اہم کردار ادا کرتی ہے،اور طلبا کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل ہوتے ہیںاسکے برعکس پاکستان میں طالبعلموں نے طلباء کے مسائل کے لیےریلیاں اور جلسے جلوس بھی نکالے اس کےباوجودپاکستانی حکومت بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو ہی یقینی نہیں بناسکی اورنہ طلبا کے دوسرے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی دیکھائی، پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک  میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے آن لائن ایجوکیشن سسٹم تقریبًا ناکام ہوتا دیکھائی دیتاہے۔ حکومت کو  چاہئے کہ طلباء و طالبات کو تمام سہولیات مہیا کرے تاکہ یہ اپنی تعلیمی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کےجاری رکھ سکیں، طلبا کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اورملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: مبصر ڈاٹ کام ۔۔۔ کا کالم نگار، بلاگر یا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے کالم / مضمون یا اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر اور مختصر تعارف کے ساتھ info@mubassir.com پر ای میل کریں۔ ادارہ

اپنا تبصرہ دینے کے لیے نیچے فارم پر کریں
   
نام
ای میل
تبصرہ
  88209
کوڈ
 
   
متعلقہ خبریں
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔اور دوسری جانب ایچ ای سی نے طلبہ کے وقت کے ضیاع کو بچانے کےلیے آن لائن ایجوکیشن سسٹم کو متارف کروایا ہےمگر طلبہ نے اس آن لائن سسٹم پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کیاہے۔

مزید خبریں
کورونا وائرس پاکستان ہی نہیں ہی دنیا بھر میں اپنی پوری بدصورتی کے ساتھ متحرک ہے ، تشویشناک یہ ہےاس عالمی وباء کے نتیجے میں ہمارے ہاں اموات کا سلسلہ بھی شروع ہوچکا،
کی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل میں چائے پینے کے لیے رکا تو ایک مقامی صحافی دوست سے ملاقات ہوگئی جنہیں سب شاہ جی کہتے ہیں سلام دعا کے بعد شاہ جی سے پوچھا کہ ٹیکنالوجی کی وجہ سے پاکستان کتنا تبدیل ہوچکا ہے تو کہنے لگے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سےعدم برداشت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔
میرے پڑھنے والو،میں ایک عام سی،نا سمجھ ایک الہڑ سی لڑکی ہوا کرتی تھی، بات بات پہ رو دینا تو جیسے میری فطرت کا حصہ تھا، اور پھربات بے بات ہنسنا میری کمزوری، یہ لڑکی دنیا کے سامنے وہی کہتی اور وہی کرتی تھی جو یہاں کے لوگ سن اور سمجھ کر خوش ہوتے تھے
صبح سویرے اسکول جاتے وقت ہم عجیب مسابقت میں پڑے رہتے تھے پہلا مقابلہ یہ ہوتا تھا کہ کون سب سے تیز چلے گا دوسرا شوق سلام میں پہل کرنا۔ خصوصاً ساگری سے آنیوالے اساتذہ کو سلام کرنا ہم اپنے لیے ایک اعزاز تصور کرتے تھے۔

مقبول ترین
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات جانے کے لیے اسرائیلی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ غیر ملکی خبررساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاوس کے سینیئر ایڈوائزر جیراڈ کشنر اور سعودی حکام
وفاقی کابینہ نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی خریداری کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کورونا وائرس کی ویکسین کی خریداری کی منظوری دے دی گئی اور اس کام کے لیے 15 کروڑ ڈالر مختص
تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی قضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے ہیں۔ میڈیا کے مطابق وہ چند دنوں‌سے شدید علیل تھے۔ مولانا خادم حسین رضوی صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں قران پاک حفظ کیا ہوا تھا۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے جلسوں پر پابندی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا اور کہا ہے کہ جلسے اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے ہم حکومتی پابندی کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ بات اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل

پاکستان
 
آر ایس ایس
ہمارے پارٹنر
ضرور پڑھیں
ریڈرز سروس
شعر و ادب
مقامی خبریں
آڈیو
شہر شہر کی خبریں